بلیک اکانومی اور دہشت گردی کی داستان

اوسلو میں میلہ لگا ہے ۔ الفریڈ نوبل امن سینٹر کے سامنے کھڑے دوست  کہتے ہیں کہ چلو کہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ چنانچہ ارشد بٹ ، خالد چودھری ، آفتاب وڑائچ ، انجم وڑائچ ،  ارم حسن اور میں  ٹاؤن ہال کے سامنے ایک ریستوران میں آ بیٹھتے ہیں ۔

سبز چائے کے گلاسوں میں پاکستانی پرچم کا سایہ پڑتا ہے اور ہم اچانک پاکستان پہنچ جاتے ہیں ۔ لیکن یہ وہ پاکستان تو نہیں ہے جسے ہم چھوڑ آئے تھے ؟ یہاں تو سب کچھ دگرگوں ہے ۔ دہشت گردی کی جنگ ۔ خود کُش حملے ۔ پنجاب کے وزیرِ داخلہ   کرنل شجاع خانزادہ کا بہیمانہ قتل جس میں اُن کا ڈیرہ مسمار کر کے ملبے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔

ہر طرف پھیلے خوف کے سائے دہشت زدہ کئے دیتے ہیں ۔ خالد کہتے ہیں کہ پاکستان کے دگرگوں حالات کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا ۔ کتنا وقت؟  کوئی نہیں جانتا ۔ میں جس نسل سے تعلق رکھتا ہوں وہ تو پاکستان کو جنگ اور دہشت گردی کی زنجیروں میں جکڑا ہؤا دیکھ رہی ہے ۔ ملک کرپشن ، مہنگائی اور کس مپرسی کے عالم میں ہے ۔ سیاست دان ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں ۔ میڈیا کے اکھاڑوں میں ایک دوسرے کو دھوبی پٹخنیاں دیتے ایک دوسرے پر چلاتے ہیں ۔ لگتا ہے وہ سب شرافت کی زبان بھولے ہوئے ہیں ۔

آفتاب وڑائچ کا کہنا ہے کہ کرپشن ہماری معاشرت کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے ۔ ہر آدمی اپنی اپنی نجی سطح پر کرپشن میں مبتلا ہے ۔ آفتاب حال ہی پاکستان سے لوٹے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ایک پھل بیچنے والا گلے سڑے پھلوں کے کریٹ پر تازہ پھلوں کا پردہ ڈال کر بیچ رہا ہے اور گاہک کو دھوکہ دے رہا ہو تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کرپشن ہمارا روز مرہ بن چکی ہے ۔

لیکن اس صورتِ حال میں تبدیلی کیسے ممکن ہے ؟  ارشد بٹ اس ساری صورتِ حال کو بلیک اکانومی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں ۔ پاکستان کی معیشت غیر دستاویزی بن کر رہ گئی ہے ۔  یہ ایک ایسی معیشت ہے جو بیرونی امداد اور زرِ مبادلہ پر چل رہی ہے ۔ ارم حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کوئی ٹیکس نہیں دیتا سوائے اُن سرکاری ملازمین کے جن کی تنخواہوں سے ٹیکس پیشگی کاٹ لیا جاتا ہے ۔

یہ گفتگو کرتے ہوئے سب چہرے ملول ہیں ۔ تشویش میں ہیں ۔ اچانک موت اور قتل کی خبریں زیرِ بحث آ جاتی ہیں ۔ ہمارے دوست پرویز کاظمی جو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہولم میں مقیم تھے ، اچانک اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے ۔ ہمارے یہ دوست بھی میری طرح فانی کے اس شعر کی  کی جیتی جاگتی تمثیل تھے :
فانی ہم تو جیتے جی وہ میّت ہیں بے گوروکفن
جس کو غربت راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

اپنے اس دوست کے لئے جو اس غربت کدے کو چھوڑ کر وہاں چلا گیا ، جہاں سے کوئی کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ میرے دل میں مغفرت کی دعا مقیم ہے:
آسماں تری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ ء نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

