پاکستانی معاشرت کا اخلاقی زوال

زوال ۔۔۔ نوعیت کے اعتبار سے عذاب کی ایک صورت ہے، جس میں طاغوتی طاقتیں معاشرت کے تارو پود کو جکڑ لیتی ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے کے تمام حصّے اور طبقے، مرد، عورتیں، بچّے، بوڑھے، اپاہج، معذور اور مُخنث تک ، بلا تخصیص مشکلات سے دو چار ہو جاتے ہیں ۔

مُشکلات کا عذاب ایک جادوئی ہزار پا ہے جو کئی کئی شکلیں بدلتا ہے اور طرح طرح سے انسانی امن، خوشحالی اور ترقی کو غارت کر دیتا ہے ۔ یہ انسانوں سے اُن کی زندگی کے وسائل چھین لیتا ہے۔  مال و دولت ہڑپ لیتا ہے۔ بیماریوں کی شکل میں حملہ آور ہوتا ہے لیکن اس کی سب سے مکروہ، منحوس اور زہریلی شکل اخلاقی زوال ہے ۔

مجھے اِس وقت  وہ  انگریزی ضرب المثل یاد آ رہی ہے جو چھٹی جماعت میں پڑھائی گئی تھی :
If wealth is lost , nothing is lost
If health is lost, something is lost
If character is lost, everything is lost

اِس ضرب المثل میں پنہاں حکمت کو پیشِ نظر رکھیں تو ہم ہر طرح سے برباد ہیں  کہ ہماری دولت کو ایک طرف آئی ایم ایف کے قرضوں کا اژدہا نگلتا چلا جا رہا ہے اور دوسری طرف منی لانڈرنگ ، بھتہ خوری اور کرپشن اسے ہم سے چھینتی چلی جا رہی ہے ۔

صحت  کا یہ حال ہے کہ ملک ہیپا  ٹائیٹس ، ڈینگی وائرس اور نگلیریا جیسی وباؤں کا شکار ہے ۔ جعلی ادویات اور عطائی ڈاکٹروں نے زندگی کے خلاف مورچے گاڑ رکھے ہیں ۔

اور کردار کی طرف نگاہ اُٹھائیں تو سامنے کھڑی بدکرداری ہمارا مونہہ چِڑاتی ہے اور قصور کے ہم جنس پرستی کے سکینڈل نے ہم پر بے حیائی کی مہر ثبت کر دی ہے، جس سے صاف عیاں ہے کہ کردار کھو کر ہم سب کچھ گنوا چکے ہیں ۔

ہمارے اخلاقی زوال کی یہ داستان نئی نہیں، بہت پرانی ہے ۔ یہ داستان ہماری معاشرت میں کرپشن کے ساتھ شروع ہوئی ہے اور پروان چڑھی ہے ۔ اس اخلاقی زوال کی جڑیں ہمارے مذہبی رویوں سے براہِ راست منسلک ہیں ۔ یہ لعنت وہاں سے آغاز ہوتی ہے جہاں قول اور فعل کا تضاد  منافقت کو جنم دیتا ہے ۔ منافقت ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہے اور اسلام کی تاریخ کا مطالعہ رکھنے والوں کو مدینے کے منافقِ اعظم عبد اللہ اِبنِ اُبّی کا نام ضرور یاد ہوگا ۔

حاٖفط شیرازی نے  جو فارسی کے معتبر ترین شعرا میں سے ایک ہیں ، اپنے عہد کے اخلاقی زوال کی داستان کو دو مصرعوں میں بیان کردیا تھا :
واعظاں ، کیں جلوہ بر محراب و منبر می کُنند
چوں بخلوت می روند ، آں کارِ دیگر می کُنند

واعظ ، مذہبی دانشور ہے ۔ وہ اپنے افکارِ عالیہ کا پرچار کرتا ہے مگر اُس کی عملی زندگی اُس کے وعظ  میں بیان کیے گئے نکات کی تردید ہوتی ہے۔  جس کی طرٖف حافظ نے اشارہ کیا کہ کہ مُلا کہتا کچھ اور ہے اور کرتا کچھ اور ہے ۔ اور یہ منافقت ہے جس کی سزا جہنم ہے ۔

مذہبی دانشوروں کے اس زوال کی طرف ہمارے پنجابی کے خوش بیان شاعر وارث شاہ نے بھی بڑے معنی خیز انداز میں اشارہ کیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
وارث شاہ ، وچ حُجریاں فعل کردے مُلّا جوترے لاؤندے واہیاں نوں

