کیا کچھ سوالات پوچھنے کی اجازت ہے ؟

قتل اور اقدام قتل اب ہماری معاشرتی روایت بن گیا  ہے اور سید منور حسین سابق امیرِ جماعت اسلامی کا “ قتال فی سبیل اللہ  “ کا نعرہ میرے کانوں میں گونج رہا ہے ۔ میں دوبارہ اس آواز کو سننے کی کوشش کرتا ہوں اور اُس کا درست مفہوم جاننا چاہتا ہوں مگر بس کے اسماعیلی مسافروں کی چیخوں میں سید مُنّور حسین کی آواز دب جاتی ہے ۔

قتل ، پھر قتل اور ریہرسل کے طور پرمزید  قتل ۔

کچھ لوگ ایسے قتل کرتے ہیں جیسے وہ گولیمار کے کسی لبِ سڑک واقع کھوکھے میں چائے کا کپ پی رہے ہوں یا فٹ پاتھ پہ بیٹھے کسی پالش والے سے جوتا پالش کروا رہے ہوں یا رات گئے کسی مالشیئے سے سر میں چمپی کروا رہے ہوں ۔

قتل اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ چلتا ہؤا ہمارے گھروں تک پہنچا ہے ۔ چنانچہ پہلا قتل اسلام کے معتبر ترین خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا ۔ دوسرا قتل تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا تھا ، جن کے خون کے چھینٹوں کی تصویر آج بھی مصحفِ عثمانی کی نقول میں دکھائی دے جاتی ہے ۔ تیسرا قتل خلیفہ ء چہارم حضرت علی رکم اللہ وجہ کا تھا جنہیں مسجد میں حالتِ نماز میں قتلل کیا گیا ۔

کتابوں میں لکھا ہے کہ علی اور فاطمہ کے بیٹے حسن کو زہر دے کر قتل کیا گیا اور اُس کے بعد خانوادہ ء رسول کو حسین علیہ السلام کے ساتھ ایک ایک کر کے ، گن گن کر اور چُن چُن کر مارا گیا ۔ قاتل کون تھے ؟ مسلمان ۔

کبھی ایسا لگنے لگتا ہے جیسے دین کا چھٹا رُکن قتل ہو ۔ کیونکہ پاکستان بننے کے بعد بھی ہم نے پوری لگن اور عقیدت کے ساتھ قتل کئے ہیں ۔ ہمارے نشانے پر لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو ، میر مرتضیٰ بھٹو اورسلمان تاثیر سمیت بہت سے نام بھی ہیں جنہیں مسلمانوں نے قتل کیا اور اس قتلوں کے عوض اعزاز پائے اور نوازشات سے سرفراز ہوئے ۔

اب حال ہی میں آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد ہونے والا قتل کی اجتماعی واردات کا اندوہناک سانحہ ہے جس میں کراچی کی ایک بس میں سنتالیس اسماعیلی شیعہ مسافروں کو نہایت سفاکی سے گولیاں مار کر جامِ شہادت نوش کروایا گیا ۔

مگر کیوں ؟ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے ۔ اخبارات میں ، ریڈیو اور ٹی وی پر اس سلسلے میں کئی کہانیاں سننے کو ملی ہیں لیکن ؟ کیوں ؟ یہ قتل کیوں ہوتے ہیں؟

سیانے ، دانشور اور نجومی کہتے ہیں کہ اس قتل و غارت گری  کے پیچھے مساجد کے وہ خطبات ہیں جن میں شیعوں کو واجب القتل قرار دیا جاتا ہے اور چونکہ  اسماعیلی شیعوں ہی کی ایک شاخ ہیں اس لئے وہ فتوے کی لپیٹ میں آ گئے ہیں ۔

یہ شیعہ واجب القتل کیوں ہیں ؟
میں نہیں جانتا ۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ اسلام کو فرقوں کے کلہاڑوں سے قتل کیوں کیا گیا ہے اور اُس کے لئے سنن ابی داؤد کی ایک حدیث کو سند قرار دیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہودیوں کے بہتر فرقے تھے اور ہمارے تہتر ہوں گے ۔ یہ بات قرآنی احکامات کے علی الرغم کیوں کہی گئی اور قرآنی احکامات کی تردید کیوں کی گئی ؟ کیا واقعی ایسا ممکن ہے یا سنن ابی داؤد کی یہ حدیث موضوع ہے ؟

