دہشت گردی کی آکاش بیل

دہشت گردی آج کی پاکستانی معاشرت کا جزوِ لاینفک بن کر رہ گئی ہے ۔ ہر روز کہیں نہ کہیں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ یہ واقعات ہوائی اَڈوں پر ہوں ، کھُلی شاہراہوں پر ہوں ، ٹرینوں میں ہوں ، بسوں میں ہوں ، سکولوں میں ہوں ، مسجدوں میں ہوں یا عبادت گاہوں میں،  ہم نے اِنہیں بادلِ نا خواستہ قبول کرنا شروع کر دیا ہے ۔

دو اجنبی موٹر سائکل سوار  کسی سمت سے نمودار ہوتے ہیں اور کار میں بیٹھے مسافروں  پر تیزی سے فائرنگ کر کے چلتے بنتے ہیں ۔ اعلیٰ مرتبے اور عہدوں پر فائز شخصیات سرِ راہے ماری جاتی ہیں لیکن اُن کے قاتل کبھی گرفتار نہیں ہوتے ۔

اس وقت دہشت گردی کی جو واردات میرے لئے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے ، وہ اُس کسٹم انسپکٹر اعجاز چودھری کا قتل ہے ، جس نے منی لانڈرنگ کیس میں ملوث ماڈل گرل ایان علی کو گرفتار کیا تھا ۔ وہ عدالت جس نے ایان علی کو ضمات پر رہا کیا ہے ، کسٹم انسپکٹر کے بارے میں سوال تک نہیں اُٹھایا کیونکہ ایسے قتل دبے رہنے کے لئے ہوتے ہیں، جو بالآخر عدالتی نظام  کی بے حسی کا شکار ہو کر طاقِ نسیاں کی زینت بن جاتے ہیں ۔ تاہم اس سمے یہ قتل عدالتی نظام کے لئے ایک سوالیہ نشان بنا  اپنے خون کا حساب مانگ رہا ہے ۔ یہ خون پوچھ رہا ہے کہ کیا عدالتی نظام بھی جرائم پیشہ مافیا کے تابع ہے ؟

حیرت ہے کہ چند نا معلوم افراد  کہیں سے نمودار ہوتے ہیں اور ایک سرکاری اہلکار کو گولی مار کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن میڈیا اس خون کو  تو شیرِ مادر سمجھ کر پی جاتا ہے لیکن منی لانڈرنگ ہیروئین کا ڈنکا دن رات بجا تا رہتا ہے ۔

آخر یہ کیسی تہذیب ہے ؟ یہ کون سا معاشرتی نظام ہے جو اسلام جیسے عظیم مذہب کی چھتر چھایا میں پروان چڑھا مگر اُس کی باگ ڈور جرائم پیشہ مافیا کے ہاتھ میں ہے اور حکومت مونہہ دیکھ رہی ہے ۔ حیرت  تو یہ ہے کہ جس مذہب میں ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہو ، اُس کے ماننے والے ایسے گھنائونے جرائم میں کیوں ملوث ہیں ۔ قتل کی وارداتوں کو پیشِ نظر رکھیں تو جو سوال میرے ذہن میں جنم لیتا ہے ، وہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان آدم کُش کیوں بن گیا ہے۔ وہ اپنی ہی نسل کا بیری کیوں ہے ؟
اقبال نے شاید اس بھیانک صورتِ حال کا ادراک بہت پہلے کر لیا تھا اور کہا تھا :
ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہر یاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے

انسان بنیادی طور پر شکاری ہے ۔ وہ اپنی فطرت میں سبزی خور نہیں ہے۔ وہ ہزاروں سال تک گوشت خور بلکہ آدم خور رہا ہے ۔ آدم خوروں کی وہ کہانیاں جن میں  “ آدم بُو “  کی بانگ سنائی دیتی ہے ، مجھے اُس وقت حقیقت لگتی ہیں  جب میڈیا میں یہ خبر سنائی دیتی ہے کہ پنجاب کی کسی بستی میں قبروں سے تازہ مُردے نکال کر کھانے والے مردار خور گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ قدیم قبائلی جنگوں میں جنگی قیدیوں کو بھون کر کھانے کی داستانیں ملتی ہیں اور یہ ساری باتیں انسان کے لاشعور میں مرقوم ہیں ۔

لوگ بالعموم اپنی اپنی ذات سے عدم اتقاق میں رہتے ہیں ۔ یہ مجبوری اُن میں مسلسل غصے کی آگ سلگاتی رہتی ہے ۔ وہ اپنی مجبوری اور نا آسودگی سے بھاگ کر مذہب اور نظریے کی پناہ گاہ تلاش  کرتے ہیں ۔ مگر وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ جسے وہ مذہب کہ رہے ہیں ، وہ سچ مُچ کا مذہب ہے یا محض سریع الاعتقادی ، اور جسے وہ نظریہ کہ رہے ہیں وہ نظریہ  ہے یا فکری سراب  ۔ چنانچہ لوگوں کے اندر غصہ اور غیض و غضب جمع ہوتا رہتا ہے جس کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلتا ہے ۔

