یہ مجاور اور یہ گورکن

پاکستان ، میرا  اور آپ سب کا پاکستان ، ہماری مملکتِ خُدادا دِ پاکستان ، مُلک کے بیس کروڑ  لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہے ۔ اس پاک سر زمین کے وسائل اور اثاثے سب کے سانجھے ہیں ، جس پر سب پاکستانیوں کا برابر کا حق ہے لیکن اِن وسائل پر سانپ بن کے بیٹھے لوگوں نے پاکستان کی معیشت کو اغوا کر رکھا ہے اور اس ملک کے وسائل کو صرف اس ملک کی اشرافیہ کے لئے مخصوص کر رکھا ہے ۔ 

اِن میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑی ڈھٹائی سے ملک کے غریب عوام کو خُدا اور رسول ﷺ کے مقدس ناموں پر لُوٹتے ہیں ، اُنہیں مذہب کے نام پر جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں ، چندے ،  زکوٰۃ اور صدقات جمع کرتے ہیں  اور اس پر طُرہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک سے امداد بھی لیتے ہیں۔ لیکن نہ تو اپنی آمدنی کا حساب دیتے ہیں اور نہ ہی دیانت داری سے ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ مذہبی صنعت کار ،  اپنے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اداروں اور اپنے مریدوں سے نذرانوں کی مد میں جو دولت جمع کرتے ہیں ، اُس کا حساب کیوں نہیں رکھا جاتا ؟

احتساب خُدا کا قانون ہے ۔ احتساب سے کوئی شخص بری الذمہ نہیں ہے ۔ آسمانی صحیفوں میں جس یومِ حساب کا ذکر ہے ، اُس کا اطلاق سب پر ہوتا ہے ۔ قرآنِ حکیم میں خُدا نے واضح طور پر یہ احکامات جاری کر رکھے ہیں کہ کہ جس دن فصل کاٹ کر اناج جمع کرو تو  اُس میں سے پہلے رب کا حصہ ادا کرو ، جس دن اپنے باغوں کا پھل توڑو  تو اُس میں سے پہلے اللہ تعالیٰ کا  مقرر کیا ہؤا حق اُن حق داروں کو ادا کرو جو مفلسی کی چکی میں پِس رہے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ جس دن تنخواہ لو یا اُجرت پاؤ تو  پہلے رب کو دو اور پھر خود لو ۔

چنانچہ دینی احکامات کی روشنی میں احتساب کا آغاز  مذہبی اداروں سے ہونا چاہیے ۔  مذہبی اداروں کے سربراہوں پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے خود کو احتساب کے لئے پیش کریں ۔ اس کام کے لیے انکم ٹیکس کا ایک باقاعدہ شعبہ ہونا چاہئیے جو مالی  نذرانوں کی آمدنی کا حساب رکھے اور اُس پر ٹیکس عائد کرے ۔

ملائوں اور پیروں کو  خفیہ ہاتھوں سے ملنے والے  مُٹھی گرم مسالے ، نقد نذرانے ، سونے چاندی اور مال مویشی کے چڑھاوے نہ تو انکم ٹیکس کے حساب میں آتے ہیں اور نہ ہی انکم ٹیکس کا محکمہ اس قسم کی آمدنی کا حساب رکھتا ہے ۔ اگر کبھی کوئی افسر  احتسابی کاروائی کی کوشش  کرتا ہے تو اُسے خُدا اور اور اُس کے ارضی نمائندوں  یعنی پیروں کی نا دیدہ  طاقت سے ڈرا کر خاموش کرا دیا جاتا ہے یا پھر وہ پیرخانوں کی “ پاکیزہ “ خفیہ آمدنی میں سے اپنا  متبرک بھتہ وصول کر کے کنارہ کش ہوجاتا ہے ۔

ہر چند کہ بعض معروف درگاہوں اور مزاروں پر محکمہ ء اوقاف کا قبضہ ہے  لیکن اس کے باوجود پیروں اور درگاہوں کے گدی نشینوں کا  کاروبارِ دریوزہ گری چلتا رہتا ہے ۔  وہ اپنے غریب مُریدوں کی جیبوں کی “ برکت “  سے دنیاوی دولت کے انبار لگاتے چلے جاتے ہیں ۔ اِن میں بیشتر کے لئے ( سب کے لئے نہیں) پیری مریدی ایک منافع بخش بھتہ اندوزی ہے جس میں پیر لُوٹتا ہے اور مریدانِ طریقت لُٹتے ہیں ۔ اور وہ لوگ جو پیروں سے فاصلہ رکھتے ہیں وہ ملا پر تکیہ کرتے ہیں اور اس کے علم سے برکات خریدتے ہیں ۔ بے چارے  سادہ لوح نمازی اپنی دنیاوی حاجتیں پوری کروانے کے لئے دعائیں خریدتے اور اُن کے نتائج یقینی بنانے کے لئے  باقاعدہ مالی سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔ چنانچہ ہماری معاشرتوں میں ایک طرف مُلّا ٹیکس رائج ہے اور دوسری طرف پیر بھتہ ۔

