یورپی پنجاب کا ثقافتی منظر نامہ

سویڈن کی راجدھانی سٹاک ہولم سے اہلِ کارواں کی خدمت میں آداب !
پچھلے چند دن سے یورپی پنجاب کی یاترا جاری ہے ۔ برِ کوچک کے سے ترکِ وطن کر کے یورپ میں آباد ہونے والے پنجابی ، سندھی ، بلوچ اور پختون اپنے اپنے الگ الگ محلوں میں آباد ہیں  ۔ یورپی پنجاب کا ضلع سویڈن زندہ دلی کے اعتبار سے نارویجین ضلع سے زیادہ  خندہ خیز ، دل آویز اور راحت انگیز ہے ۔ 

مجھے اس کا تجربہ سٹاک ہوم میں رچنے والی شادی کی ایک تقریب میں شرکت کر کے حاصل ہؤا  ۔ اس تقریب میں شرکت سے اندازہ ہؤا کہ یہ شادی کا ہنگامہ کم اور بالی وڈ کا شو زیادہ ہے ۔  ہنگامہ کوئی بھی ہو، پاکستانی پنجابی مرزا غالب کے پرستار ہونے کے ناطے اُسی شعری روایت کے مطابق ہنگامہ برپا کرتے ہیں، جس کی بنا غالب کی فکر نے استوار کی ہے ۔ تقریب کا جوبن اپنے عروج پر تھا اور میں غالب کے اشعار معمولی ردوبدل کے ساتھ  گنگنا رہا تھا :
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
کوئی ڈھولا ، کوئی ڈھولک کوئی بھنگڑا ہی سہی

دل چسپ بات یہ ہے کہ برِ صغیر کی تقسیم سے زمین بھی تقسیم ہوگئی ، مسلمان بھی تین ٹکڑوں میں بٹ گئے لیکن کلچر تقسیم نہیں ہؤا ۔ سرحدوں کے دونوں طرف فلم کلچر نے لوگوں کو  ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ سیاسی اکھاڑے کی طرف نظر اُٹھائیں تو آج کی سیاسی دھماچوکڑی بھی بالی وڈ کے طلسم میں جکڑی نظر آتی ہے ۔ عمران خان سے لے کر شاہ محمود قریشی تک اور آصف زرداری سے بلاول تک گردنوں میں پٹکے یا پرنے ڈالے  بالی وڈ کے فلمی انداز میں ثقافتی یک جہتی کا اشتہار بنے نظر آتے ہیں ۔

شادی کی تقریب میں رقص و نغمہ کی جو محفل آراستہ کی گئی وہ شادی بیاہ کے اُن روایتی گیتوں سے، جو ڈھولک پر گائے جاتے ہیں ، بالکل الگ خالص بالی وڈ  کے رنگ میں رنگی تھی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ بالی وڈ ،  ہماری اُس نئی نسل کو ، جو  تارکینِ وطن کی یورپی بستیوں میں پلی بڑھی ہے ، اپنی آبائی سر زمین کی ثقافت سے جوڑ  کر رکھے ہوئے ہے ۔ میں نے دیکھا کہ ہماری یورپی پاکستانی نسل “ ساڈے ویہڑے آ ماہیا “ کے ترنم اور نغمگی میں نہ صرف خود شرابور ہے بلکہ اس  پنجابی لوک روایت کے نقوش اپنے ہم عمر یورپی دوستوں اور سہیلیوں پر بھی مرتب کر رہی ہے ۔

اس تقریب میں کچھ سویڈش نوجوان اور لڑکیاں بھی کڑھائی والے کرتوں اور پاجاموں میں ملبوس  شریکِ رقص تھے اور بڑی مہارت سے نرت کے بھاؤ بتا رہے تھے ۔

تقریب میں شریک  لگ بھگ تین سو تارکینِ وطن پنجابی پاکستانیوں کی غالب اکثریت لاہور سے تعلق رکھتی تھی۔  کراچی والے اس اجتماع کے آٹے میں نمک بھر تھے ۔  البتہ اہلِ گجرات کی عدم موجودگی بہت کھلی، کیونکہ گجرات کے بغیر تو تارکینِ وطن کا منظر نامہ مکمل ہی نہیں ہوتا اور وہ اس شادی میں موجود نہیں تھے۔

