سیکولریت کے خوابوں کا اسیر

قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ سورج مغرب سے نکلے گا ۔ لگتا ہے ٓآسمان اور زمین کے بدلنے کا واقعہ رونما ہوگا مگر کس طرح؟
کیا خُدا اپنا قانون بدل دے گا حالانکہ کتاب اللہ میں واضح کیا گیا ہے کہ خُدا کا طریقہ کبھی نہیں بدلتا ۔ میں گُمان کرتا ہوں کہ قیامت احتساب کا استعارہ ہے اور اقبال نے کہا ہے :
یہ گھڑی محشر کی ہے ، تو عرصہ ٗ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
یہ لمحہ لمحہ خود احتسابی کا فرمان ہے ۔ اور اسے بھی اقبال نے مضمون کیا ہے :
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب

یہ ہمارا المیہ ہے کہ برِ صغیر کی مسلمان روایت میں اقبال کے بعد کوئی ایسی معتبر آواز سنائی نہیں دیتی جو منبر و محراب سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یکساں طور پر سنائی دے اور اپنا اثر مرتب کرے ۔ ہمارے شعرا، ادیب ، ہمارے فلسفی ، ہمارے دانشور سب ایک کونے میں سمٹے دکھائی دیتے ہیں اور وہ عصری شعور پر کوئی ایسا دور رس اثر مرتب نہیں کر سکے جو رویہ ساز ہو اور لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو تبدیل کرنے کا موجب ہو ۔ ہمارے یہاں تو شاعری مشاعرہ بازی ، کتاب کی رونمائی اور یاروں کی دوستوں کی من ترا حاجی بگویم کی حُدی خوانی سے آگے نہیں بڑھی ۔ کتاب چھپنے کے بعد پرانی کتابوں کے ابنار کی نذر ہو جاتی ہے اور جو کتابیں سنبھال کر رکھی جاتی ہیں وہ ہ مذہبی کتابیں ہیں اور بیشتر مذہبی کُتب اُن لوگوں کی تصنیف ہیں جو نہ تو زبان و بیان پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی مذہب کی حقیقت کو جانتے ہیں ۔ چنانچہ مذہبی افسانویت ، جنت کا منظر مع مرنے کے بعد کیا ہوگا اور دنیاوی مشکلات حل کرنے کی دعائیں اور طریقے ہی بکتے ہیں ۔ ادبی اور فکری کتاب ایک ہزار کی تعداد میں چھپتی ہے اور پھر چھُپ جاتی ہے یا چھپا دی جاتی ہے :
ہم ایسی سب کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

کتابوں کے باب میں اُن کالم نگاروں کی چاندی ہے جو دیس دیس پھرتے اور اپنے میزبانوں کی مدح سرائی کرتے یا حکمرانوں کے قصیدے رقم کرتے اور کتاب چھپواتے ہیں ، جو بکتی ہے یا بکوائی جاتی ہے ۔ شہرت کسے عزیز نہیں ۔ جس کتاب میں کسی کالمسٹ یا ففتھ کالمسٹ نے آپ کا ذکر کیا ہے وہ آپ کیوں نہیں خریدیں گے ؟ ضرور خریدیں گے ۔
کتابیں بہت مہنگی ہیں اور مہنگائی کے دور میں کتاب خریدنے کی عیاشی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ۔ میرے جیسے کتابوں کے ذخیرہ اندوز پاگل ہیں کہ دو ہزار کتابیں اپنے اردگرد سجا کر کاغذکی پڑیامیں چھپ کر بیٹھے ہیں کہ یہاں سکون ہے ۔
جن دنوں ایکس فل کی تیاری کر رہا تھا تو لیویس وائٹ بیک کی کتاب چھ سیکولر فلسفی پڑھنے کی توفیق ہوئی تھی ۔ وہ چھ تھے کون؟
لیجیے :
سپائی نوزا ، ہیوم ، کانٹ ، نیشے ، ولیم جیمز اور سنتایانا ۔
میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا سیاسی جماعتوں کا کام شہر کی صفائی کرنا ہے جس طرح ایم کیو ایم کا ایک مظلوم دھڑا کر رہا ہے ؟ مظلوم کیوں ؟
جن سے ویڈیو لنک پر تقریر کرنے کی آزادی چھین لی جائے اُس سے بڑا مظلوم کون ہو سکتا ہے ؟ اور اب میڈیا میں رہنے کے لئے اگر جھاڑو پکڑنی پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

