آبادی بم اور ان کوالیفائیڈ والدین

شومئ قسمت سے پاکستان کا ستارہ گردش میں ہے ۔ نا اہل حکمرانوں ، نالائق سیاستدانوں اور غیر ذمّہ دار قومی اور صوبائی اداروں نے مل جُل کر اِسے ناقابلِ حکومت بنا دیا ہے ۔ اور اب اِس مرے پہ نو سو دُرّے کہ غیر ضروری آبادی کا گراف خطرے کی ساری حدوں کو عبور کر گیا ہے ۔

ایسا لگتا ہے کہ دنیا کا خطرناک ترین بم ۔۔۔ آبادی بم پھٹا ہے ، جس نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے ۔ کراچی کی سڑکوں پر لوگ ایسے مر رہے ہیں جیسے کبھی  لوگ  طاعون جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر  لُقمہ ء اجل بنے تھے ۔

مجھے یہ المناک صورتِ حال دیکھ کر ایک کلاسیکی معیشت دان سر تھامس مالتھس یاد آتے ہیں، جنہوں نے آبادی کا ایک نظریہ پیش کیا جو معاشیات کی کتابوں میں “  تھامس کے نظریہ ء آبادی “ کے نام سے مشہور ہے۔ تھامس ایک پادری تھے اور مذہبی اصطلاحات میں سوچتے تھے۔  اُنہوں نے جو نظریہ پیش کیا اُس کے مطابق اگر آبادی اور ملکی  وسائل یعنی ضروریاتِ زندگی کی رسد  کے درمیان توازن نہ ہو اور ملکی  آبادی ، ملکی  وسائل اور اشیائے ضرورت کی رسد سے بڑھ جائے، تو معاشرہ اپنی مضبوط اساس کھو بیٹھتا ہے۔  اور اگر اس عدم توازن کو توازن میں نہ بدلا جائے تو معاشرہ  مصائب کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر فطرت اس کو توازن  میں لانے کے لئے اپنے سے اقدامات کرتی ہے ۔  یہ اقدامات سیلاب کی تباہ کاریوں ، جنگوں ، آسمانی آفتوں اور  وباؤں کی صورت میں ہوتے ہیں جن کے ذریعے فطرت آبادی کو کم کر دیتی ہے تاکہ ملک کا ارضی رقبہ اور اُس میں موجود وسائل ، ملکی آبادی کی کفالت کر سکیں ۔


Optimum size  of  population
معیشت دانوں نے آبادی کے معیاری حجم کا نظریہ بھی پیش کیا  ہے جو یہ کہتا ہے کہ کسی ملک کی آبادی نہ تو اتنی کم ہو  کہ وہ تمام  ملکی وسائل کو بروئے کار نہ لا سکے اور نہ اتنی زیادہ ہو کہ دستیاب وسائل آبادی کی کفالت ہی نہ کر سکیں ۔

پاکستان کی موجودہ صورتِ حال میں آبادی کا دباؤ اتنا شدید ہے کہ ملک مسلسل بیرونی قرضوں اور سمندر پار پاکستانیوں کے مہیا کئے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر چل رہا ہے لیکن اس سے خسارے کے بجٹ کی بیماری کا علاج ممکن نہیں۔ کیونکہ جتنا زرِ مبادلہ بیرونی ممالک سے آتا ہے اس سے زیادہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کے ذریعے ملک سے باہر چلا جاتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ ملک کے “ محبِ وطن “ سیاستدان کر رہے ہیں ۔

دوسری طرف معاشرتی ڈھانچے میں شادی کا  ادارہ اتنا فرسودہ اور ناقص ہے کہ وہ افراطِ آبادی کے  خطرناک نتائج کا اندازہ لگائے بغیر زمین پر آبادی کے تابڑ توڑ حملوں سے تباہی پھیلا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ مذہب کی چھتر چھایا میں ہورہا ہے ۔  حالانکہ مذہب آبادی کے اس بے لگام اضافے پر پابندی لگاتا ہے۔ لیکن مفتیانِ ومفسرانِ کرام اُمّت  کی تعداد میں غیر ضروری اضافے کے غلط تصور کو مسلسل پروان چڑھاتے رہتے ہیں، جو ملکی آبادی کو متوازن نہیں رہنے دیتا ۔