وارث شاہ ببانگِ دہل کہ رہے ہیں کہ مُلا نے اپنے حُجرے کو ہم جنس پرستی کا اڈہ بنا رکھا ہے ۔ یہ اشارہ واضح کرتا ہے کہ بد اخلاقی ہمیشہ مذہبی اقدار کے زوال کے باعث جنم لیتی ہے ۔ اور جب مذہبی ادارے اخلاقی زوال کا شکار ہوں تو باقی کیا رہ جاتا ہے ۔ ایک پرانی فارسی کہاوت میں کہا گیا ہے:
چوں کفر از کعبہ بر خیزد ، کُجا ماند مسلمانی
جب کفر کعبے سے اُٹھ کھڑا ہو تا مسلمانی کہاں رہ جاتی ہے 

اور ہمارے یہاں تو ہم جنس پرستی کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔  میر تقی میر کے شعروں میں عطار کے جس لڑکے کا ذکر ہے ، اُس سے دوا کے طالب آج بھی موجود ہیں  ۔ یہ روایت بہت قدیم سے چلی آتی ہے ۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دربار کا عیسائی شاعر ابونواس بھی اسی ہم جنسی روایت کا ادمی تھا ۔  مجھے ایک عربی شعر یاد آ رہا ہے جو اسی روایت کا غماز ہے :
رایت صبیاً علیٰ قصیر ، یخجل البدر والہلالا
فقلت ماسمک ، فقال لولو ، فقلت لی لی ، فقال لالا
"میں نے ایک حسین لڑکے کو دیکھا جس کا حسن ہلال اور بدر کو شرمندہ کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا ، تیرا نام کیا ہے ، اُس نے کہا موتی ، میں نے کہا میرے لئے ، اُس نے کہا نہیں ، نہیں ۔" 

یہ روایت دوبارہ پاکستان میں زندہ ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔  آج سے لگ بھگ پچاس برس قبل ایوب خان کے بنگالی وزیرِ مواصلات عبد الصبور خان  کے گرد افواہیں گردش کرتی رہی تھیں کہ وہ بھی ایک بنگالی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں  ۔ ان کے ساتھ اور بہت سی سیاسی شخصیات بھی اس داستانِ امرد پرستی میں شامل ہوتی ہیں ، جن کو پردہ نشین رکھنا پڑے گا۔  کیونکہ میرا رب ستار العیوب ہے اور مجھے بھی پردے رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔ وہ اس لئے کہ پردہ دری فتنوں کو جنم دیتی ہے اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے ۔

ہم جنسی کی روایت کے اس سمندر میں مدوجزر اُٹھتے رہتے ہیں ۔ کبھی ہم جنس پرستی کی لہریں عروج پر ہوتی ہیں اور کبھی بہت نیچے اُتر جاتی ہیں۔ مگر معاشرے میں قومِ لوط کی نمائندگی ہمیشہ رہتی ہے ۔ ایوب خان کے زمانے میں امرد پرستوں نے لاہور میں ایک کلچرل آرگنائزیشن قائم کی تھی جس میں شہر کے کالجوں کے خوشخط ، سمارٹ ، خوبرو اور نمکین لڑکوں کو جمع کیا جاتا تھا تاکہ اہلِ ذوق کی تسکین کا سامان ہو سکے ۔ ان اہلِ ذوق میں ، سیاستدان ، علماء ، مشائخ ، بائیں بازو کے باغی ، فن کار ، صحافی ، اداکار اور گلوکار تک شامل تھے ۔

لیکن جو صورتِ حال قصور کے حالیہ سکینڈل سے سامنے آئی ہے، وہ اخلاقی زوال کی بد ترین شکل ہے ۔ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے نام پر ایک ایسا بد نما داغ ہے جس کی سیاہی کئی جنموں کی عبادت سے بھی نہیں دھُلے گی ۔ یہ ایک بحرانی کیفیت ہے جو کچھ عرصہ بعد دھیمی پڑ جائے گی ۔ ممکن ہے کچھ لڑکوں کو سزا بھی ہو جائے اور کسی کا جرم کسی اور کے سر تھونپ دیا جائے۔  مگر اس بے حیائی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ کیونکہ فی زمانہ وہ مسلمان موجود ہی نہیں جس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہو ۔ یہ لوگ جو خود کو غزالی ، رازی اور ابنِ رشد سے کم نہیں سمجھتے، لعو ولہب کے میلے کے لوگ ہیں اور میلے کی رنگینیوں میں ایسے کھوئے ہوئے ہیں جیسے کوئی کافر آفاق میں گم ہوتا ہے اور وہ ہادئ برحق نظر ہی نہیں آتا جس کی نظر زلزلہ ء عالمِ افکار ہو اور جو اس قوم کی حالت کو بدلنے کا منتر جانتا ہو ۔
 

loading...