مذہبی اداروں کے چندے ، مالی امداد اور درگاہوں کے  نذرانوں کے نظام کا جائزہ لیا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ  وہ بھی دوسرے کمرشل اداروں کی طرح کام کرتے ہیں ۔ ان کی آمدنی جو کسی بھی محنت کا معاوضہ نہیں ہوتی ، صوفی و مُلا کی پر آسائش زندگی کی ضمانت بنتی ہے ۔

پاکستان کی اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں لگ بھگ پانچ کروڑ لوگ مذہب کے شعبے سے وابستہ ہیں جن میں جعلی پیر ، جعلی تعویذ فروش ، جعلی عامل  ، قل اعوذئے اور ملنگ شامل ہیں جو ملکی ترقی کے لئے تو کوئی کام نہیں کرتے مگر اُن کی پانچوں ہمیشہ  نذرانوں کے  گھی میں اور سر  اللوں تللوں کی کڑاہی میں ہوتا ہے ۔ وہ چُپڑی اور دو دو کھاتے ہیں اور مریدوں کے مال پر گلچھرے اُڑاتے ہیں ۔

ان میں سے بعض  کمرشل پیروں کی جائدادیں بڑی بڑی ، اُمرا کی طرح  کاریں لمبی لمبی  اور مافیا کی طرح زمینوں پر نا جائز قبضے کی داستانیں بڑی خوف ناک ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو اپنی سیہ کاریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے رفاعِ عامہ کے ڈرامے رچاتے ہیں اور عبد الستار ایدھی کی بے لوث خدمت کا سا تاثر پیش کرنے کے لیے میڈیا پر اشتہار بازی بھی کرتے ہیں۔ مگر نہ تو اپنا احتساب ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی آمدنی کا حساب پیش کرتے ہیں ۔

یہ لوگ پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام میں بھی عمل دخل رکھتے ہیں کیونکہ سیاست دان اور حکمران اُنہیں اپنے ووٹ بنک کا مدد گار سمجھتے ہیں اور اُن کے قابلِ مواخذہ اعمال سے چشم پوشی کرتے رہتے ہیں ۔

میری صوابدید کے مطابق پیری و ملائی ملکی سیاست کے دو ایسے کیمپ ہیں ، جن کی آمدنی کا کوئی حساب ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ٹیکس ہے۔  جس کی وجہ سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے اور عوام کی حق تلفی ہوتی ہے ۔  اور عوام کی حق تلفی مُلا کرے ، پیر کرے ، کوئی شیخِ مکتب کرے یا  کوئی مذہبی سیاسی جماعت کرے ، وہ نہ صرف خُدا اور رسول ﷺ کی غدار ہے بلکہ پاکستان کی دشمن بھی ہے ۔

میں پاکستان کے موجودہ وزیرِ خزانہ کو ٹیکس لگانے کی نئی راہیں بالکل بھی نہیں سُجھا رہا  بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صرف  اتنی گزارش کر رہا ہوں کہ اس  “ غیبی “ شعبے کی آمدنی اور اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھنے کا نظام وضع کر کے اسے ملکی معیشت کے لیے سود مند بنایا جائے ۔ اور اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کے مبلغِ علم کی چھان بین اور تحقیق بھی کی جائے جو جبہ و دستار اور گلیم و دلق میں اہلِ تصوف کا روپ دھارے  جیبیں کترتے ، زمینوں پر ناجائز قبضے کرتے اور حکمرانوں سے ناجائز مراعات لیتے ہیں  ۔

میں جو خود بھی نقشبندی صوفی روایت کا پیرو ہوں اس صورتِ حال کو بیان کرتے ہوئے بڑے کرب سے گزر رہا ہوں ۔ مجھے دور سے اقبال کی آواز سنائی دے رہی ہے :
قم باذن اللہ کہ سکتے تھے جو رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کَن
 

loading...