اسلام کے نفاذ کے لیے انتہائی ناسازگار مُلک ۔۔۔ پاکستان

جی دیکھئے ، میں کیا کہہ رہا ہوں ۔ اُس مُلک کے بارے میں جس کے متعلق بچّے بچّے کو یقین ہے کہ یہ اسلام کے عملی نفاذ کے لیے بنا تھا  ۔ اور اب جب کہ ایک سابق وفاقی وزیرِ امورِ حج کو جو خیر سے باقاعدہ عالمِ دین ہیں ( مجھے اُن کا نام لیتے ہوئے جھجک سی ہوتی ہے ) حج  کرپشن کیس میں بارہ سال قید اور جُرمانے کی سزا کے مستحق قرار پائے ہیں  ، میرے دوست ماسٹر گام نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ گویا کُرپشن نے خُدا کا گھر بھی دیکھ لیا ہے ۔ اللہ خیر کرے ۔

تشویش کی بات تو یہ ہے کہ پچھلے ستر برس سے جو فرقہ جنگی جاری ہے وہ اس بات کی غماز ہے کہ اسلام اس ملک میں متعصبانہ عقائد ، فقہی امتیازات اور گروہی مفادات کی بنا پر کفر کی زد میں ہے ۔ یہاں وحدت ،  کثرت کے ہاتھوں لوگوں کے شعور سے پرواز کر گئی ہے جس کی وجہ سے یہ سر زمین نظریہء توحید کی ترویج کے لیے غیر محفوظ ہو گئی ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہوا جب کہ آل انڈیا مسلم لیگ اپنے سیاسی موقف سے مخلص تھی اور قائد اعظم کی قیادت میں اپنی منزل کے حصول کے لیے ڈٹی ہوئی تھی ۔ میرے مشاہدے ، مطالعے اور پاکستان کے ایک سابقہ شہری کے طور پر اس المیے کی وجوہات حسبَ ذیل ہیں :
اخوت کا قتل
قرآنِ کریم خُدا کا حُکم ہے ، مسلمان معاشرت کا آئینِ حیات ہے ، جس میں لکھا ہے :
انما المومنون اِخوۃ "
اس میں کوئی شک نہیں کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ کیا پاکستان میں بسنے والے مسلمان آپس میں بھائی بن کر رہتے ہیں ۔ کیا وہ زمین کے اس گھر میں ایک ہی باپ آدم اور ایک ہی ماں حوا کی اولاد کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں؟
نہیں ، وہ ہمارے بھائیوں  ہابیل اور قابیل کی طرح رہتے ہیں؟ کیا یہ قرآن کے حکم کی واضح خلاف ورزی نہیں ہے ؟ قرآن یہ بھی کہہ رہا ہے کہ کتاب کے ایک حصّے کو ماننا اور دوسرے سے انکار کرنا کفر کی ذیل میں آتا ہے ۔ اور جب تم ایک بنیادی حکم کی رو سے بھائی بھائی بن کر نہیں رہتے تو تمہاری نماز کیا اور تمہارے روزے کیا ؟ کیا ہم اخوت شکنی کا یہ کفر تولتے ہوئے خُدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی صریح خلاف ورزی نہیں کرتے ؟

کرتے ہیں بلکہ قابیل کی طرح اپنے بھائیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے درپے رہتے ہیں ۔ ہاں یہ ٹارگٹ کلنگ ہمارے بھائی قابیل کی سُنّت ہے ، جس نے قتل ایجاد کیااور کووں سے قبر کھودی اور لاش کو مِٹّی میں چھپانا سکیھا تھا۔ کراچی کی گلیوں میں گاہے گاہے ملنے والی بوری بند لاشیں اُس سُنّت کی یاد تازہ کرتی ہیں ۔ اور جہاں یہ حال ہو وہاں اللہ کا دین کیسے محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ دین کو لوگوں میں امانت کے طور پر اُتارا جاتا ہے اور آج کے مسلمان امانت کی خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ اور بڑی ڈھٹائی اور بے حیائی سے ہو رہے ہیں ۔