شادی کے براتیوں میں بہت سے دانشور بھی شامل تھے، جن میں سے بیشتر دولہا کی طرف سے آئے تھے ۔ ان میں پروفیسر اشتیاق احمد ، مسعود قمر ، سائیں سُچّا ، احمد فقیہہ اور آصف شہکار شامل تھے۔ یہ اس تقریب کا کرشمہ تھا کہ بہت سے پرانے دوستوں کو بہم ہونے اور گفت و شنید کرنےکا موقع ملا تھا ۔ میرے لئے یہ تجدیدِ ملاقات ایک واقعہ تھی کہ میں کئی دوستوں کو چار سال بعد دیکھ رہا تھا ۔

مجھے جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ سمندر پار پاکستانی جن لسانی ، ثقافتی اور نظریاتی رشتوں میں منسلک ہیں ، وہ دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔  اور ہماری نئی نسل کی جڑیں آبائی مٹی میں بہت گہری گڑتی چلی جا رہی ہیں ۔ پنجاب کے گیتوں کا رسیلا پن ونجھلی کی اُس مٹھڑی تان میں بسا ہؤا تھا جو خواجہ خورشید انور کی موسیقی اور نورجہاں کی جادو بھری آواز کے سحر کا البم بن کر باہمی رشتوں کی کتاب میں محفوظ ہے ۔

یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ہم من حیث القوم تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو کوششیں کرتے ہیں ، اُس کا مطلب شاید یہ  ہے کہ ہم ایک مخصوص ذہنی کیفیت دریافت کرنا چاہتے ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے امن آشنا ہو تاکہ وہ ارد گرد کی دنیا سے بھی  امن کا رشتہ استور رکھ سکے ۔

لوگوں کے باہمی رشتوں کی بنیاد وہ تعصبات ہیں جو ہم ایک دوسرے سے روا رکھتے ہیں ۔ ہم نے اپنے ذہن میں ایک دفاعی ریڈار نصب کر رکھا ہے ۔ ہم نے ایک دوسرے کا ایک خاکہ بنا رکھا ہے اور ایک دوسرے کا حسب مقدور تشخص تصویر کر رکھا ہے اور ہمارے رشتے براہِ راست نہیں ہوتے بلکہ ان خاکوں اور تشخصات کے مابین قائم فرضی  رشتے ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ  پنجابیوں اور پٹھانوں  نے ایک دوسرے کے بارے میں  امیج بنا رکھے ہیں اور  وہ ایک دوسرے کو انہی فرضی خاکوں کے حوالے سے ملتے ہیں ، حالانکہ ہر گزرتے پل کے ساتھ فرد میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے جسے یہ دو طرفہ تعصبات روک دیتے ہیں ۔

ہمارے ملک کے بارے میں یورپ کا میڈیا جو تصور پیش کرتا ہے وہ ہم تارکینِ وطن کا انفرادی تشخص نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے ہر ایک الگ صلاحیتوں سے لیس ہے۔ لیکن میڈیا کا بنایا ہؤا امیج ہم پر چپک کر رہ جاتا ہے اور میڈیا کی آنکھ سے ہر پاکستانی دہشت گرد نظر آتا ہے ۔

میں نے پاکستانیوں کی نئی نسل کو ، جو یورپ کے تعلیمی اور سماجی  نظام کی پیداوار ہے ،  ایک دور رس تبدیلی سے گزرتے دیکھا ہے اور مجھے اُمید بندھتی نظر آنے لگی ہے کہ ہمارا نیا پاکستان اس پاکستان سے مختلف ہو گا جو گدھے کے گوشت ، کرپشن کے زہر اور ملاوٹ کی غذا پر پل رہا ہے اور جس پاکستان کو ہر روز دہشت گردی کے طوفان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،  سڑگوں پر گرتی لاشیں گننی پڑتی ہے اور فرسودہ نظامِ حکمرانی کی چکی میں پسنا پڑتا ہے ، تبدیل ہو جائے گا۔

مجھے پاکستانیوں کی نئی نسل کی آنکھوں میں  ایک عجیب چمک نظر آئی ہے جو اس عیاری کی مصنوعی روشنی سے مختلف ہے جو لوگوں کو شیخ رشید ، شاہ محمود قریشی اور طاہر القادری کی دھوؤاں دھار تقریروں سے پھوٹتی نظر آتی ہے ۔ مجھے نئی نسل کے گستاخ اور بے باک انداز میں وہ محبت نظر آئی ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر بھائی چارے کے سچے رشتوں میں پرو سکتی ہے ۔ ان لوگوں میں ایک ایسی نسل شعوری ارتقا کی منزلیں طے کر رہی ہے جو صوفی و ملا کی فرسودہ اور روایتی فکر  اور نفسیاتی غلامی سے آزاد ہے اور جو دودھ کا دودھ اور پانی کا  پانی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
 پاکستانیوں کی نئی نسل کو  میراسلام !
 

loading...