حِجاب ۔۔۔۔ مرد کی نیچی نگاہ کا استعارہ

میں 9 ستمبر سے انگلستان میں تھا ۔ اس دوران اوسلو کی دو معروف اور  ذمہ دار سماجی  اور فکری تنظیموں ویژن فورم اور میرا سینٹر نے حجاب کے روز افزوں استعمال اور اُس کے ردِ عمل میں پیدا شدہ یورپی فکری اضطراب کے موضوع  پر ایک سیمینار  منعقد کیا۔ لیکن میں چاہتے ہوئے بھی اس سیمینار میں شریک نہ ہوسکا۔ تاہم اس مسئلے اور موضوع کی اہمیت میرے اعصاب پر مسلسل طاری رہی ۔

میں فی الحال نہیں جانتا کہ سیمینار کے شرکا اور مقررین نے کیا کہا اور نہ ہی میں اس سلسلے میں کوئی قیاس آرائی ہی کر سکتا ہوں۔  تاہم میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ حجاب سماجی ضرورت کے بجائے مذہبی فیشن اور مغرب کی نسائی آزادی کے خلاف ردِ عمل کا استعارہ بنتا جا رہا ہے۔  ہم ایک جدید مخلوط ، کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی معاشرت میں رہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کی مذہبی اور ثقافتی قدروں کا احترام لازم ہے تاکہ معاشرتی امن غارت نہ ہو۔ لیکن کچھ لوگ آزادئ اظہار کے نام پر معاشرتی امن غارت کرنا اور اقلیتوں اور اکثریت کے باہمی تعلق کو زہر آلود کرنا اپنا فرضِ منصبی خیال کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ  منفی جذبات کی رو میں بہ کر لفظ کو تیز دھار آلے میں تبدیل کر دیتے ہیں اور پھر ایک فریق دوسرے کو نفسیاتی چرکے لگانا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔

ایک مؤقف یہ ہے کہ حجاب عورت کی انفرادی آزادی پر قدغن ہے  جب کہ دوسرے مؤقف کے مطابق یہ عورت کے انفرادی  احترام کی علامت ہے جو مرد کو عورت کی عفت و عصمت کا احترام روا رکھنے کی یاد دہانی کراتا ہے ۔ حجاب مرد کی بے لگام نگاہ کو لگام دینے اور وحشی آنکھ کو مہذب بنانے اور سدھانے کے لئے ہے۔ چنانچہ قرآن کی سورہ ء نور میں مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا  ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی نیچی نگاہ نوعیت کے اعتبار سے وہ حجاب ہے جو عورت کو ہر  منفی  خواہش یا ترغیب سے محفوظ رکھتی ہے ۔ سورہ ء نور نےعورت پر  پردے کاحکم جاری کرنے سے پہلے مرد کو انتباہ کیا ہے کہ وہ پردے کی قدر افزائی کرے ۔ قرآن میں مرقوم ہے :
" قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظو فُروجھم " ۔ آیت ۳۰

مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی  شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ حکم مردوں کے لئے پہلے ہے اور عورت کے لئے بعد میں ۔ ایک اعتبار سے یہ مرد کے لئے پردے کا حکم ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کو تہِ حجاب رکھے ۔ اور پھر عورت سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کرے اور اپنے گریبان ڈھانپ کر رکھے ۔

اس معاملے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مرد نے اپنی نگاہ نیچی رکھنے سے تو  ہمیشہ گریز کیا ، مگر سارا حکم عورت کے سر تھونپ دیا۔ حالانکہ اصل پردہ مرد کی نیچی نگاہ ہے جس سے شرم ، حیا اور پاکیزگی  کی اقدار قائم ہوتی  ہیں ۔

