کرنی کا پھل

فطرت اپنے اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے ۔  انسان نے زمین سے  اپنے رشتے میں جو بنیادی اصول سیکھا، وہ یہ ہے کہ جو بو کر کوئی کسان گندم نہیں کاٹ سکتا ۔ گندم از گندم بروید جو از جو ۔  اور اگر آدمی مونہہ سے پھونک مار کر ہوائیں بوئے گا تو لا محالہ آندھیاں ہی کاٹے گا  ۔

اور ہمارے  سیاستدان اور دانشور اپنی زہریلی پھونکوں سے بد کلامی ، دشنام طرازی ، لسانی فسادات اور مندے بولوں کے جو بیج بوتے چلے جا رہے ہیں وہ  ہمارے معاشروں میں فاشزم کی بد ترین فصل دے رہا ہے ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ پورا پاکستانی معاشرہ تہ و بالا ہو رہا ہے ۔  قانون کا کاغذی وجود تو ہے مگر عملی اطلاق کا کوئی نشان نظر نہیں آتا ۔  پولیس ہے مگر اُس کی کارکردگی صفر ہے ، جس کی وجہ سے ڈاکو اور شہری آپس میں چور اور پولیس کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں  اور سرِ راہ قانون کی دھجیاں اُڑتی رہتی ہیں ۔ ڈاکو شہریوں کے ہاتھ آیا تو عوامی عدالت لگ جاتی ہے اور ہر شہری جلاد بن کر ڈاکو پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔

تشدد کے متوازی ایک اور کج عملی ہے جسے احتجاج کہتے ہیں  ۔ خیبر پختونخواہ کے ایک قصبے میں اُجرتوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کئے جار ہے ہیں اور مظاہرین کی طرف سے واشگاف الفاظ میں انتباہ  کیا جا رہا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو پہلے بنی گالہ میں دھرنا ہوگا اور اگر وہاں شنوائی نہ ہوئی تو عین اُسی جگہ دھرنا ہوگا ، جہاں عمران خان نے دھرنا کیمپ لگایا تھا ۔ یعنی  ڈی چوک تماشا ہو گا ۔

یہ  صورتِ حالات اِس امر کی گواہی ہے کہ ملک میں قانون کی نہیں دھونس اور دھاندلی کی حکمرانی ہے ۔  غنڈہ گردی کا راج ہے ۔  غُنڈے پالنا جاگیرداری شوق ہے ، بالکل اُسی طرح جیسے لڑانے کے لئے  اصیل مُرغے اور بٹیریں پالنا  ۔ جاگیر داری مزاج کے حکمرانوں نے اس روایت کو  قبول کیا اور اُسے باقاعدہ اِدارے کی حیثیت دی ۔  ملک کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل محمد ایوب خان  نے اپنے دورِ اقتدار میں ایک نامی گرامی بدمعاش اچھا شوکر والا کی سرپرستی کی اور اُسے اپنی عسکری جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے ووٹروں پر مسلط کیا ۔ چونکہ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام میں ووٹ بالواسطہ پڑتے تھے ، اس لئے اُن کو کنٹرول کرنے کے لئے معاشرے میں غنڈہ عناصر کی ضرورت تھی ۔ اسی روایت میں لاہور میں وارث نامی بد معاش  طلوع ہوا جس نے میرے معصوم مزاج دوست حبیب جالب کے خلاف  مقدمہ درج کروایا کہ وہ اُسے قتل کروانا چاہتا ہے حالانکہ جالب تو ایوب خان کی آمریت پر وار کر رہا تھا :
بیس روپیے من آتا
اس پر بھی ہے سنّاٹا
گوہر، سہگل ، آدم جی
بنے ہیں بِرلا اور ٹاٹا
مُلک کے دشمن کہلاتے ہیں
جب ہم کرتے ہیں فریاد
صدر ایوب زندہ باد ، صدر ایوب زندہ باد
ایوب خان حبیب جالب کے سُخن اور لحن کے تیز دھار آلے کو نہ سہ سکا تو  جالب پر وارث بد معاش کو چھوڑ دیا ۔

