تبدیلی کی دلی ابھی دور ہے

اسلام کے ڈایا سپورا سے باہر آباد دنیا قانون اور آئین کی پابندی کی فصلیں اُگا رہی ہے اور اپنی اپنی معاشرتوں کے لیے فلاح و بہبود کے انبار کاٹ رہی ہے ۔ وہ جانتی ہے کہ قانون کی پابندی زندگی ہے اور قانون شکنی موت کا عمل ہے ۔

کر کزرنے والے ہر جگہ اپنی سی کر گزرتے ہیں اور اپنی لالچ اور حرص و ہوس کی شمشیر ہمشہ ہوا میں لہراتے اور تاریخ کے اوراق میں شمر و یزید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں ۔ شمر ، یزید اور حسین تینوں زندگی کی زبان کے استعارے ہیں ۔ دواستعارے  شر کی زبان کے اور ایک خیر کی زبان کا ۔ مسلمانوں کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ ہر عہد خیر اور  شر کی کشمکش کا عہد ہے اور اب تک وہ حکومت قائم نہیں ہو پائی جسے خُدا کی خلافت کا لیبل چسپاں کیا جا سکے ۔

مجھے علی ہجویری کی کتاب “ کشف المحجوب “ میں درج وہ منظر نامہ یاد آ رہا ہے جو انہوں نے اپنے عہد میں اسلامی معاشرتوں کے فکری ، اخلاقی اور نظریاتی انتشار کے بارے میں رقم کیا ہے ۔ ذرا مُلاحظہ ہو :
“ خُدائے عز و جل نے ہمیں ایک ایسے زمانے میں پیدا فرمایا کہ جس میں لوگوں نے نفسانی خواہشات کا نام شریعت ، طلبِ جاہ ، حُبِّ دنیا اور تکبّر کا نام تبحرِ علمی رکھ لیا ہے ۔ ریاکاری کا نام خوفِ الہی اور کینہ کو دل میں پوشیدہ رکھنے کا نام بُردباری ، فضول جھگڑے کو مناظرہ ، آپس کے جنگ و جدال کا نام زہد ، جھوٹی آرزو کا نام اِرادتِ طبعی ، ہذیان کا نام معرفت ، رذیل حرکات اور نفسانی وساوس کا نام عشقِ الہی ، اِلحاد کا نام فقر، بے دینی کا نام فنا ، ترکِ شریعت کا نام طریقت رکھا دیا ہے۔ یہاں تک کہ مطالب و معانی کے رازداں معدوم ہو گئے ہیں “  ( کشف المحجوب ، صفحہ 21 ، 22 ، مطبوعہ مشتاق کارنر لاہور )

علی ہجویری کی آنکھ نے دین کی جو حالت دیکھی اور بیان کی ہے وہ ہمارے ذہنوں میں کئی سوالات کو جنم دیتی ہے اور سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ آیا علی ہجویری علیہ رحمت کے بعد جن لوگوں نے اسلامی معاشرت کی باگ ڈور سنبھالی ، اُن کے ہاتھ سے عامتہ الناس کی حالت بہتر ہوئی یا مزید بگڑی ؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں ۔ جن لوگوں نے علی ہجویری کی خانقاہ کی مجاوری اور گدی نشینی سے مال و دولت کا ذخیرہ کیا ، جائدادیں بنائیں اور خاندانی امارت کے جھنڈے گاڑے، اُن کے لئے اسلامی اقدار کی تبلیغ سونے کا انڈا دینے والی مُرغی تھی۔ مگر بے چارے عام لوگ یعنی عام مسلمان  ہمیشہ کی طرح آزمائش کی چکّی میں پستے رہے اور دووقت کی روٹی کے زنداں میں قید رہے ۔

ان عام مسلمانوں کی محرومی اور مظلومی کی کہانی   پچھلے اڑسٹھ برس سے فلسطین میں لکھی جا رہی ہے اور عالمِ اسلام کو من حیث الاُمّت یہ توفیق نہیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کرا سکیں ۔ عرب لیگ منافقت کے انڈے دے رہی ہے ، عرب سلاطین اور شیوخ اپنے اللے تللوں میں غرق دوبئی کو اپنا عشرت کدہ بنا کر دنیا بھر کے لہو و لعب کی سر پرستی کر رہے ہیں ۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے لوٹا ہؤا مال اب سوئٹزر لینڈ کے بینکوں کے بجائے دوبئی کے ریت کے تہ خانوں میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن کسی کو اپنے اُن مسلمان بھائیوں کی حالتِ زار کا احساس تک نہیں جو دنیا بھر میں مجبوریوں اور دُکھوں کی چکیاں پیس رہے ہیں ۔

فلسطین میں مسلمان ، یہودیوں اور اُن کے سرپرستوں کی مشقِ ستم کا شکار ہیں اور برما میں روہنگیے مسلمان بدھ بھکشوؤں کے ہاتھوں موت اور اذیت کے کیمپوں میں ،  اپنے لہو اور آنسوئوں میں لتھڑے پڑے ہیں ۔ کشمیر کا ذکر میں اس لئے نہیں کروں گا کہ کشمیر کمیٹی کے معززین مجھے اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ کشمیر کو بچانے کے لئے اور کشمیریوں کا غم کھانے کے لیے مولانا فضل الرحمان ، مولوی سراج الحق اور حافظ سعید بہت ہیں ۔