مجھے مُلا نصر الدین کی ایک حکایت یاد آ گئی جو پردے پر ایک دل چسپ تبصرہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ مُلا نصر نے شہر کی سب سے بد صورت عورت سے شادی کی اور جب ملا کے حلقہ ء احباب کو علم ہؤا تو مُلا کے کچھ دوست اُن سے ملنے آئے اور بولے کہ اگر مُلا جی چاہتے تو اُنہیں بہتر رشتہ بھی مل سکتا تھا ۔  مُلا جی نے کہا کہ اںہوں نے یہ دُلہن اپنے مرد دوستوں کی " اونچی نگاہ " کے خدشے کے پیشِ نظر منتخب کی ہے ۔ اب مجھے تسلی ہے کہ جب میں گھر پر نہیں ہوں گا تو آپ میرے گھر کی کھڑکیوں میں تاک جھانک نہیں کریں گے کیونکہ دُلہن کی بد صورتی ہی پردہ ہے ۔
یہ مرد کی سائیکی پر ملا نصر ادلدین کا تبصرہ ہے جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مرد نے اپنی نگاہیں نیچی رکھنا نہیں سیکھا ۔

اس حکایت کے دوسرے حصے میں ملا جی کی دُلہن اُن سے پوچھتی ہے کہ ملا جی کے خاندان میں اُس کے محرم کون ہیں جن سے پردہ نہیں کرنا اور نامحرم کون ہیں جن سے اُسے پردہ کرنا ہے۔ تو مُلا جی نے کہا ، " دُلہن ! تم صرف مجھ سے پردہ کیا کرو ، کسی اور سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے " ۔

پردے کا حکم مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے کہ وہ ایک دوسرے پر غلط نظر نہ ڈالیں ۔  لیکن مرد اپنے حصے کی پردہ داری سے تو اجتناب برتتا ہے مگر شرم ، حیا اور نگاہ نیچی رکھنے کا سارا بوجھ عورت پر ڈال دیتا ہے ۔ وہ لڑکی اور عورت کو برقعہ پہنا کر یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے بڑا تیر مارلیا اور شریعت کے احکام بے چاری عورت پر نافذ کردئے جب کہ اصل میں یہ اُس کی بھو ل ہے ۔ کیونکہ برقعے کے اندر نگاہیں آزاد ہوتی ہیں اور وہ حجاب کی  اوٹ میں بلا روک ٹوک ہر اُس طرف بھی پڑتی ہیں جہاں نہیں بھی پڑنا چاہیے ۔
دوسری طرف مرد کی نگاہیں جب برقعہ پر پڑتی ہیں تو وہ برقعہ چاک انداز میں پڑتی ہیں اور اُس وقت خیال آتا ہے کہ گھر سے باہر عورت اور مرد دونوں کو برقعے میں ہونا چاہیے تاکہ اُن کی نظریں ایک دوسرے کی طبعی سرحدوں کی خلاف ورزی نہ کریں ۔

کوئی بیس برس پہلے میں نے پردے کے موضوع پر ایک کہانی لکھی تھی جس کا عنوان تھا ، " گرم دوپہروں کے حادثے " یہ کہانی " بیسویں صدی " دہلی میں چھپی تھی۔ اس میں لڑکا اپنی ماں سے کہہ رہا ہے کہ یہ عجیب انصاف ہے کہ لڑکیاں تو برقعہ پہن کر پوری انار کلی کے لڑکے دیکھتی پھریں اور بے چارے لڑکے برقعے میں لپٹے سیاہ بھوت کو  دیکھ کر لاحول پڑھتے رہیں ۔ لہٰذا ، بہتر یہ ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں  کے لئے برقعہ لازمی قرار دیا جائے تاکہ کوئی کسی کو نہ دیکھ سکے ۔

اور بھلا ہو ملا عبد العزیز کا جنہوں نے مسجد سے فرار ہونے کے لیے برقعے کا ایک نیا استعمال متعارف کروا دیا ہے ، جو اب مردوں اور عورتوں کے درمیان پردے کی مساوات رائج کر دے گا ۔ 
 

loading...