تقسیمِ ہند کے وقت  آبادی کی نقلِ مکانی کی غیر اعلان شدہ جنگ میں قتلِ عام ،  سن اڑتالیس میں کشمیر  پر قبائلی یلغار ، رن کچھ کی لڑائی ، پینسٹھ کی لڑائی ، سن اکہتر کی جنگ اور پھر کارگل ۔ اس کے بعد ایک اور باقاعدہ جنگ کی تجویز  ہمارے نام نہاد دفاعی تجزیہ کار زید حامد نے پیش کی کہ بھارت اور پاکستان کے مابین ایک اور جنگ ہونی چاہئیے ۔ وہ جنگ تو اب تک نہیں ہو سکی لیکن زید حامد سعودی عرب میں دھر لئے گئے۔ میں نہیں جانتا کہ زید حامد  پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیس کے کس کیمپ کی بچھائی شطرنج  کے مہرے ہیں ، مگر اُن کا کردار بہت پراسرار رہا ہے ۔

کسی معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں ۔ چنانچہ دہشت گردی بھی معاشرے کی دوسری مکروہات از قسم کرپشن ، بھتہ خوری ، منی لانڈرنگ ، رشوت ستانی ، جعلسازی ، نا انصافی اور لاقانونیت سے پوری طرح جُڑی ہوئی ہے ۔  ہر روز رونما ہونے والے یہ مکروہ واقعات بتاتے ہیں کہ معاشرے کے مختلف حصّے ایک دوسرے  سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ اور یہ اس لئے ہے کہ  معاشرے کا پرانا نظام  ، فرسودہ  نظم و ضبط  ، باسی اخلاقیات  ، غلط مذہبی عقائد  اور میڈیا لوگوں کے ضمیر پر اثر انداز ہونے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔

ایسی صورتِ حال میں لوگوں کو قتل کرنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جا رہی ۔ اس لئے کہ جہاں ایٹمی بلاؤں کو رومانوی  موڑ دے کر باعثِ فخر سمجھا جانے لگے اور ایک دوسرے کو تہس نہس کرنے کے عندیے ٹی وی کے  بحث مباحثوں میں روز دئے جاتے ہوں ، وہاں آدمی کی زندگی کی  قیمت اشیائے ضرورت کے برابر مقرر ہو جاتی ہے ۔  چنانچہ سکول میں بچوں کو  قتل کرنا ، گھروں میں بیٹھی نوجوان لڑکیوں کو اپنی جہالت کی سولی پر لٹکا دینا ، رشتہ نہ ملنے پر لڑکی کے مونہہ پر تیزاب پھینک دینا  ، کم سن بچوں کو آم توڑنے پر لاٹھیوں سے مار مار کر ادھ مؤا کر دینا  ، ایک ایسے معاشرے کی تصویر اجاگر کرتی ہے جو انسانی اقدار  کے پیڈسٹل سے بدستور گرتا چلا جا رہا ہے ۔

ایسے معاشرے کو از سرِ نو تعمیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ازسرِ نو تعمیر کے لئے پرانی بنیادیں مسمار کرنی پڑتی ہیں  ۔ رومی کہتے ہیں :
ہر بناے کُہنہ کآباداں کنند
اول آں بنیاد را ویراں کُنند

اور پرانی بنیادیں مسمار ہو رہی ہیں ۔ جانے کہاں کہاں سے اسلحہ درآمد کر کے دہشت گردوں کو لیس کیا جارہا ہے ۔ شاید یہ وہ اسلحہ ہے جو  یورپ اور امریکہ کے جنگی معیار کے مطابق نہیں رہا ، ناکارہ ہو چکا ہے۔  اُسے ٹھکانے لگانے کے لئے دیشت گردی کے بھاڑ میں جھونکا جا رہا ہے ۔ مجھے تو یہ تیسری عاملی جنگ کی ریہرسل سی لگتی ہے ۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم معاشرے کی انسانی بنیادوں کو  تبدیل کر کے امن کو اپنی علاقائی حقیقت بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں  اور اب فرضی نظریوں  کے تقدس کی آڑ میں آپس میں لڑ رہے ہیں  ۔   دہشت گردی کا عفریت  ہم سے تسخیر نہیں ہو رہا ۔ انفرادی تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ ہمارے انتظامی ، عسکری اور مذہبی حکمران  پرانی اور روایتی حکمتِ عملی کے قصیدے گا رہے ہیں ۔  دہشت گردی کے خاتمے کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں ۔

اگرچہ اعلانات کے ذریعے اُمیدوں اور توقعات  کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں مگر  خطرہ اس بات کا ہے کہ جس طرح پچھلے اڑسٹھ سال سے انسانی قدروں کا جو زوال کا جاری ہے ، وہ کہیں ہمیں بنگلہ دیش کی سی کسی صورت  سے دو چار نہ کردے ۔  ہم اتنے سادہ دل ہیں کہ  اپنی ذمہ داری خُدا پر ڈال کر خود کو سبکدوش سمجھنے لگتے ہیں ۔

دہشت گردی کا چرخہ چلتا رہتا ہے ، اور ہم دعاؤں ، تقریروں اور سیاسی بیانوں کے سہارے اس کا تکلا توڑنے کی خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں ۔ حالانکہ دعاؤں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے  ۔ اور عمل کے لئے اُس باعمل انسان کی ضرورت ہے جسے قرآن نے خلقِ جدید کہا ہے ۔ ماڈرن مسلمان جو اس کائنات کے کُن کے اسم کو فیکوں کے عمل سے ہمکنار کر دکھائے ۔  لیکن کب ؟

یہ زمین اس انتظار میں ہے کہ دہشت گردی کی آکاش بیل کا قلع قمع ہو اور زندگی امن کی انگڑائی لے کر ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکے ۔
 

loading...