برما میں بُدھ بھکشو کہلانے والے قاتلوں نے جو غدر مچا رکھا ہے ، وہ بدھ مت کے مسخ شدہ چہرے کا خاکہ ہے اور یہ اس عہد کے امن کے پیغمبر دلائی لامہ  کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ مگر وہ تو اپنے جلا وطن تبت کے بلا شرکتِ غیرے مالک ہیں اور امن بدوش ہیں ۔ اگر مسلمان مرتے ہیں تو مرتے رہیں ، وہ تو بُدھ کے اوتار ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک بدھ مت کی بطور مذہب آخری رسومات ادا نہیں ہو جاتیں ۔

اس عہد کا المیہ یہ ہے کہ تمام مذاہب باقاعدہ صنعت بن چکے ہیں اور مذہی اداکار وہ صنعت کار ہیں جو اس صنعت کے فروغ سے کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ دور کیوں جائیں ، ہمارے جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق صاحب مد ظلہ العالی کو ہی لیجئے : اُنہوں نے دو  روز قبل بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سر کی قیمت ایک کھرب مقرر کی ہے ۔ ایک کھرب روپے ، پاؤنڈ ، ڈالر یا یورو ؟ نہیں اتنی تفصیل نہیں بیان کی ۔ ممکن ہے یہ ادائیگی جنُت الفردوس بنک لمیٹیڈ کے ذریعے کی جائے ۔ سراج الحق صاحب نے چیک جاری کرنا ہے ،  اُ س پر دستخط کرنے ہیں اور بس ۔ اللہ اللہ خیر سلّا ۔

جناب سراج الحق ایک بہت معزز جماعت کے امیر ہیں ۔ امیرِ جماعتِ اسلامی ۔ میری کیا مجال کہ میں اُن کے حضور گستاخی کا مرتکب ہونے کی لفظی  جسارت کروں ۔ لیکن میرے کچھ تحفظات ہیں جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

پچھلے دنوں بھارت اور پاکستان میں وزارتی سطح پر دہشت گردی کے باب میں سخت بیانات کا تبادلہ ہؤا جن میں بھارت کی طرف سے دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دینے کا کوڈ ورڈ استعمال کیا گیا ۔ اب سراج الحق صاحب کی خطیبانہ و مجذوبانہ بڑ کے جواب میں شیو سینا یا آر ایس ایس میاں نواز شریف کے سر کی قیمت مقرر کردیں تو اس کے امکان کو دہشت گردی کا جواب دہشت گردی کے کوڈ ورڈ کے حوالے سے خارج یا انظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

سر کی قیمت مقرر کرنے کی یہ مولویانہ سیاست انتہائی سفاکانہ، بے رحمانہ اور احمقانہ ہے ۔ بر صغیر کے مسلمان جو ہند ملسم گنگا جمنی تہذیب کے وارث تھے ، پہلے ہی بّرِ کوچک میں تین حصوں میں تقسیم ہیں  ۔ پاکستانی مسلمان ، بنگلہ دیشی مسلمان اور بھارتی مسلمان ۔ پاکستان کے اندر فاٹا اور پاکستان دو الگ الگ ملک ہیں ۔ اور پاکستان نظریاتی طور پر تین حکمران  قوتوں کے زیر تسلط تین حصوں میں تقسیم ہے ۔ عسکری پاکستان ، مذہبی پاکستان اور عوام کا مظلوم پاکستان جس میں تقسیسم در تقسیم کئی طبقے ہیں ۔ ایم کیو ایم سے لے کر طالبان تک دہشت گردوں  سمیت کئی آزاد اور خود مُختار جنگجو جماعتیں ہیں جو ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار ہیں ۔ اس صورتِ حال میں عام مسلمان اپنے خوشحالی کے خواب کی تعبیراڑسٹھ برس سے  ڈھونڈ رہا ہے لیکن تا حال وہ شاہیں زیرِ دام نہیں آ سکا ۔

پاکستانی کی یہ مجموعی تصویر بہت درد ناک ہے ۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ پاکستان انتہائی غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ وہ ہاتھ جو پاکستان سے نہیں اپنی نجی خوش بختی سے محبت کرتے ہیں ۔ پاکستان کو لوٹتے ہیں اور لُوٹا ہؤا مال  دوبئی کے سمندر کی تہوں میں چھپا دیتے ہیں ۔ یہ ایک عجیب ملت ہے جو الحاد پہن کر توحید کے خواب دیکھتی ہے۔ کرپشن کدوں میں بیٹھ کر امانت و دیانت کی تقریرین کرتی ہے۔  مسجدوں میں بیٹھ کر دولت دنیا کی دعا کرتی رہتی ہے ۔  پاکستان سے بھاگ کر نظریاتی کج بحثی کے سراب میں پناہ ڈھونڈتی ہے اور حقیقت کے بجائے کتابی افسانوں  پر ایمان رکھتی ہے ۔

کل کیا ہوگا ؟
پھر پانچواں مارشل لاء ۔  یا سیاسی نجومیوں کے مطابق اسی برس دوبارہ انتخاب ؟

جو بھی ہوگا اس سے عام آدمی کا بھلا نہیں ہوگا کیونکہ پاکستانی ووٹر اور پاکستانی سیاستدان اور لیڈر  مزاجاً دھاندلی پسند ہے اور وہ عمران خان اور طاہر القادری کے جھنڈوں تلے کھڑا ہو کر بھی اپنی دھاندلی کی روش کو ترک نہیں کر سکتا ۔ اس لئے تبدیلی کی دلی ابھی دور ہے ۔
 
 

loading...