لاقانونیت کی حکمرانی

پہلے پہل یہ بات معاشرتی علوم کی کتابوں میں پڑھی کہ ایک یونانی بابے ارسطو نے انسان کو سماجی حیوان ( جانور) قرار دے رکھا ہے ۔ کوئی فلسفی جب اپنی نسل کی وجودی تعریف وضع کرتا ہے تو وہ یہ کام نجی حوالے سے کرتا ہے ۔ چنانچہ ایک سماجی حیوان نے کہا کہ انسان سماجی حیوان ہے ۔  اور یہی حیوان بعد میں ڈارون کے اندر چھپا بندر نکلا ۔

بندہ اور بندر دونوں ایک دوسرے کا نعم البدل ہیں  ۔ کبھی بندہ بندر بنا دیا جاتا ہے اور کبھی بندر خود کو بندہ کہنے لگتا ہے ۔ جیسے بھیڑیا بھیڑ کی اور گدھا شیر کی کھال اوڑھ لیتا ہے۔
خیر کوئی بات نہیں ، پریشاں فکری میں ایسی بد حواسیاں ہو جایا کرتی ہیں ۔

بابا ارسطو نے جب آدمی کو سماجی حیوان کہا  تو بین السطور اُن قوانین کا ذکر کیا جو کسی سماج یا معاشرت کی اساس ہوتے ہیں  اور یہ وہ قوانین اور قواعد و ضوابط ہیں جو کسی معاشرت کو آئینی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں اور جنگل اور شہر کے درمیان حدِ فاصل بنتے ہیں ۔ لہٰذا ! سماجی حیوان کا مطلب تھا قانونی حیوان : وہ حیوان جو معاشرے میں  اصولوں ، ضابطوں اور قاعدوں کے مطابق چل کر زندگی کا کاروبار چلا سکے۔ لیکن قاعدے کا لفظ مونہہ پر لاتے ہوئے قاعدہ اور القاعدہ کے درمیان فرق کرنا لازمی ہے ۔  کیونکہ قاعدہ جب القاعدہ بن جائے تو اصولوں کی بنیاد غارت ہو جاتی ہے ،  تب قانون گدھے کے سینگ میں تبدیل ہو کر گدھے کے گوشت کو حلال قرار دے دیتا ہے ۔ اور قانون بید کی ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح  بے سمجھی کے سوکھے پتوں کے درمیان جا گرتا ہے اور بندر اُس شکستہ شاخ کو ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے ، جس کے نتیجے میں شہر دوبارہ جنگل بن جاتا ہے ۔

جنگل وہ جگہ ہے جہاں لاقانونیت کا راج ہوتا ہے ۔ اور جب محاورے میں جنگل کے قانون کی بات ہوتی ہے تو اُس کا مطلب لاقانونیت ہوتا ہے ۔ کونکہ جنگل کا قانون لاقانونیت ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس قانون خُدا کا عصا ہے  جو راستے کی راستی کا استعارہ ہے ۔ راستہ راستبازوں کی چہل قدمی کے لئے بنی پگڈنڈی ہے جو خُدا کی سلطنت کی طرف لے جاتی ہے ۔ یہ ہدایت کی روشنی ہے ۔ خُدا کی روشنی ۔ “ اللہ نورالسموٰت والارض “ ۔

خُدا کون ؟ وہ جسے تم نہیں جانتے اور  نہ دیکھ پاتے ہو مگر اُس کے عصا کی بے آواز کھٹ کھٹ سُنتے ہو ۔ وہ تمہیں اطاعت کی طرف بُلاتا ہے ۔ اللہ کی اطاعت کرو ۔ اطاعت کیا ؟ اُس کے بنائے اور نافذ کئے ہوئے قانون کی پابندی اطاعت ہے اور یہی قانون کی حکمرانی کا مفہوم ہے ۔ جو خُدا کے بنائے ہوئے قانون کی پابندی یا اطاعت نہیں کرتا وہ وکیل ہو یا پولیس افسر ، جرنیل ہو یا خفیہ ایجنسی کا مخفی خان ، وہ  ملعون ہے ، راندہ ء درگاہ ہے، شیطان ہے ۔

شیطان نے بھی قانون کی پابندی سے انکار کیا تھا اور خاک پر آگ کی فضیلت بتائی تھی تو اسے راندہ ء درگاہ ہونے کی ذلت نصیب ہوئی ۔
پانی ، مِٹّی ، ہوا اور آگ خُدا کے کارخانے کے مزدور ہیں  ، جنہیں اُس نے ہمہ وقت کام پر لگا رکھا ہے ۔ ان سب کا مرتبہ یکساں ہے اور کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ۔ ان سب کا کام عبادت ہے ، اطاعت ہے یعنی قانون کی پابندی ہے ۔ اور قانون خُدا کا ہے ۔
“ کُل یوم ھو فی شان “  ہر آن وہ نئی شان میں ہے ۔

اسی لئے تو :
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
گفتار میں ، کردار میں ،  اللہ کی بُرہان

