قوّالی کا قتل

امجد صابری اپنی قوالی ، اپنی حمد سرائی اور اپنی نعت خوانی کے سوا کیا تھا ؟
ہر مُغنّی اپنے نغمے تک ہی ہوا کرتا ہے جو گاتے گاتے اپنی آواز میں تحلیل ہو جانا چاہتا ہے ۔ وہ شاہراہ کی کربلا کا سپاہی نہیں ہوتا کہ اُسے دورانِ سفر کسی بھی مقدس نام پر گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے ۔ سروں کا گلا گھونٹ دیا جائے اور مزمور کی گردن مروڑ دی جائے ۔ آخر اُس کا جُرم کیا تھا ؟ کوئی بھی نہیں ۔ البتہ اُس پر ایک لیبل چسپاں تھا ۔ صوفی سکول سے وابستہ ہونے کا لیبل جو بہت سے فرقہ وارانہ مکاتبِ فکر کے لیے ناقابلِ برداشت ہے ۔ جو کٹھ مُلّا صوفی سکول سے وابستہ لوگوں کو امن ، محبت اور رواداری کے گیت گاتے نہیں سُن سکتے ، اُن کے لیے امجد صابری واجب القتل تھا ۔ اور دریں اثنا اس اندیشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ اس قتل میں کوئی سیاسی جماعت بھی ملوث ہو سکتی ہے ۔ صورت کوئی سی بھی رہی ہو ، دنیا نے دیکھا کہ امجد صابری کو مغربی انداز میں کرائے کے قاتلوں کے ہاتھوں موت کی ابدی نیند سُلا دیا گیا ۔

قاتل ہمیشہ کرائے کے ہوتے ہیں خواہ وہ روپے پیسے کے لیے قتل کریں یا جنّت کی حوروں کے لالچ میں خون بہائیں ، بہر کیف وہ کرائے پر دستیاب ہوتے ہیں  اور اس قسم کی واردات کا شرعی جہاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ قتل کی اِس واردات نے مجھ پر دو دن سے لرزہ طاری کر رکھا ہے ۔ میں تاک کی بیل کی طرح اپنے وجود میں الجھ کر رہ گیا ہوں ۔ ایک تو اس لیے کہ صوفیا کی نغمگی سے جو امیر خسرو سے لے کر سارے پنجابی صوفی شاعروں کی دولتِ دل ہے ، میرا ایک ربطِ خاص ہے ۔ مولانا روم کی نے ، شاموں کو اکثر میرے وجود میں کوکتی اور دل کی دھڑکنوں میں سوز پیدا کرتی ہے ، اور مجھے یاد دلاتی ہے :
بشنو از نَے ، چوں حکایت می کُند
وز جُدائی ہا شکایت می کُند

دوسرے یہ کہ میں کن رس ہوں ۔ میں نے لاہور ریڈیو کے لیے برسوں موسیقی کے پروگراموں کے سکرپٹ لکھے اور گلوکاروں اور موسیقاروں سے بہت میل جول رہا ۔ امجد کے والد اور چچا دونوں سے میری یاد اللہ تھی ، چنانچہ امجد صابری کے قتل پر میرے ملال کا ایک سبب یہ دیرینہ تعلق بھی ہے جس کی وجہ سے میں امجد کے لیے دعائیں تحریر کر رہا ہوں ۔
اس جانکاہ واردات کے بعد سے میں مسلسل اس سوچ میں گم ہوں کہ آیا پاکستانی معاشرت میں فرد کی باطنی تبدیلی ممکن ہے ؟

میں اُس تبدیلی کی بات نہیں کر رہا ، جس کی بات بعض سیاسی طالع آزما اور بعض انقلاب پسند جماعتیں کرتی ہیں ۔ جب کہ کوئی بھی جماعت جو سنجیدگی سے مذہب سے وابستہ ہو، سسٹم کی تبدیلی جیسی فضولیات کا موقف اختیار کر ہی نہیں سکتی ۔ کیونکہ فطرت کے قانون کے مطابق اصل تبدیلی فرد کی تبدیلی ہے لیکن چونکہ سیاسی جماعتیں چہرے بدلنے اور پارٹیوں کے پرچم تلے انتخاب کے ذریعے تبدیلی کی علمبردار ہیں  اور اُن کی منزل کرسی ہوتی ہے کہ موجودہ حکومت چلی جائے تو اُس کی جگہ وہ لے لیں ۔
کیا یہی حقیقی تبدیلی اور انقلاب ہے ؟
نہیں ، پچھلے اُنہتر برس میں ان انتخابی معرکوں سے کوئی سسٹم نہیں بدلا ، صرف چہرے بدلتے رہے ہیں ، کبھی وردی میں کبھی سول کپڑوں میں ملبوس لوگوں کے چہرے ، اور بے چاری قوم ہر عہد مییں آہیں ہی بھرتی رہی ہے ۔

