ایک عظیم قوم اور خدا کا مخبر

ہمارے پاکستانی دہشت گردوں نے آدم کُشی میں کوئی کسر چھوڑی تھی کہ اب آسمان اور زمین مل کر ہمارے گھروں  اور اُن کے مکینوں پر پل پڑے ہیں ۔ بادل آبی کلاشنکوف تھامے پانی کی گولیاں برسا رہے ہیں اور تیز آندھیوں نے ہماری چھتوں ، ہمارے آنگنوں  اور ہمارے شہروں کی سڑکوں کے کنارے دو رویہ کھڑے  درختوں کو اپنی بادی سرنگوں سے تہ و بالا کرنا شروع کر رکھا ہے ۔ نیچے سے زمین اپنا لاوا دہکا رہی ہے جو اُبلا پڑتا ہے ۔  بے چارہ غریب پاکستانی مسلمان کہاں جائے اور کس سے پناہ طلب کرے ۔

گذشتہ روز ایک ترقی پسند دانشور خاتون سبین محمود کو جب کراچی کی شاہراہ پر گولیوں سے بھون دیا گیا تو بے بس اور لاچار ، پسماندہ اور غریب طبقے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی ۔ خوف وہ وحشی درندہ ہے جو اپنے پنجے لہو کے بجائے کہیں بہت دور گہرائی میں انسانوں کی سائیکی میں گاڑتا ہے ۔ سبین کے قتل پر رونے والے بھی بہت ہیں اور مذمت کرنے والے بھی لیکن سب بے سود۔ کیونکہ جن قاتلوں کے مونہہ کو کرائے پر قتل کرنے کا خون لگا ہے وہ قتل کرنے سے پہلے قتل کی ریہرسل کے طور پر بھی دوچار قتل کر دیتے ہیں ۔

ایک دانشور عورت کو مارتے ہوئے اُنہیں کتنی  جذباتی تسکین ملی ہو گی کہ آج اُنہوں نے ایک ہرنی شکار کی ہے ۔  ہر چند کہ یہ ایک ظالمانہ اظہار ہے لیکن منٹو کا ٹھنڈا گوشت ایسا ہی ہے جس کا درجہ ء حرات گھٹتا بڑھتا رہتا ہے ۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان دہشت گردوں کو دیکھ دیکھ کر فطرت کی قوتیں بھی دہشت گردی پر اُتر آئی ہیں ۔ کیوں ؟ کس لئے ؟

اور پھر  تشدد کا نشانہ ہمیشہ کمزور لوگ ہی کیوں بنتے ہیں ؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بارشیں مفلسی کے مارے لوگوں کے مکان ہی ڈھاتی ہیں ۔ حالانکہ اللہ اکر رکھنا چاہے تو فطرت کے دہشت گرد کسی کا لہو نہ چکھیں مگر جاننے والا جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔ میں ایک مذہبی بیوقوف ہوں اور عموماً مجھے ایسے سانحات پر خُدا سے باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ مجھے علم ہےکہ  خُدا سب کچھ جانتا ہے مگر میں اُس کا خواہ مُخواہ کا مُخبر بن کر اُس تک اطلاعات پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں ۔

میں خُدا کو بتا رہا تھا کہ کہ یہ آج کا مسلمان ادارے اس لئے نہیں بناتا کہ اس کے ذریعے لوگوں کی مدد کرے بلکہ اس لئے بناتا ہے کہ اُن کے ذریعے کرپشن کرے ، حقوق العباد غصب کرے ، غریب لوگوں کے مسائل اور مصائب بین الاقومی منڈی میں بیچ کر اُن کے دام کھرے کرے ۔

پشاور میں بارش قیامت بن کر ٹوٹی اور کُشتوں کے پُشتے لگا دئے ۔ ہسپتالوں میں نہ ڈاکٹر ، نہ ادویات اور نہ ہی خون دستیاب ۔ کے پی کے کے وزیرِ صحت لا پتہ ۔ ان کا فون پہلے تو بند ملا ۔ پھر میڈیا کے کسی رپورٹر نے اُنہیں پکڑا تو وہ بولے کہ وہ کسی ہسپتال جا رہے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ لائن کٹ گئی ۔ وزیر اعلیٰ کا دور دور تک پتہ نہیں تھا ۔ بارش کے قہر کے مارے لوگ اپنے مقدر کو کوس رہے تھے ۔ وہ زخمیوں کو لادے ہسپتالوں میں ان لوڈ کر رہے تھے اور وہ چیخ و پکار مچی تھی کہ خُدا کی پناہ  ۔

