گھر سے جنگی مورچے تک

مجھے معلوم نہیں کہ کسی بھی مذہب کو ماننے والی قوم کی تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے ؟
اُس روز سے جس روز کسی خطہء زمین پر کسی پیغمبر کی شریعت نافذ ہوتی ہے  یا پھر اُس روز سے ، جس روز وہ کسی قریے میں جا کر آباد ہو جائے یا پھر صدیوں سے آباد کسی قریے کا نام بدل کر کچھ اور رکھ دیا جائے ۔

مسلمانوں کی مذہبی  تاریخ پندہ صدی پرانی ہے اور جہاں تک بر صغیر کے مسلمانوں کا معاملہ ہے،  قائد اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اُس روز وجود میں آگیا تھا ، جس روز ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبال کیا تھا ۔ اور  اگر سندھ پر محمد بن قاسم کے حملے کو اسلامی تاریخ میں شامل نہ بھی کیا جائے تب بھی مسلمانوں کے قدم وادئ سندھ میں اپنے نقش صدیوں پہلے  ثبت کر چکے تھے ۔ اور یہ اُنہتر برس پہلے کی بات ہرگز نہیں ہے ۔

وادئ سندھ کے لوگ قدیم زمانے سے اس خطے میں اپنے اپنے مذاہب کے ساتھ رہتے آئے ہیں ۔ چنانچہ اُن کی اسلامی تاریخ اُس زمانے سے شروع ہوتی ہے ، جس زمانے میں وہ مشرف بہ اسلام ہوئے اور اپنے قدیم مذہبی کلچر کی عمارت مسمار کر کے ایک نئے مذہبی کلچر کی بنیاد رکھی ۔ سو یہ کہنا کہ پاکستان ایک نئی قوم ہے اور یہ کہ اُنہتر برس قوموں کی تاریخ میں کچھ بھی نہیں ہوتے ، محض ایک بہانہ ہے جو ملک کے انتظامی اداروں کی نالائقی چھپانے اور اُن کی کارکردگی کے فقدان پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے ۔
خُوئے بد را بہانہ بسیار

موجودہ اسرائیل بھی تو پاکستان کا ہم عمر ہی ہے ۔ چینی انقلابی ماؤزے تنگ کا انقلاب بھی ابھی کل ہی کی تو بات ہے ۔ میں نے ماؤزے تنگ کا عہد دیکھا ہے اور مجھے یاد ہے کہ گراں خواب چینی کس طرح سنبھلے اور ہمالہ کے چشمے کس طرح سے اُبلے تھے ۔ اقبال یاد آ گئے :
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے
گیا دورِ سرمایہ داری گیا
تماشہ دکھا کر مداری گیا

لیکن پاکستان بننے کے باوجود منافقت کے مداری نے پاکستانی مسلمانوں کا پیچھا نہیں چھوڑا اور نہ ہی منافقت کی جگہ محمدیت نافذ ہو سکی ۔ اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سفید اور مقیشی داڑھیوں والے  عسکری تنظیموں کے جہادی جادوگر ، کھچڑی بالوں والے سیاستدان  ، موٹاپے کے شکنجے میں کسے علماء اور ایک ٹی وی پروگرام کے عوض بک جانے والے دانشور، جو خود بھی ذہنی بچپنے میں مبتلا ہیں ، پاکستان کو بچہ قرار دے کر حکمرانوں کی نا اہلی کے دفاع میں دلیل یہ لاتے ہیں کہ اُنہتر سال قوموں کی تاریخ میں کیا ہوتے ہیں ۔
جی ، آپ کی اطلاع کے لیے عرض کردوں کہ قوموں کو بنانے کے لیے تیئیس سال کافی ہوتے ہیں ۔

یاد کیجیے کہ جب پہلی وحی غارِ حرا میں اُتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی ۔ آپ تیئیس برس میں اسلامی انقلاب مکمل کر کے ، مکہ فتح کر کے اور اسلام کی پہلی خلافت قائم کر کے تریسٹھ برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے ۔ جی صرف تیئیس برس میں ۔ اسلامی تاریخ یہی بتاتی ہے مگر ہماری نالائقیوں کو اللہ سلامت رکھے ، جیسےہم  ہیں ، ویسے مسلمانوں کو  مدینے جیسی ریاست کے قیام کے لیے تیئیس سو برس درکار ہوں گے ۔

برِ صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ لگ بھگ چھ صدیوں پر محیط ہے اور پاکستان اُن  حکومتوں کا وارث ہے ۔ مگر اس قوم کی بدقسمتی کہ پاکستان کے منصہء شہود پر آنے کے ساتھ ہی یہ ملک طرح طرح کی دہشت گرد قوتوں کے ہاتھوں اغوا ہو گیا اور تب سے اب تک چھ جنگیں لڑ کر تھکن سے چور ہے ۔ ان جنگوں نے پاکستانی بچوں کے تعلیم حاصل کرنے  کی سہولت  اور مواقع محدود کر دیے اور تعلیم کی جگہ رقم دفاع کے منصوبوں پر  خرچ ہونے لگی۔ اور تعلیم کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے  ملک  میں خواندگی  کی شرح شرمناک حد تک کم ہو گئی جس سے نبیء اکرم کے اس حکم کی خلاف ورزی ہونے لگی جس کے تحت  تمام لڑکوں اور لڑکیوں پر علم  کے حصول کو فرض کیا گیا تھا ۔ فرمانِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم تھا  کہ علم حاصل کرنا تمام  بچوں اور بچیوں پر فرض ہے۔

