این جی اوز سے این جی ایز تک

پاکستان فی زمانہ مذہبی انار کی کا سب سے بڑا گہوارہ ہے ۔ اِس مملکتِ خُداداد کو  غیر مذہبی فرقے مشرف بہ تفرقہ کرتے ہیں ، غیر سرکاری  تنظیمیں اس کے اِدارے چلاتی ہیں اور غیر سرکاری افواج  اِس کی حفاظت کرتی ہیں ۔ چنانچہ نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز کے ساتھ  نان گورنمینٹل آرمی کا تذکرہ  ضروری ہے تاکہ حق داروں کو اُن کا  جائز حق دیا  جا سکے ۔

پاکستان میں یوں تو غیر سرکاری افواج کی چھاؤنیاں بہت ہیں مگر اِن فوجوں کے دو جرنیل اپنی انفرادیت اور پا مردی کی بنا پر ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں ۔ اِن میں سے ایک حافظ سعید ہیں ، جنہوں نے جنگ کے لئے گھوڑے پال رکھے ہیں۔  حالانکہ یہ کیولری رجمنٹ یعنی سوار دستوں کا زمانہ نہیں ہے ۔ البتہ اب گھوڑے گھڑ دوڑ میں استعمال ہوتے ہیں۔ چوگان کے میدان مارنے کے لئے دوڑائے جاتے ہیں یا تانگے میں جوتے جاتے ہیں۔

دوسرا غیر سرکاری جنگی ہیرو “ دی ہولی وار جرنیل زید حامد ہیں “ ، جو اِن دنوں سعودی جیل میں بیٹھے دلی کے لال قلعے پر جھنڈا لہرانے کے منصوبے کو آخری شکل دے رہے ہیں ۔

اب یہ بات تو کنڈر گارٹن کے بچّے بھی جانتے ہیں  کہ یہ این جی ایز مجاہد ِ اعظم شہیدِ اسلام حضرت ضیاء الحق جالندھری علیہ رحمت اور اُن کے دستِ راست و خاص ، ملتِ پاکستانیہ کے بطلِ جلیل حضرت لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مد ظلہ العالی کی ایجاد ہیں ۔ یہی وہ دو اکابرین ہیں  جنہوں نے ملتِ پاکستانیہ کو این جی ایز سے لیس کیا اور ملک کو اسلامی خانہ جنگی کا میدان بنا دیا ۔ اور تصورِ جہاد کو کچھ اس طرح عام کیا کہ اب اِس ملکِ خُداداد کی سر زمین پر جنم لینے ہونے والا ہر بچہ  پیٹ سے دستی بم باندھ کر پیدا ہوتا ہے ۔

حضرت زید حامد کے پاس جانے کس ایجنسی کا لائیسنس ہے  کہ وہ بیک وقت عالمِ دین ، دفاعی تجزیہ کار ، جنگی حکمتِ عملی کے ماہر اور امورِ خارجہ پر مدبرانہ اور ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں ۔ پاکستان میں تھے تو اُن کے پاس ہر وہ استحقاق تھا ، جس سے وہ کسی بھی فرد ، تنظیم ، سیاسی جماعت یا ادارے کے لتّے لے سکتے تھے ۔ مگر جب وہ سعودی  عرب میں اپنے  افکارِ عالیہ سے سعودی ایوانوں کو منور کرنے گئے تو سعودی حکام کو اُن کی خطیبانہ مہارت صرف ترش ہی نہیں بلکہ زہر لگی ۔ سعودیوں کے مونہہ کا ذائقہ اتنا خراب ہؤا کہ انہوں نے حضرتِ مذکور کی تواضع قید اور کوڑوں سے کرنے کا حکم جاری کردیا ۔

اِس بات پر جناب زید حامد کے پاکستانی پرستاروں کو بہت دکھ ہؤا ۔  بہت سے دانشوروں اور سیاسی نابغوں نے بھی  برہمی ظاہر کی ۔ زید حامد صاحب کے کچھ  ہمدرد ایسے بھی ہیں جو ببانگِ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ گو انہیں  زید حامد کے طرزِ فکر سے اختلاف ہے مگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی حکام نے ایک پاکستانی کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا ہے ۔

زید حامد  کے ساتھ جو بیتی سو بیتی مگر سعودی حکومت ، سعودی کفیلوں اور پاکستان کے مسکینوں کے باہمی رشتے پر سوالیہ نشان بہت پہلے سے لگا ہؤا ہے۔ سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر منشیات کی سمگلنگ کی پاداش میں  گزشتہ کئی دہائیوں میں جو پاکستانی سر کاٹے گئے ہیں اگر اُن کو ایک دوسرے پر جوڑ کر رکھا جائے تو خاصی اونچی یادگار تعمیر ہو سکتی ہے ۔ لیکن جزیرہ نمائے عرب کی سرزمیں پر مرنا بھی ایک سعادت  ہے ۔ موت کے بارے میں ہمارے اپنے تحفظات ہیں کہ  ہم  جسے چاہیں  شہید قرار دیں اور جسے چاہیں یزید  بنا کر لعین کر دیں ۔

