یومِ اقبال پر ایک مونو لوگ

اقبال کشمیری نژاد تھے ۔ اُنہیں کشمیر سے بڑی محبّت تھی ۔ وہ اپنے کشمیری النسل ہونے کو کبھی نہیں  بھولے۔ ان کی ابتدائی شاعری میں کشمیر سے جذباتی وابستگی کی واضح جھلکیاں ملتی ہیں ۔ کہتے ہیں :
ہندوستاں میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
بُلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دور

کشمیر اور پاکستان میں واحد رشتہ اسلام ہے ۔ ویسا ہی رشتہ جو بنگالی مسلمانوں سے بھی تھا جنہوں نے مسلم لیگ کی بنا ڈالی اور قرادِ لاہور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق بھی بنگالی تھے۔ مگر  ملک کے دونوں بازوؤں کے درمیان اسلامی بھائی چارے کا جو رشتہ تھا وہ دونوں خطوں کو جوڑ کر نہ رکھ سکا اور بالآخر بنگلہ دیش بن گیا ۔ اب “ کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ پھر سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گونجا ہے ۔ اس پر بھارتی حکام طیش میں آئے ہیں اور بے چارے طالبعلموں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ہیں ۔

ان دنوں پھر سے نظریہ ء پاکستان اور پاکستان کی بحث چھڑی ہوئی ہے ۔ اسی ضمن میں علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال کا ایک ویڈیو انٹرویو دیکھنے اور اُن کی باتیں سننے کا موقع ملا ۔ وہ برملا کہہ رہے تھے کہ قراردادِ لاہور میں کوئی پاکستان نہیں مانگا گیا تھا ۔ پاکستان ہندوؤں نے بنایا اور زبردستی مسلمانوں کے سر تھونپا ۔ انہوں نے ابولکلام آزاد کی اُس کتاب کی بات بھی کی جسے اُن کی وفات کے پچیس برس بعد چھپنا تھا اور آزاد مرحوم کی ہدایت کے مطابق وہ کتاب چھپی اور اس میں پاکستان کے ایک ناقابلِ عمل ریاست ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی ۔ انہوں نے جسونت سنگھ کی کتاب کا حوالہ بھی دیا جو یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان ہندوئوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بنا ۔ کیبینٹ مشن پلان کا ذکر بھی آیا جسے قائد اعظم نے قبول کر لیا تھا ۔

لیکن اس گفتگو میں سب سے اہم حصہ کشمیر سے متلعق تھا ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے آپ کو سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، وہ کشمیر کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا ۔ اُن کی تجویز یہ تھی کہ بھارت کو چاہئیے کہ وہ نیپال اور بھوٹان کی طرح کشمیر کو بھی خود مختاری دے اور ہم آزاد کشمیر کو اس میں شامل کریں اور کشمیر ایک علیحدہ اور خود مختار ریاست بن جائے ۔

ڈاکٹر جاوید اقبال نے کشمیر سے اپنی نسبت کا اقبال کی طرح ذکر کیا ہے اور اپنی محبت کا اظہار بھی کیا لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ باتیں پاکستانی فوجی ایسٹیبلشمنٹ کو ہضم ہوں گی ، جس کے لئے پاکستان ایک فوجی چھاؤنی ہے اور جہاں وہ پٹھان حملہ آوروں کے نام سے غوری میزائل بنا کر اپنی تاریخی اور کتابی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ۔

پاکستانی قوم نے دیکھا کہ پچھلے سرسٹھ برس سے کشمیر سولی پر ٹنگا ہے ۔ بھارتی فوج مسلسل اپنی گرفت سخت سے سخت کرتی چلی جاتی ہے او ر پاکستانی قوم ان فوجی طالع آزماؤں کی مہم جوئی کا شکار ہو کر ترقی سے محروم ہے ۔ روٹی کپڑا اور مکان کا  نعرہ لگانے والی جماعتیں حکمران طبقے کے لئے تو روٹی ، کپڑے مکان کی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں مگر قوم بے چاری اپنے بے چارگی کے آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی ہے ۔

اس وقت پاکستان دہشت گردوں کی زد پر ہے ۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسری کی دشمن ہیں ۔ نہتے لوگ سرِ راہے مارے جاتے ہیں اور یہ صورتِ حال نہ تو فوج کے قابو میں ہے اور نہ ہی سول انتظامیہ کے ۔ لگتا ہے پاکستان انارکی اور جہالت کی آماجگاہ ہے جہاں ہر شخص دوسرے کا دشمن ہے ۔ ملک بھر میں لاکھوں مساجد ہیں۔ مذہبی کارکنوں کی ایک فوجِ ظفر موج ہے جو شریعت  کو بطور قانون تو نافذ نہیں کر پائی مگر شریعت کو ہاتھ میں ہتھیار کی طرح رکھے ہوئے ہے اور جہاں موقع ملے اس کے استعمال سے دریغ نہیں کرتی  ۔ مذہب اپنی جگہ فوج کے بعد دوسری بڑی طاقت ہے جو سول انتظامیہ سے مزاحم رہتی ہے اور جہاد کی آڑ میں دہشت گردی کے حربے استعمال کرتی رہتی ہے ۔ اسی سیاق و سباق میں اقبال نے کہا تھا:
مُلّا کی نظر نورِ فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانہ ء صوفی کی مئے ناب
اے وادی ء لولاب !
بیدار ہو دل جس کی فغانِ سحری سے
اس قوم میں مُدت سے وہ درویش ہے نایاب
اے وادی ء لولاب !

آج اقبال کی ستترویں برسی کے موقع پر اقبال کو یاد کرتے ہوئے اس کی شاعرانہ و فلسفیانہ تحریروں کو سلام
 

loading...