عالمی دہشت گردی کا پیش منظر

برِصغیر پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت کی تثلیث کا معاشرہ ایک عجیب روحانی اور ذہنی کرب سے گزر رہا ہے ۔ چونکہ پاکستان برِ صغیر کے مُسلمانوں کی تہذیبی ، فکری اور مذہبی آزادی اور جغرافیائی خود مُختاری کا مطالبہ تھا ، اس لئے مجھے نظریاتی طور پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور بھارتی مسلمان٘ تین ٹُکڑوں میں بٹی ایک بد قسمت  قوم لگتی ہے جو ایک ہوتے ہوئے بھی تین خانوں میں بٹی ہے اور کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار بھی ہے ۔ اور اس پر طرہ یہ ہے کشمیر پچھلے اڑسٹھ سال سے آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے ۔

لیکن شومئ قسمت سے برِ صغیر کی اسلامی جغرافیائی تثلیث  میں کوئی ایک بھی ایسا خطہ نہیں ہے جہاں مسلمان آزادی ، خوشحالی اور امن سے من حیث القوم رہ رہے ہوں۔  البتہ حکمران طبقے اور اُن کے ہمنوا اس سے مستثنیٰ ہیں کہ اُن کا وسائل پر قبضہ ہے اور وہ اپنے اللوں تللوں کی بنا پر مزے میں ہیں ۔ برِ صغیر کے مسلمان مریں یا جیئیں اُن کی بلا سے ۔

یہ تینوں ملک عام مسلمان  کے لئے تین جغرافیائی قید خانے ہیں ۔ ان قید خانوں پر مسلط مکروہ قاتل مذہب کے نام پر قتل کرتے ہیں ۔ نہیں ، وہ مذہب کے نام پر قتل نہیں کرتے بلکہ مذہب کو ہی قتل کرتے ہیں ۔
اب یہ تازہ واقعہ جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی، بھارت کے ایک مسلمان کے قتل کی تھی جس کو گائے کا گوشت کھانے کی پاداش میں شہید کر دیا گیا ۔ اس قتل کا ردِ عمل شدید تھا ۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے گائے خوری کے ضمن میں جو ریمارکس دئے وہ یقیناً انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ کہ یہ مذہبی دہشت گردی کیوں ؟

اب اگر اس وقت اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے گڑے مُردے اُکھاڑے جائیں اور روس کو شکست دینے کے لئے امریکہ نے جہاد کے نام پر مسلمان ملکوں کے سریع الاعتقاد لوگوں کا جس طرح استحصال کیا ، اُس کا رونا رویا جائے تو فضول ہوگا ۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا ۔ اور پاکستانی عسکری پالیسی سازوں نے اپنے ہاتھوں سے جن جتھوں ، جیشوں ، لشکروں اور حربی تنظیموں کی بنیاد ڈالی تھی ، اب اپنے ہی اُگائے ہوئے دہشت گردی کے جنگلوں کو تلف کر رہی ہے۔ اور اُس کی ذمہ داری براہِ راست جنرل ضیا اور اُس کے کند ذہن ، کم عقل اور نا عاقبت اندیش مشیروں پر عائد ہوتی  ہے ۔

دہشت گردی وہ آگ ہے جو اس زمین پر بسنے والے ذہنوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور ردِ عمل کے طور پر دوسرے مذہب بھی جو کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے ہیں ، دہشت گردی کی وبا میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔
پچھلے کچھ برسوں میں بھارت میں ہندو دہشت گردوں کی سیہ کاری میں بھی بہت تیزی آئی ہے ۔ چنانچہ ایک ہندو دہشت گرد سری رام سینے نے ہندو دیوتائوں کی توہین کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی ، پبوں پر حملے کئے اور پبوں میں موجود عورتوں کو مارا اور پیٹا ۔ اس سے ملتے جُلتے واقعات اسلام آباد میں بھی رونما ہوئے، جب لٹھ بردار مسلمان رضاکاروں نے اسلام آباد کی ایک خاتوں پر فحاشی کا الزام لگا کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا، خود ہی فیصلہ دیا اور خود ہی اُس پر عملدرآمد کروانے کے لیے نکل پڑے ۔

