صدا بہ صحرا

اس عہد میں  کچھ لکھنا، تنقید کرنا ، وضاحت دینا یا صورتِ حال کی تشریح و توجیہہ کرنا  نقار خانے میں طوطی کے آواز کے سوا کیا ہے ؟ ہم جو لکھ رہے ہوتے ہیں خود بھی نہیں پڑھتے ۔ پڑھنا سمھجنا ہے اور سمجھنا عمل کرنا ہے لیکن ہمارا یہ حال ہے :
جے ویکھاں میں عملاں ولوں ، کجھ نہیں میرے پلّے

ہم پچھلے پندرہ سو سالوں سے خُدا کا کلام پڑھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور جنّت کمانے کی خواہش میں  اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرواتے رہے ہیں ۔ اس لیے نہیں کہ وہ قرآن پڑھ کر اُس پر عمل کریں ، بلکہ اس لیے کہ وہ حفظ اور تلاوت کے شارٹ کٹ کے ذریعے  چھلانگ لگا کر جنت میں اپنا سونے کا محل الاٹ کروا لیں ۔
صحافی ، دانشور ، میڈیا نویس اور اینکر حضرات اس لیے دن رات لسان و قلم پر سوار ہیں کہ یہ اُن کا پیشہ ہے، ان کی روزی روٹی ہے ، اُن کی اولین  ترجیح  کا مسئلہ سرکولیشن اور ریٹنگ کا ہوتا ہے، حق گوئی یا حق نویسی کا نہیں ۔ البتہ استثنیٰ سے انکار ممکن نہیں ۔
یہی حال مساجد کا ہے ۔ مساجد دنیائے اسلام  کو صادق و امین بنانے کے ادارے نہیں ، تبلیغی سرکولیشن اور فرقہ وارانہ ریٹنگ کا مسئلہ وہاں بھی موجود ہے ۔

مجھے اکثر احساس ہوا کہ لکھنا اب کارِ زیاں ہے مگر اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ، کیونکہ حق کوئی اور  جابر سلطان کے سامنے  کلمہ ء حق کہنا بھی انا کا ایک اظہار بن کر رہ گیا ہے ۔
کالم نویسوں کی الگ قوم وجود میں آ گئی ہے ۔ جو وہ لکھ رہے ہوتے ہیں ، اُسے پڑھ کر لگتا ہے کہ وہ پاکستان کی بات نہیں کر رہے۔ پاکستان کے سمندر کے کسی ایک چھینٹے کی نمائندگی کر رہے ہیں اور وہ بھی ایک ایسی زبان میں ، جس کو کنوئیں کے مینڈک تو سمجھتے ہیں مگر دریا کی مچھلیاں اور درختوں پر بیٹھے پرندے نہیں  ۔ زبان الگ خراب ہو رہی ہے ۔ محاورے بگڑ رہے ہیں ، کیونکہ شام اودھ اور صبحِ بنارس ہماری ارضی حقیقت نہیں رہی  بلکہ را کا معاملہ بن گئی ہے ۔

کالم نویسوں کو اپنے کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے گوگل سمیت بیشتر  ویب زائینز کا وسیلہ ہاتھ آ گیا ہے وہ ادھر ادھر سے مواد جمع کر کے اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں ۔ ایسی دیدہ دلیری جوسرِ راہے موبائل فون چھیننے والے کرتے ہیں وہی رویہ بعض کالم نگاروں کا بھی ہے کہ وہ کسی دوسرے  کا کالم چھین کر اپنے قلم کی نوک پر آویزاں کرنے کوہر گز بے حیائی نہیں سمجھتے ۔ وہ کالم کو اس طرح اُلٹاتے ہیں جیسے کاریگر درزی کوٹ کو اُلٹا کر دوبارہ سی دیتے ہیں ۔

