کُرپشن اور جہالت کا منظر نامہ

یہ ایک بے حد مصیبت زدہ قوم کا تذکرہ ہے۔ بے حد مصیبت زدہ بھی اور  انا اور احساسِ برتری کے کینسر کی مریض بھی ۔ لیکن وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ اُس کے سارے مصائب کا سبب اُس کی اپنی جہالت ہے۔  وہ اپنی انا کی بقا کی جنگ میں مبتلا ہے۔  لیکن نہیں جانتی کہ خود کو مصیبت میں مبتلا کرنے کے لئے  کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مصیبت اپنے ہی کھیتوں میں اُگتی ہے اور جہالت کی کھاد اُس کی پیداوار بڑھاتی رہتی ہے ۔

مصیبت کی فصل اُگانے کے لئے کسی خاص  قسم کے زرعی علم کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہر شخص اپنے گملوں سے لے کر اپنے گھروں کے پچھواڑے میں مصیبت اور دُکھ  کا بتھوا اور کنڈیاری اُگا سکتا ہے ۔
لیکن اس مصیبت سے نکلنا اور دکھ کے کانٹے چُن کر امن کے پھول کھلانا بہت کٹھن کام ہے  ۔ یہ کسی عمومی سیاسی لیڈر یا پیشہ ور مُلا کا کام نہیں بلکہ اس کے لئے کسی قائد اعظم کی ضرورت ہوتی ہے مگر قائدِ اعظم روز روز پیدا نہیں ہؤا کرتے بلکہ :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مُشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

میں بہت دنوں سے پاکستان کو درپیش مصائب اور لاحق عوارض کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں  اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب کوئی فرد اور اُس کی قوم زندگی  کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے تو  وہ حیات اور کائنات کے درمیان اپنے رشتے کو متوازن رکھنے میں ناکام ہو جاتا ہے ۔  مُصیبت معاشرے اور زندگی کی ٹھوس حقیقتوں  سے گریز کا ساخشانہ ہے ۔ قومیں اُس وقت مصائب کا شکار ہوتی ہیں  جب  باہمی ربط و ضبط  اور معاشرے کے مُختلف حصوں کے مابین توازن اور اعتدال قائم کرنے والی قوتیں کمزور پڑتے پڑتے معدوم ہو جاتی ہیں ۔

پاکستان میں ہر شخص  اپنے ملک کو بد امنی ، انتشار اور خلفشار میں مبتلا کرنے میں برابر کا شریک ہے۔ اور اِن لوگوں  کی تربیت وہ مذیبی ادارے کرتے چلے آئے ہیں جو  مذہب کے نام پر تجارت کرتے ہیں۔ اگر اُن کی  ناقص کارکردگی کی طرف اِشارہ کیا جائے تو وہ آڑھتی جنہوں نے مذہب کو ایک منافع بخش صنعت میں تبدیل کر رکھا ہے، شور مچانے لگتے ہیں کہ  دینی اقدار کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے ۔ اگر کسی بد عمل مسلمان کی بد عملی کی شکایت کی جائے تو وہ " اسلام خطرے میں ہے" کا شور مچانے لگتا ہے ۔

یہ ایک بے حد خطرناک صورتِ حال ہے ۔  کیونکہ ہم تبدیلی کا نعرہ لگاتے چلے آ رہے ہیں مگر تبدیلی لا نہیں سکے ۔ مگر کیوں ؟  وہ اس لئے کہ جو تبدیلی بیرونی سطح پر لائی جائے  وہ ظاہری تبدیلی ہوتی ہے اور معاشرے میں مثبت قدروں کے احیا اور ترویج  کا سبب نہیں بنتی ۔  باہر سے پارٹی کے جھنڈے کا رنگ بدل جاتا ہے ، نعرے بدل جاتے ہیں ، سیاسی تقریروں ، وعدوں اور بیانوں کا فارمیٹ بدل جاتا ہے لیکن سیاسی ، مذہبی اور عسکری پیکر کے اندر بیٹھا شیخ رشید ، مولوی فضل اللہ اور جنرل یحیٰ خان وہی رہتا ہے جو وہ دس برس پہلے تھا ۔  مسلمان وہی نام کا مسلمان رہتا ہے پورے خلوص سے صادق اور امین نہیں بن پاتا ، سیاسی لیڈر اپنی کرپشن اور جمہوریت فروشی سے باز نہیں آتا اور  وردیوں میں چھپے یحیٰ خان جیسے لوگ بھی بدستور موجود رہتے ہیں۔

