تبدیلی کہاں سے آئے گی؟

بہت پرانی بات ہے یہ۔ اتنی پرانی جتنی پرانی مشرقی پاکستان کی وفات ۔
اتوار کا دن تھا ۔ ابھی دن کے گیارہ بجے ہوں گے۔ میں انارکلی بازار کے بیچوں بیچ بائبل سوسائٹی سے ملحق فُٹ پاتھ پر آراستہ  پرانی کتابوں کے بازار تک  پہنچا تو سامنے وہ طوفان کھڑا تھا جس کا نام حبیب جالب  تھا اور اب تک ہے ۔ شیو بڑھی ہوئی ، چہرے پر عجیب سی ملگجی اُداسی ۔ میں نے حال پوچھا تو تُنک کر بولے کہ یہ لاہور ہائی کورٹ اور داتا گنج بخش دونوں میرے بڑے خلاف ہیں ۔

وہ کیسے ؟ میں نے پوچھا
جالب نے تلملا کر کہا کہ لائل پور ( موجودہ فیصل آباد) سے جو بھی  لاہور ہائی کورٹ میں تار یخ بھگتنے آتا ہے وہ بھی میرے گھر قیام کرتا ہے اور جو داتا صاحب سلام کرنے آتا ہے وہ بھی رات میرے ہاں ہی ٹھہرتا ہے۔
مگر اِس وقت مسئلہ کیا ہے ؟ بصد نیاز پوچھا
اس وقت نظریہ ء پاکستان خطرے میں ہے ۔
کیا مطلب ؟
مطلب یہ ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے ۔

بھوک تو سب کو لگتی ہے لیکن ایک لوئر مڈل کلاس کے شاعر کی بھوک ، ایک میڈیا انڈسٹری کے مالک کی بھوک  ، ایک سیاستدان کی بھوک اور ایک مُلا کی  بھوک،  سب الگ الگ شناخت اور کیفیات کی حامل ہوتی ہیں۔ لیکن ان سب میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان سب کا تعلق براہِ راست نظریہ ء پاکستان سے بنتا ہے اور وہ یوں کہ نظریہ ء پاکستان  ، پاکستان میں  تمام مراعات یافتہ اشخاص کے اپنے اپنے مفادات کا نام ہے ۔

اس سے پہلے کہ میں دوبارہ  لاہور پہنچوں ، چندے  ناروے گھوم لیتے ہیں  ۔
 کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ ایک پاکستانی گلوکار جو خیر سے اب سیاستدان بھی ہیں، ایک فیسٹیول میں گانے کے لیے ناروے بلوائے گئے ۔ جب اُن کو معاوضے کی ادائیگی کا مرحلہ آیا تو اُن کا اصرار تھا کہ اُنہیں معاوضے کی رقم بغیر کسی رسید کے “ کالی “ ہی دی جائے ۔ جس کا کوئی حساب حیطہ ء تحریر میں نہ لایا جائے ۔ فیسٹیول کے مہتمم کا اصرار تھا کہ چونکہ اںہیں یہاں اس پیسے کا حساب دینا ہوتا ہے، جو وہ معاضے کے طور پر ادا کرتے ہیں اس لئے رسید تو ہوگی ۔ گلو کار بضد تھا کہ پیسے اُسے چھپا کر  میز کے نیچے سے دئے جائیں تاکہ انکم ٹیکس والوں کی نظر نہ پڑے ۔

یہ ٹیکس چوری پاکستان میں پھیلی ہوئی بہت پرانی بیماری ہے ۔ چند برس ادھر ایک اور پاکستانی گلو کار بھارت میں پکڑے گئے تھے، جن پر بھی الزام تھا کہ اُنہوں نے اپنی کمائی پر ٹیکس ادا نہیں کیا ۔

اب تازہ ترین کہانی ڈی جے بٹ کی ہے جس کی پی ٹی آئی کے دھرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انکم ٹیکس نے لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ روپے ٹیکس طلب کر لیا ہے۔  ڈی جے بٹ کا کہنا ہے کہ اُسے پی ٹی آئی نے معاوضے کی رقم ادا ہی نہیں کی ۔ کتنی رقم ؟ شاید میں نے غلطی سےاٹھارہ کروڑ روپےسنا ہے مگر ہو سکتا ہے میں نے غلط سنا ہو ۔ لیکن جس رقم پر ڈیڑھ کروڑ ٹیکس مانگا گیا ہے وہ کتنی ہو سکتی ہے؟ چونکہ میں  روایتی مسلمانوں کی طرح حساب میں کمزور ہوں اس لئے بہتر یہ ہے کہ ٹیکس چوری کے کسی ایکسپرٹ سے پوچھا جائے کہ ڈی جے بٹ کا دھرنے کا بل کتنا ہوگا ۔