ہمارا ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہم من حیث القوم  نبی کریم ﷺ سے گہری جذباتی عقیدت رکھتے ہیں اور بسا اوقات اتنا غلو کرتے کہ اُسے دیکھ کر سعودی شُرطے “ چیخ پا “ ہو جاتے ہیں  ۔ اُن کے نزدیک روضہ ء رسول ﷺ کی دیوار کو چھونا  شرک کی ذیل میں آتا ہے اور وہ اس شرک کو مٹانے کے لیے سادہ لوح پاکستانی عقیدتمندوں کے سامنے اُن مقدس  دیواروں کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہیں ۔ اس وقت وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ کہ وہ یہ ٹھوکریں عقیدتمندوں کے دلوں کو مار رہے ہیں ۔

سعودی حکمران یقیناً عام پاکستانی مسلمان کی نظر میں عقیدت و احترام کے حق دار ہیں  لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سعودی ملوک کی اصل قوت اسلام نہیں بلکہ پیٹرو ڈالر ، حج اور عمرے  سے آنے والا زرِ مبادلہ اور تبرکات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے، جس نے سعودی گھرانے کو دنیا کے متمول ترین خاندانوں میں شامل کر دیا ہے ۔ وہ اپنے اقتدار اور دولت مندی کو  دوام بخشنے کے لیے دنیا بھر میں مسلح وہابیت بھی برآمد کرتے ہیں اور مذہبی جماعتوں کے تبلیغی جتھے  اُن کی سپاہِ  کے دستے ہیں جو اُن کے مکتبِ فکر کو  مُلکوں مُلکوں پھیلانے میں دن رات ایک کئے دیتے ہیں ۔ یہ  سعودی مالی امداد سے چلنے والی این جی اوز  ہیں جن کے ذریعے سعودی حکمرانوں نے ایران کو منہا کر کے باقی ماندہ  ساری اسلامی دنیا میں اپنے سلفی پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔

حکام کے بعد کفیلوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے ، جو پاکستانیوں سمیت غریب ملکوں کے مسلمانوں  سے جو سلوک روا رکھتے  ہیں وہ اپنی جگہ سعودی معاشرت میں رائج اقتصادی عدم مساوات کی شاندار مثال ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے میری نظر سے ایک رپورٹ گزری جس کا متن میرے لئے خاصا تکلیف دہ تھا اور وہ اس لئے کہ جس زمین سے اسلام کا سورج طلوع ہؤا ، جس نے بندہ و آقا اور عربی و عجمی کی تمیز ختم کی ، وہاں اب ما قبلِ اسلام کی تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے ۔

اِس تحریر  میں درج معلومات کے مطابق سعودی معاشرے میں لوگ چار درجوں میں تقسیم ہیں ۔ سب سے اعلیٰ درجہ مقامی عربوں کا ہے جو سعودی الاصل ہیں اور اُن کی اُجرتیں یا تنخواہیں سب سے زیادہ ہیں ۔ دوسرے درجے میں امریکی اور یورپی آتے ہیں ۔ تنخواہوں کا تیسرا گریڈ  غیر سعودی عربوں کا ہے جبکہ چوتھے اور کم تر درجے میں پاکستانی ، بھارتی اور بنگلہ دیشی مسلمان ہیں جو اگر کسی کفیل کے قیدی ہوں تو اُن کی حیثیت ایک غلام سے زیادہ  کی نہیں ہے ۔

غلامی پرانے وقتوں سے مزدوری کی ایک شکل رہی ہے جس میں یومیہ یا ماہانہ مزدروی کروانے کے بجائے پورا مزدور ہی خرید لیا جاتا تھا ۔ اس کی ایک نہایت بھونڈی سی صورت آج کے  پاکستان میں بھٹہ مزدروں کی بانڈڈ لیبر کہلاتی ہے ۔ مگر سعودی عرب جیسے ملک میں جو اسلامی ثقافت کا مولد و معدن ہے ، کفیل کا ادارہ پرانی عرب آقائیت کا احیاء محسوس ہوتا ہے ۔ اور ایک ایسے معاشرے میں جو مساوات اور اخوت کی  اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر پیٹرو ڈالر کے سہارے قائم ہو ، اسلام مظلوم قرار پاتا ہے ۔ 

اس قسم کے معاشرے میں اگر مسلمانوں کو اُن کے عقائد اور  آزادئ اظہار پر سزا ہو تو یہ دین اسلام کے بنیادی تصورات اور افکار کی نفی ہے ۔ لیکن سعودی بادشاہت کے سامنے اسلام کی حیثیت کیا اور زید حامد جیسے پاکستانی مسلمان کی اوقات کیا ۔ ہم بے چارے پاکستانی مسلمان تاریخ کی کتابوں کی ملگجی روشنی میں  اُس عرب روایت کو ڈھونڈتے رہتے ہیں جس میں خلیفہ ء وقت ایک بدو کو اپنے کرتے کا حساب دینے میں عار نہیں سمجھتا  بلکہ احتساب کو ہر مسلمان کا دینی حق تسلیم کرتا ہے مگر :
چہ نسبت سعودی ملوکیت را بہ خلافتِ عمر
 

loading...