مجھے ناروے میں ایک بار ایک افسانہ نگار نے راز کی بات بتائی تھی کہ وہ اگر کسی کہانی کو پڑھ کر اس کو اپنی کہانی بنا لیں تو وہ پتہ ہی نہیں چلنے دیتے ۔ اب یہ سلسلہ بہت عام ہے ۔ شاعروں میں متشاعروں کا گروہ بہت طاقت ور ہے اور توارد کے نام پر چوری مباح ہے اور  اس پر طرہ یہ کہ ٹی ایس ایلیٹ صاحب ان توارد بازوں کی مدد کو آتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ اپنے اپنے سٹائل میں صاف چرا لو ۔
لوگ ان دنوں پاکستان سے ہجرت کر کے پانامہ منتقل ہو گئے ہیں ۔ وہاں اخبار نکالتے ہیں ، وہیں سے حکومت چلتی ہے اور وہاں ایک باقاعدہ  پاکستان وجود میں آگیا ہے جسے وزیرِ اعظم پاکستان کے شرفا ء و  خلفائے جاتی عمرہ  حسن اور حسین چلا رہے ہیں ۔ اور پاکستان میرا آپ کا پاکستان  پانامہ میں کنگرو کی سی  اچھل کود  میں چل رہا ہے ۔
ہمارے بھی ہیں حکمراں کیسے کیسے

اب سیاست کی اس گلوبل دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں رہا ۔ آپ لندن میں بیٹھ کر پاکستان کی کوئی سیاسی پارٹی چلائیں ، یا سب سے پہلے پاکستان سے بھاگ کر دوبئی میں سگار پیئیں یا علاج کے لیے لندن جائیں یا وزارتِ اطلاعات کی کرسی پر بیٹھ کر کنفیوژن کی مکھیاں ماریں ، یا رانا ثنا اللہ کی مونچھوں سے بڑکوں کے ڈینگی مچھر اُڑائیں ، سب کچھ ممکن ہے ۔ ان سیاست دانوں نے زبان و قلم کو ایک نیا جارگن ،  ایک نیا طرزِ اظہار مہیا کر دیا ہے جس سے لفظوں میں معانی کی ایک نئی دنیا آباد ہو گئی ہے :
ٹوٹی دریا کی کلائی ، زلف الجھی بام میں
بھینس کے انڈے میں مُرغا ، آدمی بادام میں

میں شکر گزار ہوں سیاست دانوں کا ، علماء کا اور ٹی وی ٹاک شوز کے لڑاکا مرغوں کا  جنہوں نے پولیس کے گالیاں دینے کے شرعی حق کی توثیق کر دی ہے ۔ ممتاز قادری کے چہلم شو میں علما ء کی زبان سے جو جو پھول جھڑے اُس پر مجھے آسمان کی ہنسی صاف سنائی دی تھی ۔ قرآن کے حکم کی جو توہین اُس وقت علماء کی گالیوں سے ہوئی اُس پر کسی  مفتی نے اعتراض نہیں کیا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ لگتا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے کان ہیں ہی نہیں ۔ وزارتِ مذہبی امور شاید ان دنوں عمرے پر گئی ہوئی تھی اور وفاقی شریعت کورٹ شاید یورپ یا امریکہ کے دورے پر تھی اور کسی کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ بد کلامی ، دشنام طرازی ، سب و شتم اور یاوہ گوئی سے قرآن نے منع کیا ہے :
قولو للناسِ حسنا " ۔ قرآن 

لیکن جب علماء اجتماعی طور پر بلاس فیمی کرتے ہیں تو اس کے لیے شرعی جواز پہلے سے وضع کر کے یا ڈھونڈ کر رکھتے ہیں ۔ یہی کام ہدف بنا کر قتل کرنے والوں اور خود کُش بمباروں کے مفتی بھی کرتے ہیں کہ اُن کے لیے سکول میں بچوں کو مارنا بھی ایک شرعی اقدام ہے ۔  یہ ہے وہ فکری اور اخلاقی بحران جس میں یہ اُمت اس وقت مبتلا ہے ۔ اور اس پر اقبال کا یہ قول کتنا برجستہ لگتا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا :
" قرآنِ کریم دنیا کی وہ مظلوم کتاب ہے کہ جو اُٹھتا ہے اس کی تفیسر لکھ دیتا ہے " ۔ لیکن اس کا حاصل کیا ہے؟ یہی کہ :
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

میرے کچھ دوست مجھ سے اس لیے خفا ہیں کہ میں اسلام سے کیوں چپکا ہوا ہوں ؟ بہت اسلام اسلام کرتا ہوں ۔  واقعی بہت بر محل سوال ہے کہ کرپشن ۔ منی لانڈرنگ ، فرقہ پرستی ، مکر و ریا اور پانامہ پیپرز کی تلاوت کے زمانے میں اسلام کا جواز ہی کیا ہے ۔
آئی ایم سوری !

 
 

loading...