قیادت کا بحران

بالآخر ایمپائر کی اُنگلی اُٹھی ، قومی اسمبلی کے حلقہ 122 کا انتخاب کالعدم قرار پایا۔  سردار ایاز صادق  قومی اسمبلی کی نشست سے محروم ہو گئے  اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ چھن گیا ۔ اب اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پی ٹی آئی پر تولنے لگی ہے اور ایاز صادق سپریم کورٹ میں اپیل کا عندیہ دے رہے ہیں ۔

پاکستان کا انتخابی عمل بھی عجیب ہے کہ پچھلے دو سال سے مسلسل چل رہا ہے ۔ استعفے بھی چل رہے ہیں مگر استعفوں کی منظوری ایک ایسا بحر المشکلات ہے جو عبور ہونے میں ہی نہیں آرہا ۔ پہلے یہ نا منظور شدہ  استعفے صرف پی ٹی آئی کے تھے مگر اب اس استعفا مہم میں ایم کیو ایم کے استعفے بھی شامل ہو گئے ہیں  ۔ اس سلسلے میں دل چسپ بات یہ ہے کہ  مستعفی ہونے والے اراکین اپنی تنخواہوں کے حصول سے مستعفی نہیں ہوئے تھے ۔  اسے کہتے ہیں چُپڑی اور دو دو ۔  استعفوں کی سیاست ضرور کرو مگر  تنخواہوں کے حصول سے دست بردار نہ ہو ۔  یعنی دام بھی کھرے اور جیبیں بھی گرم ۔

جیبیں گرم کرنا اور رکھنا سیاست کا جزو لا ینفک ہے ۔ دھرنا ہو یا انقلابی گھیراؤ ، دھرنا نشینی اور انقلاب بازی  کا باقاعدہ معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے ،  دھرنے کے لیے کارکن با تنخواہ ہوتے ہیں ۔ دھرنے میں شامل ہر خاندان کے افراد کی تعداد کے حساب سے اُجرت ادا کی جاتی ہے ۔ اب آج ہی اگلے دھرنے کا اعلان ہوگیا ہے اور عمران خان نے نوجوانوں کو  ممکنہ  دھرنے کے لیے تیار رہنے کا کاشن دے دیا ہے ۔

گذشتہ دھرنے سے سیاسی کارکنوں  نے ایک مؤثّر سیاسی تربیت حاصل کی ہے اور قوم نے ایک نہ بھولنے والا سبق سیکھا ہے ۔ لیکن  دھرنوں کے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اس دھرنا بازی میں قوم کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ دھرنے پر جو اخراجات اُٹھے تھے ، اُن کی رقم سے ملک میں ترقیاتی کام کئے جا سکتے تھے۔ پشاور کے علاوہ کراچی اور کوئٹہ میں بھی کینسر ہسپتال بنانے کی  بُنیادیں رکھی جا سکتی تھیں ۔ لیکن قوم الیکشن سے ری الیکشن کے گھن چکر میں غیر ترقیاتی اخراجات میں محصور ہو کر رہ گئی ہے ۔   جو رقم عوام کی فلاح کے لیے لگ سکتی تھی ، عوام کے حقوق سلب کرنے پر لگ رہی ہے ۔ اور اُس کا سبب یہ ہے کہ ملک کی انتظامی  مشینری کے مختلف یونٹ اخلاقی سر طان کا شکار  ہیں ۔ اور ان کی سرطان کی بیماری کے علاج کے لئےاب تک کوئی ہسپتال نہیں بنایا جا سکا ۔ 

عمران خان کے ساتھ جو لوگ جمع ہو رہے ہیں وہ سب موقع پرستی کے سرطان کا شکار ہیں ۔ اُنہیں دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو کی بیڑی میں " وٹے " ڈالنے والے جاگیردار یاد آتے ہیں جن کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا  نظریاتی مزاج ہی بدل گیا تھا ۔  پیپلز پارٹی ایک لبرل اور ترقی پسند  پارٹی کے بجائے روایتی قسم کی مسلم لیگ میں تبدیل ہو گئی تھی  اور فوجی حکمرانوں کی ٹکسال میں گھڑی جانے والی ساری مسلم لیگیں ، نوعیت کے اعتبار سے اقتدار لیگیں ہی تھیں۔ جن کا واحد مقصد کُرسی پوجا رہا ہے ۔