موت ، اور قتل ایک ہی کاغذ کے دو صفحے ہیں ۔ دو روز قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ شجاع خانزادہ کو جس بے رحمی اور سفاکی سے خُود کُش بمباری کا نوالہ بنایا گیا ، وہ ایک بہت ہی خطرناک سمت اشارہ کر رہا ہے ۔ میڈیا اور سیاسی حلقے جن تنظیموں کو کالعدم کہتے نہیں تھکتے وہ ایک یک طرفہ لیبل ہے کیونکہ کالعدم تنظمیں پہلے سے بھی زیادہ فعال ہیں ۔ اور اب ان کو زیرِ زمین کام کرنے کی کھلی آزادی ہے ۔

طالبان سازی اور لشکر آرائی نے اس قوم کا مزاج اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ اب ہر گھر میں دہشت گرد پیدا ہو گئے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ماں باپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ اُن کے بچوں کے ذہنوں میں دہشت گردی کی گدھ نے انڈے دے رکھے ہیں اور وہ نہ جانے کب ، کس وقت ، کس جگہ دستی بم کی طرح پھٹ پڑے ۔ شجاع خانزادہ کا بہیمانہ قتل اس بات پر دلالت ہے کہ حالات دفاعی اور تحفظاتی اداروں کے کنٹرول میں بھی نہیں ہیں ۔ کوئی ایک شخص بھی  دوسرے کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ وہ عوام دوست محبِ وطن ہے یا کسی  پاکستان دشمن کیمپ کا ایجنٹ ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے کئی واقعات ہو سکتے ہیں ۔ اللہ نہ کرے ۔

اس صورتِ حال کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ مذہب کے نام پر کیا جا رہا ہے ۔ مذہب  کے نام پر مذہب کی توہین کا ایک قبیح سلسلہ جاری ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ کس قاری ، مولوی یا خطیب کے رشتے کس کالعدم تنظیم سے جُڑے  ہیں ؟

اب قانون کے بعد اسلام کو ہاتھ میں لینے کا مذموم فیشن چل نکلا ہے ۔ منبر پر بیٹھنے والے رحمت اللعالمین ﷺ کے پیغام کو یکسر فراموش کر کے اپنے منصب کا بھاری معاوضہ وصول کر رہے ہیں اور اسلام کے نام پر اپنے ذاتی مقاصد حاصل کر رہے ہیں ۔

دو روز قبل ایک عجیب تجربے سے گزرنا پڑا ۔ چودہ اگست کے ایک جلسے میں ایک مولانا نے تلاوت سے پہلے ارشاد فرمایا کہ لوگ تلاوت اور ترجمہ سن کر ہنستے ہیں اور قرآن کا مذاق اُڑاتے ہیں  اور ایسا کرنا کفر ہے ۔ اس کے بعد تلاوت کے دوران وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر خواتین کو دیکھتے رہے ۔ اس پر ایک مہمان خاتون نے جو میرے سامنے بیٹھی  تھیں، مجھ سے پوچھا کہ ان قاری صاحب کو یہ یاد نہیں کہ تلاوت کرتے وقت اپنی نگاہیں ادب و احترام سے نیچی رکھنی ہیں ، اور یہ قرآن کی تلاوت کے آداب کی یہ پہلی شرط ہے ؟  ہم یہاں بیٹھنا نہیں چاہتے اور وہ اٹھ کر چل دیں اور چونکہ  وہ   ناروے میں ہماری مہمان  تھیں اس لئے مجھے بھی ان کا ساتھ دینا پڑا ۔

ان قاری صاحب کی یہ بات میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ قرآن کی تلاوت یا ترجمہ سن کر کون سا مسلمان ہنستا ہے۔ میں نے پچھلی نصف صدی میں ایسا مسلمان نہیں دیکھا جو قاری مذکور نے دیکھا  ہے۔ البتہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ  اسلام کا مذاق وہ لوگ اُڑاتے ہیں جو قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں مگر قرآن کے احکامات پر عمل نہیں کرتے ۔  اقبال نے کہا تھا :
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
 

loading...