اور پھر کبھی کوئی ریاض ملک کسی سابق جرنیل کو پانچ کروڑ کی رقم دینے کا ویڈیو ثبوت پیش کردیتا ہے تو خانہ پُری کے لیے ایک آدھ جرنیل کا محاسبہ بھی ہوجاتا ہے۔ ورنہ کردار کے اعتبار سے یہ سیاسی، مذہبی اور عسکری لیڈر ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔ اگر ہوتے تو چار مارشل لائیں اور چار جرنیلوں کا چار دہائیوں پر مشتمل دورِ اقتدار اس قوم کی قسمت کو بدل چکا ہوتا مگر ایسا ہو نہیں پایا ۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اطاعتِ خداوندی ، اطاعتِ رسول ﷺ اور آئین اور قانون کی باتیں بہت کرتے ہیں مگر ہمیں ان قوانین کو عملی جامہ پہنانا نہیں آتا کیونکہ ہماری خواہشیں اور ذاتی مفادات قانون اور آئین سے زیادہ  طاقت ور ہیں اور وہی  ہماری اصل حکمران ہیں ۔  ہم قرآن کی زبان میں خواہشِ نفس کے غلام ہیں مگر باتیں قرآن ، تفسیر ، فقہ ، حدیث اور تصوف کے مختلف سلسلوں کی کرتے ہیں جبکہ ہمارا عمل ان کے بالکل بر عکس ہوتا ہے۔

میں پاکستانی سیاسی اور مذہبی  لیڈروں کی باتیں سُنتا ہوں اور اُن کے اندازِ تخاطب ، اُن کی زبان و بیان کی  نجاست و کثافت اور بد گوئی پر حیران ہوتا ہوں کہ یہ کیسے مہذب مسلمان ہیں جو اپنی تقریروں میں دشنام طرازی ، بد گوئی اور بد تمیزی کو رواج دے رہے ہیں ۔
آج ہی مجھے فیس بُک پر ایک شیر کی تصویر دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی جس کی مقعد میں کرکٹ کا بلآ گھسا ہؤا تھا ۔ یہ کون سی سیاسی تہذیب ہے؟

اس طرح کی تصویریں دو نوں طرف سے جاری کی جارہی  ہیں جو نئی نسل کی اُس بیمار ذہنیت کا پتہ دیتی ہیں جو لیڈروں نے اُن کو ودیعت کی ہے ۔ اور یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب ک ملک کی سرحدوں پر پھر سے شورش برپا  ہے ، توپوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے اور سرحدی آبادیوں کے لوگ اپنے بچوں کی لاشیں اُٹھا رہے ہیں ۔ اور وہ لیڈر جو ملک کی حکومت چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے ، بیرونی دشمن کے دانت کھٹے کرنے اور اُسے سبق سکھانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔

سیاسی منظر اور بھی دھندلایا ہؤا ہے اور لا یعنیت کی جیتی جاگتی تصویر بنا ہے ۔ ایسے وقت میں جب ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے ، ہم اپنی فرقہ واریت کے مورچوں میں بند ایک دوسرے پر الزامات کے بم برسا رہے ہیں۔  یہاں کوئی جہادی ہے ، کوئی لبرل اور روشن خیال ہے ، کوئی وہابی دیو بندی ہے ، کوئی بریلوی ہے اور کوئی سول سوسائٹی کا چمپئین مگر  کوئی سیدھا سادہ  مسلمان اور پاکستانی نہیں ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ملک نہیں بلکہ بہت سے پاکستانوں کا چوں چوں کا مربہ  بن کر رہ گیاہے۔  مگر  یہ پاکستانی  لوگ نہ تو ہوش کی دوا ہی کرتے ہیں اور نہ ہی عقل کے ناخُن لیتے ہیں ۔ اور پاکستان ان نالائق پاکستانیوں کے ہاتھوں مصیبت میں مبتلا ہے ۔ 
 

loading...