کراچی کے بعد پشاور پاکستان کا وہ دوسرا بد نصیب شہر ہے جو  کڑی آزمائشوں سے گزر رہا ہے ۔ ایسے میں آرمی پبلک سکول کے زخم بار بار ہرے ہو جاتے ہیں اور مونہہ بے اختیار آسمان کی طرف اُٹھتا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ کیسے فیصلے کر رہا ہے ۔
لیکن اس زمین کی ذمہ داری خلافت ارضی کی ذمہ داری ہے اور یہ ارضی خلیفہ اس زمیں پر ان گنت صدیاں گزار کر بھی اپنی مستحکم خلافت قائم نہیں کرسکا اور بے چارے غریب پاکستان کی عمر ہی کیا ہے  ۔ اور پھر پاکستان کی بد نصیبی کہ وہ اپنی زندگی کے پچیس برس پورے کرنے کے بعد آدھا رہ گیا ۔  جو رہ گیا ہے وہ ہم سے سنبھالے نہیں سنبھلتا ۔

اچھا ،  لیکن ہم تارکینِ وطن پاکستانیوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ پاکستان کے دکھوں پر ٹسوے بہائیں ۔ ہم دنیا بھر میں پھیلے اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے محفوظ پاکستانوں میں بیٹھے ہیں اور پردیس کی چُپڑیاں کھا رہے ہیں ۔ ہماری اپنی زندگی ہے لیکن ۔ ۔ ۔

لیکن کیا ؟ کیا ہمارا معاشرتی ، مذہبی اور سیاسی کلچر ہمارے آبائی کلچر سے الگ ہے ؟ نہیں ہم یہاں پردیس میں رہ کر بھی مثالی پاکستانی ہیں ۔ جب اسلام آباد میں بارش ہوتی ہے تو ہم یہاں بھیگ جاتے ہیں ۔  لیکن ہمارے بھیگ جانے کی کسے فکر ہے ۔ سفارت خانوں میں بیٹھے پاکستانی بھی ہم جیسے تارکینِ وطن ہیں جن کی معاشرتی سیاست اور کمینونٹی پالیٹکس سے پاکستانی مزاج کی مہک آتی ہے ۔ ہم پاکستانی مزاجاً انارکسٹ ہیں اور یہ انارکی ہماری کہیں بھی جان نہیں چھوڑتی ۔ ہم جہاں  جہاں بھی ہیں، وہاں وہاں  پاکستانی طرز کی سیاست کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں ۔ اس طرح کی زندگی کسی قوم کے دکھوں کا نہ تو مداوا بن سکتی ہے اور نہ ہی کسی  قوم کو امن ، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔

اور یہ کیا ہے کہ میں بولتا ہی چلا جا رہا ہوں اور یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا کہ جو زیادہ بولتا ہے وہ زیادہ غلطیاں کرتا ہے ۔ تو کیا صرف اکیلا میں ہی بولتا ہوں ؟ نہیں  ، ہم سب ہی بہت بولتے ہیں ۔ ہم نے بولنے کا شوق پورا کرنے کے لیے بہتر ٹی وی چینل کھول رکھے ہیں اور اگر انصاف کیا جائے تو ہر مذہبی فرقے کو ایک چینل بآسانی حصے میں آتا ہے ۔

ہم مساجد میں بھی مسلسل بولتے ہیں ، سیمیناروں ، کانفرنسوں اور جلسوں کے ساتھ ساتھ پورا ملک مشاعروں کی لپیٹ میں رہتا ہے ۔ تو کیا ہم کوئی کام بھی کرتے ہیں ؟ جی ہاں ، کیوں نہیں دہشت گردی اور قدرتی آفات کے  ہاتھوں مرنا بھی تو ایک کام ہے اور وہ ہم مسلسل کر رہے ہیں ۔ اسی لئے ہمیں  بار بار یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں ۔ اس عظیم قوم کی عظمتوں کو سلام !
 

loading...