یہ صورتِ حال پاکستان میں قیادت کے اُس بحران کی نشان دہی کرتی ہے، جس میں مُلک قائدِ اعظم کی رحلت کے بعد مبتلا ہو گیا تھا ۔ دنیا نے دیکھا کہ قائد اعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی  کرسی دنگل شروع ہو گیا ۔ لیاقت علی خان قتل ہو گئے اور اُن کے بعد وزیر اعظموں کی آمد ورفت میں اتنی تیزی آئی کہ  اس ٹریفک پر بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل  نہرو نے وہ تاریخی  استہزائیہ جملہ کہا جو  پاکستانیوں کے لئے بے حد تکلیف دہ  تھا  اور جس کی باز گشت کافی دیر تک سنائی دیتی رہی ۔ جواہر لعل نے کہا: " پاکستان نے تھوڑے عرصے میں جتنے وزرائے اعظم بدلے ہیں ، میں نے تو  اُتنے پاجامے بھی  نہیں بدلے ۔"

ملک محلاتی سازشوں کا  شکار  تھا ، افسر شاہی اور جی ایچ کیو مل کر ملک کو نئے راستے پر ڈالنے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے ۔  چنانچہ فوج نے عدلیہ ، مُلا کریسی اور کرائے کے دانشوروں کے ساتھ مل کر ملک کو ہائی جیک کر لیا ۔ مجھے اسی کی دہائی کی وہ شام یاد آ رہی ہے جب میں لندن میں مشتاق لاشاری کے ساتھ مشہور وکیل  صبغت اللہ قادری  کے ہاں ایک سیاسی محفل میں شریک ہؤا، جس میں معراج محمد خان کے علاوہ غلام مصطفیٰ جتوئی بھی تھے ۔ جتوئی نے کہا ، " سائیں ! میں تو چھوٹا آدمی ہوں ، ایوب خان بہت بڑا آدمی تھا۔ ایک بار وہ شکار کھیلنے آیا تو میرا مہمان ہؤا ۔ اُس نے بتایا کہ مصطفیٰ ! کیا تمہارا خیال ہے کہ میں نے ایک دن میں مارشل لا لگایا ؟ ارے نہیں ، میں نے اس کے لئے کئی سال پلاننگ کی تھی " ۔

اقتدار پسند لوگ  ہمیشہ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں ۔ اقتدار کے ایوانوں میں کھینچا تانی اور زور آزمائی  مسلسل جاری رہتی ہے ۔ اُن کا سارا زور اقتدار پر قبضہ کرنے میں  لگا رہتا ہے ۔ عوام کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ۔  وہ ملکی ترقی کے منصوبے اس طرح نہیں بناتے جس طرح بننے چاہئیں ۔  سب کچھ کمیشن ، کِک بیکس اور اپنا حصّہ وصول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جینوئین اور حقیقی سیاسی قیادت پیدا ہی نہیں ہو سکی ۔  ایسی سیاسی قیادت جو قوم کا ایک تعمیری سیاسی مزاج بناتی ۔ ایک نو زائیدہ قوم کی تربیت کر کے اُس کو جدید زمانے کے چیلنج کا سامنا کرنے والی مہذب اور ہنر مند قوم بناتی ۔  مگر یہاں تو جو بھی آیا اس نے لیلائے اقتدار کا مجنوں بننا ہی پسند کیا ۔ 

چنانچہ وہ " سب سے پہلے پاکستان " جیسے نعرے ایجاد کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے رہے ، پاکستان کو قائد اعظم کا  پاکستان بنانے کی پرفریب باتیں تو کرتے رہے مگر یہ سب مل کر اڑسٹھ برس میں غریب مسلمانوں کا خوش حال پاکستان نہ بنا سکے ۔  یہ سب کچھ  قیادت کے اُس  بحران کا نتیجہ ہے جو پچھلے اڑسٹھ سال سے قومی سیاست کے درودیوار کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ لیکن  اس بحران  کے تدارک کا امکان دور دور تک نظر نہیں آرہا ۔  ہمارے یہ سیاسی اور عسکری ہیرو کشمیر کے قضیے کا تصفیہ تو کروا نہیں سکے مگر  انہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے دوزخ میں دھکیل کر ملک کی بقا کو داؤ پر لگا رکھا ہے ۔  ایسے میں پاکستان کا عام آدمی آسمان کی طرف دیکھتا ہے، کیونکہ پاکستان کے عام آدمی کو یقین ہو گیا ہے کہ قیادت کے ان تلوں میں تیل نہیں ہے ۔ لہٰذا ، امرتا پرتیم کے لہجے میں یہی بین کیا جا سکتا ہے :
اج آکھاں قائد اعظم نوں ، کِتے قبراں وچوں بول
تے اج کتاب قیادت دا کوئی اگلا ورقہ پھول
 

loading...