بات سے بات نکلتی ہے اور کہانی سے کہانی جنم لیتی ہے ۔
یہ لاہور کے ایک بہت پرانے اخبار کے مالکان کا قصہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کس طرح  اخباری ادارے اپنے ملازمین اور انکم ٹیکس کے محکمے کو چکمہ دیتے ہیں ۔ میرے ایک دوست تھے حبیب اللہ اوج  ۔ اپنے وقت کے معروف صحافی تھے ۔ ۔ وہ مذکورہ اخبار کے ملازم تھے ۔ جب ایوب خان کے زمانے میں بی ڈی سسٹم رائج ہؤا تو بنیادی جمہوریت کی تشہیر کے لئے ایک ہفت روزہ نکالا گیا  ۔ ہفت روز کا نام تھا “ بنیادی جمہوریت “  ۔ حبیب اللہ اوج اپنی سابقہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر “ بینادی جمہوریت “ کے ایڈیٹر بن کر چلے گئے ۔ اخبار نے انہیں رُخصت تو کر دیا مگر اُن کے پراویڈنٹ فنڈ کی رقم اںہیں ادا نہیں کی۔ جبکہ انکم ٹیکس کے دفتر کو اطلاع دے دی کہ پروایڈنٹ فنڈ ادا کر دیا  گیاہے ۔

انکم ٹیکس والوں نے اوج صاحب سے اُس آمدنی  کی رقم پر ٹیکس طلب کر لیا ، جو ان کو ادا ہی نہیں کی گئی تھی۔ اوج صاحب انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ  اور اخبار کے درمیان فٹ بال بن کر رہ گئے ۔ دریں اثنا  اُس اخبار کے ایڈیٹر کا انتقال ہوگیا جس کے ذمے رقم واجب الادا تھی ۔ ایڈیٹر کی میت جب دفنانے کے لئے میانی صاحب لائی گئی اور جنازے کے موقعے پر جنازہ خواں نے استفسار کیا کہ میت کے ذمے کوئی قرض تو نہیں تو اوج صاحب نے اپنے پراویڈنٹ فنڈ کا مطالبہ کر دیا ۔ اس پر ایڈیٹر مرحوم کے بھائی نے کہا کہ یہ قرض کسی شخص پر نہیں ادارے پر ہے اور وعدہ کیا گیا کہ قرض ادا کر دیا جائے گا جو بعد میں کئی قسطوں میں ادا ہؤا ۔

اس اخبار نے مال روڈ پر اپنے دفتر کی کئی منزلہ عمارت تعمیر کر رکھی ہے۔  جو شیخ ریاض اینڈ ایسوسی ایٹس نے بنائی تھی ۔ لیکن کنسٹرکشن کمپنی  کو اخبار کے مالکان نے چند ہزار روپے دے کر ادائیگی بند کر دی اور جواز یہ پیش کیا کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص میٹریل لگا ہے ۔ مقدمہ عدالت میں چلا گیا ۔ جب بھی اس مقدمے کی تاریخ پر کاروائی ہوتی تو کسی اخبار میں اس کاروائی کو چھپنے ہی نہ دیا جاتا ۔ کنسٹرکشن کمپنی کے مالک کا بیٹا میرا دوست تھا ۔ اس نے مجھ سے اس ظلم کی کہانی کہی تو میں نے مُنُو بھائی سے بات کی جو “ امروز “ میں تھے ، اور اُن کی مداخلت اور اعانت  سے  مقدمے کی کاروائی امروز میں ایک آدھ بار ہی چھپ سکی ۔ کنسٹرکشن کمپنی کے مالک شیخ ریاض محولہ بالا اخبار کے بانی ایڈیٹر  کے دوست تھے جن سے قرض لے کر ایڈیٹر نے اپنا اخبار تقسیم سے پہلےہفت روزہ کے طور پر شروع کیا تھا جو بعد میں روزنامہ بنا دیا گیا ۔ یہ تھا ایک دوست کے احسان کا بدلہ جو ایڈیٹر نے چکایا ۔

یہ واقعات پاکستان کے متمول طبقے کی اخلاقیات کا آئینہ ہیں کہ کس طرح نظریہ ء پاکستان کے محافظ اپنے پیٹ کے محافظ ہوتے ہیں ، جن پر جالب نے طنز کی تھی ۔

یہ کرپشن کا کینسر ہے جو پاکستان کے تمام شعبہ ہائے زندگی کو  کھاتا چلا جا رہا ہے  ۔ مذہبی اداروں سمیت  کوئی ادارہ ایسا نہیں جو اس بیماری سے بچا ہؤا ہو ۔

علاوہ ازیں پاکستان میں اوپر کی آمدنی کا ایک باقاعدہ تصور شروع ہی سے رائج رہا ہے ۔  جسے “ فضلِ ربی “ کا نام بھی دیا جاتا  رہاہے ۔ یہ “ مُٹھی گرم مسالہ “ سرکاری دفتروں ، یونیورسٹیوں ، کالجوں ، ہسپتالوں ، ہوائی اڈوں ، راشن ڈپوؤں ، تھانوں، عدالتوں اور اخباروں میں یکساں مقبولیت سے رائج ہے ۔ شریفوں کی حکومت میں نام کے شریف تو بہت ہوتے  ہیں مگر سچ مُچ کا شریف نا پید ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے  پاکستان ٹیکس چوروں، رشوت خوروں اور بد عنوانوں کی جنّت ہے۔ اور  ایسی جنت میں انتخاب کے ذریعے تبدیلی کا خواب دیکھنا بجائے خود عوام سے   دھاندلی  کرنا اور اُنہیں دھاندلی کے  بُخار میں مبتلا کرنا ہے ۔

یہ عوام کے ساتھ صریح دھوکہ ہے ۔ اور جب صورتِ حال ایسی ہو تو تبدیلی کہاں سے آئے گی ؟؟؟
 

loading...