اللہ کا دین بنیادی طور پر امن و سلامتی کا دین ہے اور جہاد ہنگامی اور وقتی ضرورت کے تحت مومنین پر فرض ہے۔ کرائے کے گوریلوں پر نہیں جو کسی تیسرے ملک کے فلسفہ جہاد کی ریڈی میڈ وردی پہن کر بر سرِ قتل و غارت گری ہوں اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر سکول کے بچوں ، عورتوں اور درگاہو ں کے زائروں کو قتل کرتے پھرتے ہوں ۔ اسلام میں جہاد کا جو  حکم ہے وہ  عام پُرامن حالات و کیفیات میں معطل رہتا ہے، امن کی حالت میں  خونریزی کے بجائے جہاد اکبر فرض ہے  جس کا آغاز خود اپنی جہالت کے خلاف جنگ سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن ہم پچھلی کئی دہائیوں سے شدید فرقہ جنگی میں مبتلا ہیں جو خانہ جنگی کا بھیانک ترین درجہ ہے۔  ہمارا المیہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاسی حالات نے   ہمارے طرزِ زندگی کو اس طرح تہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے کہ ہم قتل کو  چوگان کا کھیل سمجھنے لگے ہیں  اور لگتا ہے کہ یہ کھیل ہماری زندگی کا جزوِ لاینفک  بنتا چلا گیا ہے ۔ ہم گھریلو تنازعات اور ناچاقی میں قتل کو ایک رسم سمجھنے لگے ہیں ۔ ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ فرقہ جنگی ہم پر آسمان کی طرف سے سزا کے طور پر اُتری ہے ۔ سورہ الانعام میں خُدانے ایک وارننگ بھیج رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے :
" کہہ دو کہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک فرقے  کو دوسرے سے لڑا کر آپس کی لڑائی کا مزا چکھا دے ۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ سمجھیں "۔ ۶۵  پارہ ساتواں ۔ ورہ الانعام

لیکن ہم لوگ نہیں سمجھ رہے کیونکہ ہمارے علما اور مشائخ خُدا کے دین کی تعلیم کے بجائے اپنی روزی روزگار کی فکر میں رہتے ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اپنی پوری کُلیت میں نافذ ہو کر ایک متقی معاشرے کی عمارت استوار نہیں کرسکا جس میں ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارا ہوتا ۔ حکمران اور علما غیر ضروری طور پر اداروں کی کارکردگی بڑھانے اور نئے نئے قوانین بنانے پر  زور دیتے ہیں لیکن لوگوں کو قانون کی پابندی نہیں سکھاتے ۔

بھلا اُن حکمرانوں کی انتظامی صلاحیتیں کیا ہونگی جو اپنے ملک کے شہروں کو صاف نہیں رکھ سکتے ۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ " واللہ یحب المطہرین" ۔ کہ اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے ، مگر ہماری ادارہ جاتی کمینگی ، نا الہی اور نالائقی  دیکھئے کہ ہم نے اپنے شہروں کی صفائی کا کام ایک ایسے ادارے کے سپرد کر رکھا ہے جس کے عملے  کی اکثریت غیر مسلم ہے اور ہم نعرے لگاتے پھرتے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے اور نصف ایمان کا کام ہم نے عیسائی خاکروبوں کو دے رکھا ہے ۔ ہمارے بلدیاتی ادروں کو بالکل بھی شرم نہیں آتی کہ عروس البلاد کراچی میں  کوڑے کے ڈھیر بانیء پاکستان کے گھر کے آگے جمع کرتے رہتے ہیں اور اپنے غلاظت پسندی اور نجاست و آلودگی کے شاہکاروں کو شہر میں نمائش کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں ۔ کیا ایسے ہوتے ہیں مسلمان  اور عاشقانِ رسول ، جنہوں نے اسلام کے نام پر ملک بنایا اور پھر اُس کو کرپشن ، بھتہ خوری اور نجاست کے ڈھیروں کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ جس قوم کو اپنے شہر صاف رکھنے نہیں آتے وہ کون سا اسلام رائج کرے گی ؟ بلکہ اس قوم کے علما ، مشائخ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی ستر برس کی  کارکردگی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اسلام جیسے عظیم ، پاکیزہ اور صدق و صفا کے مظہر مذہب کے رائج ہونے کے لیے سازگار نہیں ہے ۔

قوموں کی تعمیر نیک اقوام کرتی ہیں جو جانتی ہیں کہ نظم و ضبط اور قانون کی پابندی ہی بہترین نیکی ہے ۔ جب کوئی نظم و ضبط اور قانون کے راستے میں بہترین طرزِ عمل اختیار کرتا ہے تو  وہ  امن ، ترقی اور خوش حالی کے راستے میں  جو چاہتا ہے پا لیتا ہے ۔
رب کے حضور اپنی انا کی قربانی بہترین صلہ لاتی ہے کیونکہ وہ علیم و خبیر ہے اور نظم و ضبط کی پابندی کا بہتری معاوضہ ادا کرتا ہے ۔
 

loading...