اللہ کے کارخانے کے یہ  چاروں مزدور ، یہ اربعہ عناصر ہم مرتبہ ہیں ۔ مساوات کے الوہی  قانون میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ اور کسی ایک عنصر کی دوسرے پر فضیلت کا اعلان قانون سے رو گردانی ہے جس کا ایک نام کفر ہے ۔ یہی قانونِ مساوات خُدا کی بنائی ہوئی ملتوں ، ا٘متوں ، اُس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور اُس کی اُتاری ہوئی کتابوں پر بھی لاگو ہے اور اُن میں فرق کُفر ہے ۔

اس سلسلے میں خُطبہ ء حجتہ الوداع کا حوالہ ضروری ہے جس میں تکمیلِ دین کا اعلان کرتے ہوئے تمام دیرینہ امتیازات ختم کر دئے گئے اور پھر گورے اور کالے ، عربی اور عجمی اور آقا و غلام کے درمیان خطِ توازن کھینچ دیا گیا ۔ یہ قانون مساوات ہے اور اس سے انحراف کرنے والا فی نفسہ شیطان ہے ۔

قانون کی پابندی خاک پوش ہیولے کو انسانی مرتبے پر فائز کرتی ہے اور قانون کی خلاف ورزی اُسے انسانی منصب سے گرا کر جانوروں کے زُمرے میں  داخل کر دیتی ہے ۔  یہ عذاب کی ایک صورت ہے ۔
یہ عذاب پہلے آدم و حوّا پر ٹُوٹا ۔ اُنہوں نے شجرِ ممنوعہ سے دوری کے قانون کو توڑا تھا ۔ شجرِ ممنوعہ اہلِ تصوف کے نزدیک نواہی کا استعارہ ہے کہ جن کاموں سے باز رہنے کو کہا گیا وہ نہ کئے جائیں ۔ چنانچہ آدم و حوا کو قانون شکنی پر جنت بدر کردیا گیا ۔ یہ ساری اساطیر سمجھانے کے لئے ہیں۔ ورنہ حضرت بابا بُلھے شاہ نے تو یہ تک  کہ دیا تھا کہ :
نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوا جایا
نہ کجھ اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون
بُلھیا ! کیہ جاناں میں کون

بات قانون شکنی کی ہو رہی تھی ۔ یہودیوں نے سبت کا معاشی قانون توڑا تھا ، تو وہ بندر بنا دئے گئے ۔ ممکن ہے شکلیں انسانوں کی سی رہی ہوں مگر خواص بندروں کے سے ہو گئے ، کیونکہ بندر نقالی کرتا ہے اور بندہ عقل و شعور سے راستی کے راستے پر چلتا ہے ۔ اور اسی کو قانون کہتے ہیں ۔

قانون کی مثلث کے تین ضلعے ہیں ۔ ایک ضلع خُدا کا قانون ہے ۔ دوسرا ضلع رسول ﷺ کی شریعت کا قانون ہے اور تیسرا حاکم وقت کا قانون  ۔ یہ تینوں اضلاع مل کر قانون کی مثلث وضع کرتے ہیں جو معاشرتی ائین کی جیومیٹری ہے ۔ حاکمِ وقت خُدا اور پیغبروں کے قوانین کو صدق اور خلوص کے ساتھ نافذ کرتا اور انصاف کے ساتھ قانون شکنی کا احتساب اور سدِ باب کرتا ہے ۔

کسی اُمّت کے لوگوں کی قانون پسندی کا اِظہار اُن کی روز مرہ زندگی پر نافذ اصولوں کی پابندی سے ہوتا ہے کہ وہ باہمی میل جول ، رشتوں ناتوں ، ٹریفک اور ناپ تول کے قوانین میں مُخلص ہیں یا نہیں ۔

میری آبائی معاشرت اور میرے متروکہ وطن پاکستان میں پچھلے دنوں وکیلوں اور پولیس والوں کے درمیان جس طرح سے ٹھنی ، جس طرح سے انسانی سروں کو فُٹ بال بنایا گیا ، جس وحشیانہ انداز میں گولیاں چلائی گئیں ، وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ قانون کے علمبردار وکلاء  اور قانون نافذ کرنے والے سیکیورٹی کے دونوں متذکرہ  ادارے  لاقانونیت کے سرطان میں مبتلا ہیں اور انسانی مرتبے پر فائز نہیں رہے ۔ وہ بندر بن چکے ہیں  ، بندے نہیں رہے کیونکہ بندگی قانون کی پاسداری کا نام ہے ۔ اب میرے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ میں بندے کی وفاتِ حسرت آیات پر فاتحہ پڑھ لوں اور بآوازِ بلند کہوں :
 “ انّا للہ و اِنّا الیہ راجعون “ ۔

آدمیّت کی قبر پر مسعود
فاتحہ پورے احترام سے پڑھ
باندھ لے دُم میں اک کلاشنکوف
اور پھر شاخِ اقتدار پہ چڑھ
 

loading...