سرکار کے پالتو غُنڈے ایک طرح کی غیر رسمی پولیس ہوتی ہے ، جس کی ایک مثال ایک ڈیڑھ برس پہلے لاہور کا گلو بٹ رہا ہے ، جس نے پولیس کی پُشت پناہی میں گاڑیوں کے شیشے توڑے تھے  ۔ پولیس کے مُخبر ہوں یا سرکاری بد معاش ، اُن کی زندگی حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے ۔ جب حکمرانوں کے دن اچھے ہوں تو بدمعاشوں کی چاندی ہوتی ہے اور اگر حکمرانوں کا ستارہ گردش میں ہو تو  بدمعاشوں کے گلے میں پھندا پڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ بے انصاف معاشروں حکمرانوں اور غُنڈوں کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ غُنڈے معاشرتی تاروپود میں پڑی گانٹھیں ہیں ، جو اربابِ بست و کشاد  کے مزاج اور اخلاقی معیار کی نشان دہی کرتی ہیں ۔  لیکن اس قہر و غضب کی ایک اور بھیانک صورت مذہبی اداروں میں دیکھنے میں آتی ہے جہاں لٹھ بردار برقعہ پوش  جبر و اکراہ کی فوج بن کر معاشرے کو خوف زدہ کرتی ہیں ۔

المیہ تو یہ ہے کہ معاشرے میں طاقت کے اس غلط استعمال ، جبر و اکراہ اور تشدد کی  لعنت کو سب دیکھتے ہیں  : سیاستدان ، میڈیا ، دانشور ، صحافی ، علماء اور سول سوسائٹیاں دیکھتی ہیں مگر اُن کی دیکھنے والی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں ، جس کے نتیجے میں معاشرے میں منفی رویے چائے ، پان اور سگرٹ کی طرح رواج پا جاتے ہیں بلکہ گُٹکا بھی اُن میں شامل ہوجاتا ہے ، جو لاقانونیت کو قبول کرنے کا استعارہ ہے ۔ معاشرہ  بے حسی کا شکار ہو کر سائیکو پیتھ بن جاتا ہے ۔ اجتماعی صبر مفقود ہو جاتا ہے ۔ اور جب صبر نہ رہے تو خُدا اپنا دستِ شفقت قوموں کے سر سے اُٹھا لیتا ہے ۔  تب مذہب کا دم بھرنے والے معاشرے الحاد رسید ہو جاتے ہیں  کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے بے صبروں کا نہیں ۔  اور جہاں صبر نہ ہو وہاں خُدا نہیں ہوتا ۔ اس بے صبری اور تحمل سے محرومی کی ایک مثال آج ہی دیکھنے میں آئی کہ ایک ٹی وی چینل کے مطابق ایک شقی القلب باپ نے بیوی سے لڑنے کے بعد اپنے ڈیڑھ سالہ بچے کو ٹوکے سے کاٹ دیا ۔ یہ پرانی نہیں آج کی واردات ہے ، جس میں پوری قوم شریک ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری قومی بے رحمی ، سنگدلی اور سفاکی  کے ہاتھوں ہماری آنے والی نسلیں  موت کے گھاٹ اُتر رہی ہیں۔ لیکن علماء ، اربابِ اقتدار اور سیاستداوں کی بلا سے۔

یہ سب اقتدار کے اندھے ہیں جن کو کُرسی ہی کُرسی سوجھتی ہے ، قوم گئی بھاڑ میں ۔
یہ سب کیا ہے ؟ کرنی کا پھل ۔
 " اور اُن پر اُن کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اور جو لوگ اُن میں سے ظُلم کرتے رہے ہیں اُن پر اُن کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے ۔ اور وہ خُدا کو عاجز نہیں کر سکتے " ۔ الزمر ۔ ۵۱
 

loading...