میں کون ہوتا ہوں یہ کہنے والا کہ سنن ابی داؤد میں رقم یہ حدیث موضوع ہے ۔ اگر مونہہ سے کہوں تو میرے مونہہ میں خاک اور چہرے کے تاثرات سے اس پر حرف زنی کروں تو میرے مونہہ پر پھٹکار پڑے تاہم مجھے سوال کی تو اجازت ہے نا کہ میں یہ پوچھ سکوں کہ جب قرآن نے فرقہ بندی سے منع کیا ہے تو یہ حدیث کیوں وضع ہوئی ۔

ذرا فرقہ بندی کے امتناع سے متعلق قرآن کے احکامات ملاحظہ ہوں :

1۔ سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو ۔آلِ عمران ۱۰۲
2۔ کہیں تم اُن لوگوں میں سے نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات کے باوجود اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔ آلِ عمران ۔ ۱۰۵
3 ۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹُکڑے ٹُکڑے کردیا اور گروہوں میں بٹ گئے اُن سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں ۔ اُن کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ۔ الانعام ۱۵۹
4 ۔ اور نہ ہو جاؤ اُن مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے ۔ الروم ۔ ۳۱ ۔ ۳۲
5 ۔ یہ تمہاری اُمّت حقیقت میں ایک ہی اُمّت ہے اور میں تُمہارا رب ہوں ۔ پس تم میری عبادت کرو مگر انہوں نے اپنے دین کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالا ۔ الانبیاء ۹۲ ۔ ۹۳

بات یہیں تمام نہیں ہوتی قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ جب وہ لوگوں کو بد اعمالیوں کی سزا دینا چاہے تو اُنہیں فرقوں میں بانٹ کر آپس میں لڑوا دیتا ہے ، اور فی زمانہ یہی  ہو رہا ہے ۔ سزا کا فیصلہ آ چکا اور اب اس پر عملدرآمد جاری ہے ۔

ایسے میں میرے پاس ایک ہی سوال ہے کہ جب قرآنِ حکیم نے فرقوں میں بٹنے سے منع فرمایا ہے تو سننِ ابی داؤد کی تہتتر فرقوں والی حدیث کا جواز کیا ہے ؟
کیا یہ کہیں باہر سے انجکٹ کی گئی ہے ؟
چونکہ اس میں اتھارٹی نبی ﷺ نہیں بلکہ بیان کرنے والا ہے اس لئے مجھے اس کے حقیقی ہونے کی تصدیق کے لیے چھان بین کا حق ہے ۔

میرا اندیشہ یہ ہے کہ فرقہ آرائیاں اور فرقہ جاتی اختلافی رویے اسلام کی وحدت کے خلاف ایک سازش ہیں جو قدیم سے چلی آرہے ہیں ۔ اور یہ رویے مسلمانوں کو وحدت کی لڑی میں پرو کر ایک بڑی قوت بننے ہی نہیں دے رہے۔

جہاں تک مختلف فقہی مسلکوں اور صوفی فلسفوں کا تعلق ہے ، وہ دین کے مختلف سکول ہیں جہاں مختلف انداز میں ایک ہی راستہ سکھایا جاتا ہے اور ان سکولوں اور مسلکوں  کے درمیان عناد اور نفاق اسلام سے انحراف ہے جبکہ ان کے مابین صلح ہی دین کا راستہ ہے۔ مگر ہم نے انحراف کا راستہ اپنا رکھا ہے اور دین کو بھی قتل کردیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں اور وہ بھی اللہ کے نام پر ۔ یہ کسی اُمّت کے زوال کی انتہا ہے :
اے بادِ صبا ! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمّت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی
۔۔۔۔۔ اقبال ۔۔۔۔
 

loading...