ایہہ سب “ بول “ تے کُجھ نہ پھول

بول ، کون بولا ؟
نیویارک ٹائمز کا اداریہ بولا اور بُہت سُر میں بولا ۔
پاکستان جعلی ڈگریوں کے سکینڈل کی ملامت سے گونجا جس کی باز گشت پانچوں برِ اعظموں میں سنائی دی ۔ لگا کہ “ بول “ کی ب بالفتح ہو کر ایک تیزابی ریلے کی بکینی پہن کر شرل شرل بہ نکلی ۔

ایکس ایکٹ کے مدارالمہام شیخ شعیب کا وضاحتی انٹرویو صفائی کے بیانات سے زیادہ دھمکی ، دھونس اور جوابِ آن غزل کے لہجے میں بہت سوقیانہ ، بازاری ، روکھا پھیکا ، روہانسا اور بے وقعت سا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ کاشف عباسی کے سامنے ٹی وی سکرین پر ایک بچہ رو رہا تھا اور اپنے آنسوئوں سے صحافیوں کے سوئمنگ کے  سوئمنگ پول بھر رہا تھا ۔

اور پھر سنا کہ اینکر صحافی کامران خان نے “ بول “  کی ٹیم کے سوئنمگ پول سے باہر چھلانگ لگا دی ہے ۔ بول کے اس ٹی وی سکرین پر جو آج تک پہاڑ اوجھل ہے ، گولی لگی ہے جس سے بہت بودا سا چھید پڑ گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس چھید سے آئینے میں جو بال آیا ہے ، اُس کے کُنڈل سے کیا نکلتا ہے ۔

لیجیے ۔ کھودا “ بول “ ، نکلا خول
کامران خان کے بنائے چھید سے ایک ایک کر کے صحافی گرنے لگے ہیں ۔ ٹپ ٹپ ٹپ ، فتنہ ، کتنا؟
آخر شعیب شیخ نے الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کا یہ لشکرِ طرحدار تیار ہی کیوں کیا تھا ؟
اِن کاغذی پیرہن پوشوں کو سوئمنگ پول میں نہلانے ، اچھی تنخواہوں اور زندگی کی بہترین سہولتوں کا خواب دکھانے کا مطلب ہی کیا تھا ؟
لیکن اگر میں  اس “ بڑبول “ کے قیام کا مطلب نہیں جان سکتا تو کیا  ، میڈیا کے دیدہ وروں میں کوئی تو ہوگا جو یہ راز جانتا ہوگا ۔

صاحب ! پاکستان سکینڈلوں کا مُلک ہے ۔ سیاسی سکینڈل ، نظریاتی سکینڈل ، شرعی سکینڈل ، تعلیمی سکینڈل ( جعلی ڈگریاں) ۔ تجارتی سکینڈل ، منی لانڈرنگ سکینڈ لز ۔ گویا پاکستان کے ادارے سکینڈلوں کی کھیپ تیار کر کے برآمد کرتے ہیں ۔

مگر مُلک میں بھاری مینڈیٹ کی رِٹ ، اسلامی نظریاتی کونسل کی مضبوط شرعی گرفت ، مہنگے نظامِ عدل اور کروڑوں مذہبی ورکروں کے تبلیغی اقدامات کے ہوتے ہوئے ان سکینڈلوں کی روک تھام کیوں ممکن نہیں ہوئی ؟
شاید یہ ممکن ہی نہیں ۔ کیونکہ “ بول “ کے ڈھول کا پول ، ہمارے نظریہ سازوں کی تعمیر کی ہوئی نظریاتی معاشرت کا سیاسی و اقتصادی چہرا ہے ۔

ایک فارسی کہاوت ہے :
“ از کوزہ ہمی بیروں تراود کہ در اوست “ ۔
برتن سے وہی کچھ نکتا ہے جو اُس میں ہوتا ہے  ۔ “ بول “ پاکستان کی تنظیمی کارکردگی کا انڈیکس ہے ۔ “ بول “  میڈیا کا ایک ایسا ادارہ ہے جس میں بھرتی صحافیوں کے جیش ، جتھے اور لشکر تنخواہوں اور سہولتوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ۔ نہ ٹیلی کاسٹ ، نہ ٹاک شوز ، نہ خبر نامے ، اور نہ ہی منی لانڈرنگ کمرشلز ۔

جس طرح ملک کے دوسرے اداروں کا عملہ کرپشن اور بدعنوانی کی دیوی کے حضور دونوں ہاتھ باندھ کر ، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا ہے ، اور تنخواہوں کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں کرتا ، اسی طرح یہ با ضمیر دانشور بھی کچھ نہیں کرتے :
بٹھا کے یار کو پہلو میں ساری ساری رات
جو لوگ کچھ نہیں کرتے ، کمال کرتے ہیں

کیونکہ سارا کام تو منی لانڈرنگ کرنے والی ماڈل لڑکیاں اور سیاسی جماعتوں کے سونے اور کرنسی کے سمگلر کرتے ہیں اور ہمارا میڈیا بھی بڑا چسکورا ہے کہ اپنی توجہ عوام کے اصل مسائل اور مصائب سے ہٹا کراُنہیں  خوبصورت لڑکیوں کے گریبانوں سے جھانکتی دہشت گردی کے چسکے لینے میں لگا دیتے  ہیں ۔

“ بول “  اب تک کچھ نہیں بولا تو اچھا ہی ہؤا ، بول کے خربوزے کی چُپ  کو دیکھ کر دوسرے خربوزوں نے زبان کھولی ہے اور بول کا خول اُتارنے میں مصروف ہیں جو ایک شرعی خطا ہے ، اس سے بے پردگی ہوتی ہے ۔ ہمیں تو مُلا عبدالعزیز سے پردے کی حرمت سیکھنی چاہیے اور بول کو برقعہ پہنا دینا چاہیے ۔

لیکن ایک اعتبار سے تو اس بول کا گول ہو جانا اچھا ہی ہے کہ جو صحافی “ بول “  کے اسبغول میں بند ، جعلسازی کے بیابانی غول کو نہیں دیکھ سکے ، اُن کی دانشوری کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں ۔ وہ پاکستان، ُاس کے عوام اور اُن کے مسائل کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔  وہ الیکٹرانک میڈیا پر آ کر کریں گے  کیا ۔ اُنہیں شعیب شیخ کی بڑی تنخواہوں کے سوئمنگ پول میں تیرتے رہنے دیا جائے ۔

جب تک شیخ کے پاس نو من تیل ہے ، بول کی رادھا ناچتے ہی رہے گی ۔
جب تیل ختم تو بولتی بند ۔
والسلام !
 

loading...