جہالت کی یونی ورسٹیاں اور بے ادبی کی وزارتیں

پاکستان اپنی تاریخ کے ایک انتہائی پُر آشوب دور سے گزر رہا ہے ۔ ہر طرف ایک انارکی اور انتشار ہے ۔ لوگ ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار ہیں ۔ اخلاقی انحطاط اور ابتذال اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ  لگتا ہے جیسے قانون کے محافظ ادارے کے اہل کار قانون کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ۔

آج ہی ٹی وی کی کھڑکی سے یہ منظر دیکھا کہ پولیس کنسٹیبل حضرات محکمانہ امتحان میں نقل کرتے پکڑے گئے ہیں ۔  ادھر لاہور میں ہی ہڑتالی اساتذہ کے دو گروپ ایک دوسرے پر پل پڑے اور   گھونسوں ، لاتوں اور مُکّوں کی برسات کر دی ۔ کراچی میں  ہدف بنا کر  پولیس افسروں اور اہل کاروں پر حملے ایک روزمرہ واردات بن گئے ہیں ۔

سیاسی جماعتوں کے داخلی انتشار کا ڈرامہ بھی بڑی کامیابی سے چل رہا ہے اور بڑا رش لے رہا ہے ۔ سندھ کے سابق وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا تھانوں اور کھلے میدانوں ، مجمعوں اور ٹی وی کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مظہر شاہی وِلن بنے ہوئے ہیں اور  کچھ اس طرح کہ وہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اور سندھ حکومت کے گلے کی چھچھوندر بن کر رہ گئے ہیں ۔ اب دیکھیں پولیس اُن سے کس طرح نبڑتی ہے ۔

اب سرکاری منظر نامہ ملاحظہ ہو :
دو روز اُدھر پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات جناب پرویز رشید  دینی مدارس پر برس پڑے اور اُنہیں جہالت کی یونی ورسٹیاں قرار دیتے ہوئے ایک کتاب کا ذکر کیا  جس کا عنوان ہے ، “ موت کا منظر مع مرنے کے بعد کیا ہو گا “ ۔ یہ کتاب خواجہ محمد اسلام کی تصنیف تھی جن کا دفتر انارکلی میں بائبل سوسائٹی کے بالکل سامنے ایک گلی میں تھا ۔ خواجہ صاحب نے اس کتاب سے بڑا بزنس کیا اور یہ کتاب خوب  بکی ۔ اور اتنی بکی کہ اس کے ایک ایڈیشن کی تعداد پاکستان کے بیسٹ سیلر ادیبوں کو شرما دے ۔ 

خواجہ صاحب کایاں آدمی تھے ۔ وہ مذہبی پس منظر رکھنے والے قارئین کی نفسیات سمجھتے تھے ۔ چنانچہ جنت اور دوزخ کے مناظر اُنہوں نے اس طرح تصویر کئے کہ لوگ جی ہی جی میں  جنّت میں سیر کرنے لگے۔ لیکن یہ پرانی بات ہے اتنی پرانی کہ اس وقت  جنرل ضیا الحق اپنے دورِ اقتدار کے عنفوانِ شباب میں تھے ۔ ایسی کسی کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری  محکمہ ء تعلیم پر عائد ہوتی ہے اور متعلقہ افسران کسی بھی ایسی کتاب کی اشاعت روکنے کے مجاز ہیں جو معاشرے میں غلط خیالات پھیلاتی اور فکر کو غلط راہ پر ڈالتی ہے۔  لیکن پاکستان میں اشاعت کا شعبہ یتیم ہے اور کرپشن کے پاؤں پہن کر چلتا ہے ۔ دو نمبر ادیب اور پبلشر  اپنی کتابیں محکمہ ء تعلیم کے افسروں کی مٹھی گرم کر کے پاکستان کی لائبریریوں کے لیے فروخت کرتے آئے ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی ادیب بے چارہ بے اشاعت ہی اپنی ادبی زندگی سے  ہمیشہ ہاتھ دھوتا آیا ہے ۔ اور وہ بھی بے موت ۔