بے علمی کی آغوش میں پلنے والے بچے اور بچیاں اسلام کے پیغام سے براہِ راست استفادہ نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ وہ مسجدوں کے مولویوں کی مہیا کی ہوئی آدھی ادھوری معلومات کے بل پر نیم مسلمان بنتے ہیں جن کا آدھا ادھورا علم اسلام کے لیے بالکل اُسی طرح خطرہ بن جاتا ہے جیسے نیم حکیم جان کا اور نیم ملا ایمان کے لیے خطرہ ہوتے ہیں ۔ اس ساری صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی فرقہ واریت کے ہاتھوں فکری اور جذباتی استحصال کا شکار ہے ۔ نیم ملاؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے  مرتب کیے ہوئے ہلکے پھلکے تشدد کے بل کو گھروں کی چاردیواری میں داخل کردیا ہے، جس کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جہادی تنظیموں نے ہر ہاتھ کو ہتھیار سے مسلح کر کے جس طرح شہری معاشروں کو وحشی معاشرے بنایا تھا ، اب   اگلے مرحلے میں میاں بیوی کے درمیان رنجش کی صورت میں میاں کو ہلکے پھلکے تشدد کی اجازت دے کر تشدد کے ببول کو ہر گھر میں کاشت کر دیا ہے ۔ یار لوگوں کو بہانہ ہاتھ آ گیا ہے اور قہرِ شوہر بر جانِ بیوی   کی روایت چل نکلی ہے اور اس کی ضمنی شاخوں میں رشتہ نہ ملنے پر چہرے پر تیزاب پھینکنا ، زندہ جلا دینا ، گولی مار دینا اور سڑک پر لا کر مونہہ کالا کر کے تھپڑ مارنے کی ظالمانہ رسمیں عام ہوتی جا رہی ہیں ۔

میں جب بھی ونی کی رسم کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے ہندو بیوہ عورتوں کے اپنے شوہر کے ساتھ ستی ہونے یعنی زندہ جل مرنے کی افسوسناک روایت یاد آتی ہے ۔ لیکن اس سے زیادہ افسوسناک روایت  وہ ہے جو جے یو آئی کے سینیٹر ملا حمد اللہ نے ایک ٹاک شو میں ماروی سرمد سے  فحش کلامی کر کے رقم کی ہے ۔
 یہ واقعہ پوری قوم کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے کیونکہ ایسے  صبر و تحمل سے عاری علماء اسلام کا نام ڈبونے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے ۔ میں عورت کے ماں ، بہن ، بیٹی ، ساس ، سالی ، خالہ ، پھوپھی ، سمدھن ،  دیورانی اور جیٹھانی کے رشتوں کے کلیشے بیان نہیں کرنا چاہتا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت بھی مردوں جیسی ہی انسان ہے یا نہیں ؟

عورت انسان پہلے ہے اور جنس کی بنیاد پر تذکیر و تانیث کی تقسیم ثانوی حثیت کی حامل ہے ۔ صوفیائے کرام کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ  انسانی روح اپنی ماہیئت کے اعتبار سے نہ مونث ہے نہ مذکر بلکہ اس جنسی تقسیم سے بر تر ہے ۔ مولانا روم نے فرمایا ہے :
روح را از مردو زن اشراک نیست
چنانچہ کسی روح کو زنانہ جسم ملا اور کسی کو مردانہ  ، یہ بات اپنی جگہ اٹل سہی  مگر حقیقت میں دونوں برابر کے انسان ہیں ۔ عورت کا صیغہء تانیث اسے انسانی منصب سے محروم نہیں کرتا ۔ اور انسان پر انسان کا احترام فرض کردیا گیا ہے۔ اقبال نے کہا ہے :
آدمیت احترامِ آدمی
با خبر شو از مقامِ آدمی

لیکن ہمارے مذہبی دانشور ، علماء، فقہا ،  مفسرین اور محدثین انہتر سالوں میں پاکستان میں مقیم مسلمان قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں  کو ایک دوسرے کا احترام سکھانے کے بجائے فرقہ وارانہ نفرت کی پٹی پڑھاتے رہے  ہیں ۔ بجائے اس کے کہ وہ ایسے معاشرے کی بنیادیں اٹھاتے  جس میں زد و کوب کا تصور ہی ناپید ہوتا  ۔ وہ زدو کوب کو مرد کے حق کے طور پر تجویز کر کے اُس کے ہاتھ میں کوڑا دے رہے ہیں ۔ اس  اقدام سے گھر کی چار دیواریاں ایسے جنگی مورچوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں جہاں کبھی امن نہیں ہوگا ۔ اور ہنستے بستے گھر میدانِ زدو کوب بن جائیں گے ۔
نہیں ، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ یہ مذہب کے نام پر تشدد کو ہوا دینے کی سازش ہے ۔ 
 

loading...