بھارت میں ایک دانشور نے ، جن کا نام ایم ایم کلرگی تھا ، ہندوؤں کی بت پوجا کو سریع الاعتقادی قرار دیا تو اُنہیں اُن کے گھر کی سیڑھیوں پر قتل کر دیا گیا ۔ ان کے علاوہ ایک کمیونسٹ لیڈر گووند پنساری اور ایک ہندو مصلح تریندر دبھولکر کو بھی ہندو انتہا پسندوں نے ہلاک کر ڈالا ۔ یہ سب کچھ اُس بھارت میں ہو رہا ہے جو اپنے آئین کے سیکولر ہونے کا دعویدار ہے۔ لیکن  نریندر مودی اس صورتِ حال پر بالکل خاموش ہیں ۔ لگتا ہے گجرات کا قاتل اپنے قتل کے منصوبے کو مزید فروغ دینے کے لیے پوری تیاری کر چکا ہے اور آنے والے مہینوں میں  مذہب کے نام پر مزید قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔ 

ہماری حالت بھارت سے بھی دگرگوں ہے اور ہم  اس دہشت گردی کے ہاتھوں اتنے عاجز ہیں کہ اس کے خلاف دم مارنے کی مجال نہیں رکھتے ۔  یہ دہشت گرد  اتنے طاقتور ہیں کہ ان   کو سزائیں دینے سے ہماری عدالتیں بھی ڈرتی ہیں ۔ ہم سب دیکھ ہی  رہے ہیں کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قاتل اب تک اپنے انجام کو نہیں پہنچا۔  بلکہ  ایک ولی اللہ کی طرح اُس کی قدر افزائی کی جا رہی ہے ۔

ہمارے ہاں کالعدم تنظیمیں دہشت گردی کا ایک بہت بڑا مرکز ہیں ۔ وہ نت نئے ناموں سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ جرائم پیشہ لوگ مذہب کی مالا پہن کر ڈکیتی اور بھتہ اندوزی کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں ۔ بہت سے جرائم پیشہ لوگوں نے تو  مذہب کے لبادے میں رہزنی شروع کر رکھی ہے۔ لیکن موجودہ حکومتوں کے پاس اس صورتِ حال کے سدِ باب اور تدارک کا کوئی منصوبہ نہیں  اور نہ ہی اُن میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ حالات پر قابو پا سکیں ۔ ایسے میں عام آدمی جو مہنگائی ، بجلی کی قلت ، غربت ، بے روزگاری ، عدم تحفظ  اور شہری سہولتوں سے محرومی کی آگ میں جل رہا ہے ، انتہائی مایوسی کا شکار ہے۔ مگر میڈیا اپنے آقاؤں کی بات بنائے رکھنے کے لئے اس نعت کی پیروڈی میں لگا ہے کہ :
یہ سب تماہرا کرم ہے " آقا " کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے "

کیا بات بنی ہوئی ہے ۔ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر ہی نہیں ۔
پاکستان میں دہشت گردی کس سمت سے آتی ہے ؟ مشرق سے ، مغرب سے ، شمال سے ، جنوب سے ،  آسمان سے یا سمندر سے ؟ یہ کہیں سے نہیں  آتی ،  کسی سمت سے نہیں اتی۔ یہ ہمارے اجتماعی قومی ضمیر سے پھوٹی ہے اور ہم میں اتنی عقل ، اہلیت اور لیاقت نہیں کہ ہم سب مل کر اس  آگ کو بجھا سکیں ؟
نہ جانے کیوں مجھے اس وقت اچانک اقبال کی ایک نظم یاد آ گئی ہے۔  آئیے آپ بھی اس کی خواندگی میں میرے شریک ہوں :
قبر
( اپنے مُردے سے)
آہ ظالم ! تو جہاں میں بندہ ء محکوم تھا
میں نہ سمجھی تھی کہ ہے کیوں خاک میری سوز ناک
تیری میّت سے مری تاریکیاں تاریک تر
تیری میّت سے زمیں کا پردہ ء ناموس چاک
الحذر ، محکوم کی میّت سے سو بار الحذر
اے سرافیل ! اے خُدائے کائنات ! اے جانِ پاک !
 

loading...