تو یہ تبدیلی کس چڑیا کا نام ہے اور میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟
یعنی میں ؟ میں کون ؟ کیا پِدّی اور کیا پدی کا شوربہ ۔ مگر میرے مونہہ میں زبان تو ہے اور ہاتھوں کی دسترس میں کمپیوٹر کا تختہ ٗ کلید جس سے پاجامے میں ازار بند نہیں ڈالا جا سکتا ۔ چنانچہ اس تکنیکی تبدیلی نے قلم اور ازار بند کا رشتہ تقریباً ختم ہی کر دیا ہے ۔
میرے لیے تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ جو دہشت گرد موٹر سائیکلوں پر سوار پستول لہراتے قوالی کے قتل کے در پَے ہیں ، وہ تبدیل ہو جائیں اور قوالی کے بجائے اُس جہالت کو قتل کریں ، جو خود اُنہیں اندر سے دبوچے ہوئے ہے ۔
کیا ایسا ممکن ہے ؟

میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہمارا مذہبی تعلیمی نصاب ، ہمارا درسِ نظامی مسلمان پیدا کرنے کے بجائے شیعہ ، سُنّی ، وہابی ، بریلوی ، اہلِ حدیث ، اسماعیلی ، داؤدی اور سعودی کیوں پیدا کر رہا ہے ؟ جی ہاں فرقہ ٗ سعودیہ دولت مند عرب شیوخ کا فرقہ ہے جو عالمِ اسلام کو اپنا لے پالک بنانا چاہتا ہے ۔ ور اُس کے ذریعے عالمِ اسلام کی ملوکیت کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ ممکن ہے یہ بات مجذوب کی بڑ سے زیادہ نہ ہو مگر اس میں بھی اشارہ مضمر ہے جس کو سمجھنے سے بہتوں کا بھلا ہو سکتا ہے ۔ یہ سارے فرقے ایک مبنی بر مفاد پروگرام کے تحت ایک دوسرے سے اختلاف ، ضد اور تصادم کی کیفیت میں رہتے ہیں جو ان سب کو من حیث الامت ایک ملی وحدت نہیں بننے دیتا ۔ اور اُس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں جابجا احتجاجی جلوس ، دھرنے ، قومی اور صوبائی ا سمبلیوں میں جوتیوں میں بٹتی دال ، خواتین کی بے حُرمتی اور غیرت کے نام پر قتل ، اغوا برائے تاوان ، ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں اور طبقاتی تعصبات جو چھوت چھات کا پاکستانی ایڈیشن ہیں ، ہمارے مقدر میں بد امنی کے علاوہ معاشرتی ، اخلاقی اور معاشی زوال لکھ رہی ہیں ۔

ہمارے ملک کے اطراف و جوانب میں جو طوفانِ کربلا خیزی و بدتمیزی برپا ہے ، اُسے مذہبی اکابرین جو خود کو عشاقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم شمار کرتے ہیں ، اور نعت نویس اور نعت گو جو ہر وقت مدینے کے لفظی اور شعری سفر پر رہتے ہیں ، اور وہ دانشور جو امن و امان اور قانون کی بالادستی کے تازیانوں سے ایئک دوسرے کی نظریاتی چمڑی اُدھیڑتے رہتے ہیں ، اس کربلائے مسلسل کو کس لیے قبول کر کے ، بطور طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں ،؟
کیا وہ نہیں جانتے کہ قاتلوں کے درمیان زندگی بسر کرتے چلے جانا ،قاتلوں کے قبیلے کا خوابیدہ شراکت دار ہونا ہے ؟

یہ بالغ وجود ، بالغ نظر اور بالغ فکر لوگ ایک دوسرے سے کیوں نہیں پوچھتے کہ وہ اس سیاسی مقتل میں ، اس مذہبی مذبح خانے میں کیوں رہ رہے ہیں ؟
کیا وہ بھی بربریت کے راستے کے ہی مسافر ہیں؟
وہ اپنے بچوں کو اس قتل گاہ میں کیوں پال رہے ہیں؟
آخر اس ملک میں سچ مُچ کی تبدیلی لانے کے لیے کتنی صدیاں درکار ہوں گی ؟

اور میں چہروں اور پارٹیوں کی حکومتوں کی تبدیلی کی بات نہیں کر رہا ، میں فرد کی تبدیلی کی بات کر رہا ہوں کہ کب ، آخر کب پاکستانی مسلمان میں وجودی تبدیلی آئے گی اور وہ اس ملک میں ایک دوسرے کے ساتھ اخوت کی فضا میں سانس لے سکے گا ؟ لیکن افسوس صد افسوس :
بصارت کے اندھوں سے اے ربِ کعبہ
محمد کا نقشِ قدم کھو گیا ہے
متاعِ امانت ، صداقت ، فراست
یہ سب کچھ خُدا کی قسم کھو گیا ہے
ہیں میلاد کی محفلیں ہر گلی میں
مگر عشق کا بیش و کم کھو گیا ہے
نہیں ہیں اخوت کے آثار باقی
کہ اُمت سے جاہ و حشم کھو گیا ہے
ہے تسبیح پر کیوں یہ نسیان طاری
نمازی سے شاید حرم کھو گیا ہے
ہے مسعود ، اُمّت بڑی مفلسی میں
کہ صدق و صفا کا علم کھو گیا ہے
 

loading...