ضیا الحق صاحب نے تو ایک بار فرمایا تھا کہ پاکستان میں رشوت اس قدر عام ہے کہ اسے جائز قرار دے کر  اس کا نام حقِ خدمت رکھ دینا چاہیے ۔ چنانچہ آج بھی ضیا الحق صاحب کی حقِ خدمت کی تجویز غیر تحریری قانون  بن کر نافذ ہے ۔ رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں آزاد ہیں اور کبھی کسی دارالافتاء سے یہ آواز نہیں آئی کہ رشوت لینے اور دینے والے اسلام سے خارج ہیں ۔ اشیاء میں ملاوٹ کرنے والے کو  بھی ادارہ ء رسالت نے لا اُمتی قرار دینے کا عندیہ دے رکھا ہے۔ لیکن کبھی کسی مُفتی کو اس طرح کا فتویٰ دینے کا  خیال ہی نہیں آیا ۔

اور اب فتویٰ آیا ہے تو وفاقی وزیرِ اطلاعات کے خلاف اور کچھ اس نوعیت کا کہ  وزیر موصوف کو  دائرہِ اسلام سے خارج قرار دے دیا  گیا ہے ۔ واہ :
ہم کہاں کے زاہد تھے ، کون سے  قلندرتھے
بے سبب ہؤا پرویز ، دشمن آسماں اپنا

پرویز رشید نے کوشش تو یہ کی کہ  اپنی بذلہ سنجی سے اپنے روشن خیال ہونے کی گواہی رقم کریں مگر بدقسمی سے اُلٹی آنتیں گلے کو آن پڑیں ۔ اُنہوں نے مدرسوں کو اِسی طرح جہالت کی یونی ورسٹی قرار دیا جیسے پی ٹی آئی والے شریفوں کی جمہوریت کو  دھاندلی کی تخلیق قرار دیتے ہیں ۔ مدرسوں کے بارے میں وزیر موصوف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا ۔ یہ مدرسے ہمارے معاشرتی تاروپود کی اساس ہیں ۔ مدرسوں کو جہالت کی یونی ورسٹیاں قرار دینا  ااسلام کے وجود پر تبرہ ہے ۔ ہمارے یہاں جو تعلیمی صورتِ حال پیدا ہے اس کے ذمہ دار صرف مدرسے نہیں ، حکمران بھی ہیں ۔

اس ملک میں سرکاری سیکٹر میں تعلیم کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ایک طرف تو تعلیم نجی کاروبار بنا دی گئی ہے اور دوسر ی طرٖف ملکی اور غیر ملکی مذہبی رفاعی اداروں کی امداد سے چلنے والے اداروں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ پاکستان  میں در اصل تین متوازی حکومتیں ہیمشہ سے چلتی آئی ہیں  ۔ عسکری حکومت ، مذہبی حکومت اور سول حکومت ۔ ان حکومتوں کے درمیان ہمیشہ آویش اور سہ طرفہ کشمکش کی صورتِ حال رہی ہے ۔ اگر  طاقت کے ان تینوں مراکز میں باہمی ہم آہنگی ہوتی تو آج ہمیں انتشار کے اس دوزخ میں نہ جلنا پڑتا ۔ 

وفاقی وزیرِ اطلاعات کا مدرسوں کو جہالت کی یونی ورسٹیوں قرار دینا خود اُن کے لیے باعثِ شرم ہے کہ نون لیگ تیسری بار بر سر اقتدار آئی ہے لیکن ان جہالت گاہوں کو علم گاہیں نہیں بنا سکی  اور اس کے ایک وزیر اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان سے معاشرے کو  مزید اضطراب میں دھکیلنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور میری صوابدید کے مطابق یہ جرم نا قابلِ معافی ہے ۔

حکومت کی کوشش یہ   ہونی چاہیے کہ ملک جہالت کی ہر وزارت اور ہر یونی ورسٹی سے پاک ہو اور یہ کام بیانات اور مضحکہ خیز ریمارکس سے ممکن نہیں ۔ مدرسوں کے نصاب اور کارکردگی پر اعتراض اپنی جگہ بر حق مگر  جس طرح یہ اعتراض  اُٹھایا گیا وہ  اپنی جگہ  یہ گواہی دیتا ہے کہ معترض خود بھی کسی علم و ادب  کی یونی ورسٹی کا فارغ التحصیل  نہیں ہے  ۔
معافی چاہتا ہوں!
 

loading...