اس صورتِ حال میں مزید بگاڑ بچوں کی پرورش کی اہلیت نہ رکھنے والے ان کوالیفائیڈ  والدین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی تربیت کر کے اُنہیں معاشرے کے مہذب شہری نہیں بنا سکتے ۔  اس غیر متوازن آبادی کا سب سے مکروہ پہلو یہ ہے کہ کچھ نا مراد والدین اپنے بچوں کو بیچنے کے لیے فٹ پاتھوں پر لا ڈلتے ہیں جو انسانیت کی بد ترین تذلیل ہوتی ہے ۔

اسلام نے شادی کے لئے کڑی شرائط مقرر کی ہیں کہ مرد ہو یا عورت ، جب تک اللہ اُنہیں اپنے فضل سے  حسب مقدور غنی نہ کر دے ، تب تک نکاح سے باز رہا جائے ۔ ( سورہ نور  ۱۸ ۔ ۲۴ ۔ ۳۳ )
حضرت علی ہجویری علیہ رحمت نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف “ کشف المحجوب “  کے آخری حصے میں “ نکاح اور تجرد کے آداب “ کے عنوان تلے نکاح کے منفی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک حدیثِ مبارکہ نقل کی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے آخری زمانے میں اچھے لوگ وہ ہوں گے جو خفیف الحال ہوں گے ۔ جب صحابہ نے خفیف الحال کی وضاحت پوچھی تو فرمایا کہ خفیف الحال لوگ وہ ہوں گے، جن کے نہ بیوی ہوں گے نہ بچّے ۔
علاوہ ازیں سورہ ء تغابن میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض لوگوں کے بیوی بچے اُن کے دشمن ہوتے ہیں اور یہ کہ مال اور اولاد فتنہ ہے ۔ ( تغابن ۱۴ ۔ ۱۵ )

یہی وہ فتنہ ہے جس نے آج افراطِ آبادی کے وبال سے معاشرے کی پیش رفت میں خلل ڈال رکھا ہے ۔
آبادی کی شرح کو کم رکھنے کے لئے احادیث میں “ عزل “ یعنی احتیاطی تدابیر کا ذکر ہے جو مانع ِ حمل ہے ۔
افراطِ آبادی کے منفی اثرات کے واضح نمونے ہمیں اپنے شہروں کے گلی کوچوں ، بازاروں اور مارکیٹوں میں عام  نظر آتے ہیں جہاں کم سن بچے بچیاں جن کی سکول جانے کی عمریں ہیں ، اور جن پر تعلیم کا حصول فرض ہے ، فرض کو ترک کر کے جوتے پالش کرنے ، برتن دھونے ، اینٹوں کے بھٹوں پر اینٹیں ڈھونے اور گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں ۔

ایسے بچوں کا بچپن ہوتا ہی نہیں ہے ۔ مگر بے رحم مذہبی ، سماجی اور سیاسی قوتیں ان بچوں کو غیر انسانی صورتِ حال سے نکالنے کے کچھ بھی نہیں کر پاتے ۔ میڈیا  حسبِ توفیق چیختا چلاتا رہتا ہے لیکن  سائیکو پیتھ، بے حس اور ظالم معاشرت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔

افراطِ آبادی ایسا بم ہے جو بچوں سے جیتے جی زندگی کا حق چھین لیتا ہے۔  لیکن قوم کے بے ضمیر ٹھیکیداروں کو نہ شرم آتی ہے ، نہ حیا آتی ہے اور نہ ہی غیرت آتی ہے ۔  
 

loading...