صفائی بنیادی طور پر مسجدوں کا کام ہے کیونکہ اسے نبی اکرم ﷺ نے نصف ایمان قرار دے رکھا ہے اور جو لوگ ناموسِ رسول ﷺ کے تحفظ میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں اُنہیں اس نصف ایمان کی نشانی کو کھونا نہیں چاہئے ورنہ آسمان اُن کے خلاف بلاسفیمی کی رپٹ درج کر لے گا ۔
میں پچھلے دو دن سے اقلیتوں کے حقوق کا گوشوارہ بنانے میں مگن تھا ۔ میں یہ سوچتا رہا کہ رحمت اللعالمین کو ، رحمت اللمسلمین بنانے کی جو سازش ہو رہی ہے وہ ، بلاس فیمی کے ذیل میں کیوں نہیں آتی ؟ نبی ﷺ صرف مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے فرقے کے نہیں ، وہ تو رحمتِ عالم بلکہ دونوں جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ مسجد تو سب کی عبادت گاہ ہے ۔ لیجئے مولانا روم نے میری مشکل آسان کر دی ۔ فرما رہے ہیں :
شد وجودش رحمت اللعالمیں
مسجدِ او شد ہمہ روئے زمیں
کہ آپ ﷺ کا وجود تمام جہانوں کے لئے رحمت بن گیا ، اور پوری روئے زمین آپ ﷺ کی مسجد بن گئی ۔

لیجیے وہ فرما رہے ہیں کہ گرجے ، ہیکل ، مندر ، گوردوارے سب نبی اکرم ﷺ کی مسجدیں بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ہے سیکولریت ۔ مخلوقِ خُدا میں فرق نہ کرنا ۔ فرق صرف حق و باطل میں ہے ۔ اور کتاب اللہ کہہ رہی ہے کہ تم مسلمان ہو ، یہودی ہو ، عیسائی ہو یا سابی ، اگر رب کو مان کر نیک اعمال بجا لاتے ہو تو تمہیں کسی خوف یا غم کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن ملّا ازم نے دین کو سُکیڑ کر ، محدود کر کے اپنے قد کے پرابر کر لیا ہے ۔ اپنے بہترویں فرقے کے برابر ۔ یہ ملا ازم ہے کیا ۔ اقبال نے اس کی تعریف یوں کی ہے :
دینِ مُلا فی سبیل اللہ فساد

فلسفیوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ مروجہ سماجی اقدار پر تنقید کریں اور بہ تحقیق اصل حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کے لئے منبر و محراب کی مدد کریں ۔ یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ مذہبی صداقتوں کو نئے زمانے کے مروجہ ایڈیم میں بیان کیا جائے تاکہ نئی نسلوں تک ابلاغ ممکن ہو ۔ کیونکہ مذہبی صداقتوں کا بہترین مفہوم وہ ہوتا ہے جو تیر کی طرح دل میں اُتر جائے ۔ بہترین مفہوم وقت اور عہد کے تقاضوں کے مطابق مرتب کیا جاتا ہے ۔ اور اس کا حکم اللہ نے دیا ہے :
ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال ، اور اپنی قوم کو حکم دے کہ وہ ان کے بہترین مفہوم کی پیروی کریں ۔ الاعراف ۱۴۵ ۔
اور حکمران اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اہلِ حکمت و دانش کو واضح طور پر اختیار دیں ۔ اور اُن کی آزادی کو سلب نہ کریں ۔
دیکھیے ، بھائی سپائینوزا مجھ سے کہہ رہے ہیں :
(حکومتوں کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ خوف و ہراس پھیلا کر یا جبر و اکراہ کے ذریعے اپنی رِٹ قائم کریں بلکہ اس کے بر عکس فرد کو جو ملک کا شہری ہے ، خوف سے نجات دیں تاکہ وہ مکمل تحفظ کی فضا میں زندگی کر سکے ۔ دوسرے لفظوں میں اُس کی فطری قوتوں کی توانائی کی اس طرح پرورش کی جائے کہ وہ نہ تو خود کو مجروح کرے اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچائے ۔)

لیکن ہمارے یہاں حکومتیں خوف و ہراس سے نجات دینے میں ناکام ہیں ۔ حکومت کے پاس جو رِٹ ہے وہ بہت محدود ہے بلکہ وہ منبر و محراب اور حکومت کے ایوانوں کے درمیان تقسیم ہے ۔ ملکی عدالتوں کے راستے میں قتل کے فتوؤں کا اختیار حائل ہے اور خلقِ خُدا خوف و دہشت گردی کی قیدی ہے ۔ ایسے میں کون کس سے کس کی شکایت کرے ؟؟
 

loading...