صوفی و مُلّا کی غلامی

کراچی ، پشاور ، لاہور ، کوئٹہ ، استنبول  اور بغداد ۔
یوں تو دہشت گردی کا شکار ہونے والے یہ گنتی کے چند شہر ہیں جن کا حوالہ بطور مثال دیا جا سکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پورا عالمِ اسلام ایک آتش فشاں ہے جو وقفے وقفے سے پھٹتا اور لاوا اگلتا رہتا ہے ۔ لہو کی ندیاں بہتی رہتی ہیں ، موت بارود کی جھانجھریں پہن کر ناچتی رہتی ہے اور لاشیں گرتی رہتی ہیں ۔
آخر اس کا سبب کیا ہے ؟

اس کا سبب یہ ہے کہ اس عہد میں اُمت وہ بارِ امانت نہیں اُٹھا سکی جو اُسے سونپا گیا تھا ۔ اسلامی نظام کو رائج کرنے اور قانون سازی کر کے اُسے نافذ کرنے کی ذمہ دار قوتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکیں جس کی وجہ سے اللہ کی رسّی اُن کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ہے ۔ انہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا جس کی وجہ سے اللہ نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ اللہ اور بندے کا رشتہ ایک دائمی اور اٹل قانون کا پابند ہے جسے قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے :
" واذکرونی اذ کرکم"  تم میرا ذکر کرو میں تمہارا کرتا ہوں ۔ یہ اللہ اور بندے کے دوطرفہ تعلق کا بلیو پرنٹ ہے۔ لیکن بندوں کی طرف سے میثاق ٹوٹنے پر اللہ نے  اُنہیں ایک دوسرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا " ہم مذہبی" کوئی رشتہ ہے بھی جو مذہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے ؟ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام ، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کو  جوڑ کر رکھنے والا دوطرفہ رشتہ ثابت نہیں ہوا ۔

ابھی دو روز قبل سعودی عرب کے شہر دمام میں پاکستانی نژاد مسلمانوں کا ایک انبوہِ کثیر  تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج تھا ۔ پاکستان کے شہروں میں پنشن یافتہ عمر رسیدہ لوگ عید سے پہلے پینشن کی وصولی کی اُمید پر بنکوں کے دروازوں پر بھکاری بن کر کھڑے ہیں اور پینشن ، پینشن پکار رہے ہیں مگر حکام جو عوام کے مسلمان بھائی  ہیں،  اپنے کان پر اسلامی اخوت کی جوں تک نہیں رینگنے دیتے ۔ لگتا ہے ملک کی وزارتِ قرضہ جات نے کانوں میں روئی ٹھونس رکھی ہے اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے کسی نے کچھ سنا ہی نہ ہو ۔ جگہ جگہ پولیس اور عوام کے درمیان تنازعات برپا ہیں ۔ کہیں کوئی ٹریفک وارڈن ایک بچی کی موت کے بعد احتجاجیوں کے ہاتھوں پِٹ جاتا ہے، کہیں محلے داروں کی لڑائی میں ایک چھ سالہ بچی کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، ملک میں جگہ جگہ بد نظمی جشن منا رہی ہے مگر حکومت نام کی کوئی چیز اس بد نظمی کے جن کو قابو نہین کر پا رہی ۔

پاکستانی وزیر اعظم اپنی صحت یابی کے گلچھرے، پاکستان سے دور اپنے بچوں کے فلیٹوں سے مزین شہر لندن کے گلی کوچوں میں پھر کر منا رہے ہیں ۔ کبھی وہ کسی ڈیلکس ریستوران میں " کھابوں" کے درمیان دکھائی دیتے ہیں اور کبھی آکسفورڈ سٹریٹ میں شاپنگ کے لیے طلوع ہوتے ہیں۔  لیکن ملک خداداد پاکستان وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں بھی بالکل ویسے ہی چل رہا ہے ، جیسے اُن کی ملک میں موجودگی کی صورت میں چلتا ہے :
وہی ہنگامے ، وہی ہڑتالیں ، وہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ ، وہی مہنگائی ، وہی قتل اور اغوا کی وارداتیں ، وہی بدنظمی، وہی لاقانونیت ، وہی ٹرین کے حادثے اور وہی مِس مینیج منٹ ۔

یعنی پاکستان میں وزیر اعظم ہو تو پاکستان کے روز مرہ ہنگامے جوں کے توں جاری رہتے ہیں اور وزیر اعظم نہ بھی ہو تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیونکہ ملک  کو مولانا فضل الرحمان کی دعائیں چلاتی ہیں ۔ اور جب تک مولانا کا وجودِ لا محدود ہے تب تک اسلامی جمہوریت رواں دواں رہے گی  اور ہر حکومت دھمال اور حال کھیلتی ہوئی  اپنی بے ڈھنگی چال چلتی رہے گی ۔

پاکستانی جمہوریت ایک نرالا بلکہ " نویکلا " طرزِ حکومت ہے جس میں جمہوریت کے ہاتھی کے دکھانے کے دانت بہت طاقت ور ہیں جبکہ کھانے کے دانتوں کا فنکش ہی کوئی اور ہے ۔ جمہوریت کا ہاتھی اپنے کھانے کے دانتوں سے کرپشن ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے گنے کا رس نکالتا ہے جو پورے سماجی اور اقتصادی نظام کو سیراب کرتا رہتا ہے ۔
جس طرح کالعدم تنظیمیں ، فعال تنظیموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ فعال ہیں ، اسی طرح حکومت نہ ہوتے ہوئے بھی فعال  حکومت ہوتی ہے اور کاروبارِ سیاست نہ صرف ہر حال میں چلتا رہتا ہے بلکہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی بھی کرتا رہتا ہے ۔

ہم روایت کے غلام ہیں اور علم و تحقیق کو بالکل بھی لفٹ نہیں کرواتے ۔ اب رویتِ ہلال کی مثال ہی لیجیے :
یہ سائنسی تحقیق کا زمانہ ہے جس میں ایسے ایسے آلات ایجاد ہو گئے ہیں جو چاند کی تمام منزلوں کی مکمل نشاندہی  پیشگی کر دیتے ہیں  مگر ہم ٹھہرے لکیر کے فقیر  جو رصد گاہوں کی مہیا کی ہوئی اطلاعات کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتے اور اس کے بجائے ایک دور بین رکھ کر اُن پر دوچار  علماء حضرات کو سوار کروا دیتے ہیں کہ وہ جائیں اور چاند کے طلوع کی خبر لائیں ۔  چاند دوربین سے تو نہیں ملتا مگر مفتی پوپلزئی دو تین گواہ پیدا کر ہی لیتے ہیں جو چاند کے اُفق پر جلوہ نما ہونے کی خبر دیتے ہیں تو عید ہو جاتی ہے  اور بے چاری سائینس اپنا سا مونہہ لے کر رہ جاتی ہے ۔

اصل  میں ہم لوگ اس عہد میں بھی سائنسی تخلیق کے لوگ ہیں ہی نہیں  ۔ میری بات پر یقین نہیں آتا تو اقبال سے پوچھ لیجیے :
شیر مردوں سے ہوا بیشہ ء تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی
 

loading...