لال بجھکڑ نے کھیر پکائی

لال بجھکڑ نے کھیر بنانے کا ارادہ کیا۔ سوچا سب اپنی اپنی دیگ چڑھاتے ہیں، دوسروں کا منہ چڑاتے ہیں، باتیں بناتے ہیں اور یوں غرور سے گردن اکڑا کر دیکھتے ہیں کہ جیسے دیگ نہ اتری ہو کسی تخت پر ان کی سواری اتری ہو۔
’’تو مجھ میں کیا کمی ہے‘‘ لال بجھکڑ نے سوچا، جسے سب اس کی بے سروپا باتوں اور حرکتوں کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے۔ ’’میں بھی یہ سارے کام کر سکتا ہوں۔ کچھ ایسا پکا سکتا ہوں کہ جو بھی دیکھے منہ سے رال ٹپکنے لگے لیکن میں اسے ایک چمچ بھی کھانے کو نہ دوں‘‘۔

اس تصور سے لال بجھکڑ کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں کہ وہ کھیر پکائے گا اور جب اس کا دیگچہ تیار ہو جائے گا تو لوگ للچائی نظروں سے اسے دیکھیں گے۔ کسی نہ کسی حوالے سے اس سے تعلق اور واسطہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لذیذ کھیر میں سے بس ایک آدھ پیالی پانے کےلئے وہ سارے لوگ اس کی خوشامد کریں گے جو عام طور سے اس کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ محفل میں اسے ڈپٹ کر خاموش کروا دیتے ہیں۔ کہتے ہیں: ’’یوں بات بے بات منہ ماری نہ کیا کر۔ جب سیانے بولتے ہوں تو توجہ سے بیٹھ کر سنا کر۔ شاید تمہیں بھی کچھ عقل آ جائے اور تم بھی کوئی کام کی بات کرنے کے لائق ہو جاؤ‘‘۔

’’ہونہہ‘‘ اس نے ان سب فضیحت کرنے والوں کے بارے میں حقارت سے سوچا اور تصور کیا کہ یہ مجھے بے وقوف سمجھ کر خاموش کرواتے ہیں۔ جیسے خود ارسطو اور افلاطون ہوں۔ حالانکہ ان میں تو اتنی عقل بھی نہیں کہ وہ کھیر بنانے کے بارے میں غور کرتے۔ بس وہی ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی چاولوں کی دیگ پکاتے ہیں۔ پھر آوازیں دے دے کر لوگوں کو پکارتے ہیں اور منتیں کرکے انہیں کھانے کی دعوت دیتے ہیں۔ عقل کے اندھوں نے میری طرح رس بھری کھوئے والی کھیر بنانے کا سوچا ہوتا تو لوگ ان کے آگے پیچھے ہوتے۔ کوئی برتن اٹھانے میں مدد کرتا۔ کوئی کرسیاں ٹھیک کرتا۔ کوئی بڑھ کر پوچھتا: ’’میں میز کےلئے سفید چادر لاؤں۔ کتنا اچھا لگے گا۔ میز پر سفید چادر، سفید پلیٹوں میں سفید کھیر۔۔۔۔۔ کیوں بھائی جان کیا کہتے ہو‘‘۔

مگر ان میں اتنی عقل ہی کہاں ہے کہ وہ کوئی نئی بات سوچیں اور اس طرح دوسروں پر اپنی دھاک بٹھائیں۔ جب کھیر پکے گی تب دیکھنا یہ سارے کیسے بھاگے بھاگے میرے لئے کام کریں گے اور میں انہیں بتاؤں گا کہ کون سی چیز کہاں رکھنی ہے۔ کون سا کام کب کرنا ہے۔ کس کو کہاں بٹھانا ہے۔ کھیر کے دیگچے میں تو میں کسی کو جھانکنے بھی نہیں دوں گا۔ خود اپنی مرضی سے چمچ بھر بھر کر کھیر نکالوں گا۔ اپنے دوستوں کو پلیٹ بھر بھر کے دوں گا لیکن یہ جو مجھے بے وقوف سمجھ کر لال بجھکڑ کہتے ہیں، انہیں تو خوب ترساؤں گا۔ آخر میں صرف کھرچن دوں گا۔ ترساؤں گا ان سب کو۔
اوہ کھرچن سے یاد آیا۔ دادی کہتی تھی کھیر کی کھرچن تو مزے کی ہوتی ہے اور بچپن میں کس چاؤ سے مجھے کھلاتی تھی۔ میں بھلا کھرچن اپنے دشمنوں کو کیسے دے سکتا ہوں۔ نہیں وہ تو میں خود کھاؤں گا۔ بلکہ کھرچن تو میں اپنے دوستوں کو بھی نہیں دوں گا۔ ہاں یہ تو طے ہو گیا۔ لیکن ان منگتوں کو پھر کیا دوں گا۔ کھیر مانگنے تو یہ ضرور آئیں گے۔ کھیر ہوگی ہی اتنی عمدہ اور مزیدار کہ سب کے منہ میں پانی آ جائے گا۔ اور وہ میری منتیں کرتے پھریں گے۔

نہ بھئی کھرچن تو کسی صورت کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔ تو کیا ان جان کے دشمنوں کو کھیر کا بھرا ہوا چمچ دوں۔ یہ تو مجھ سے نہیں ہوگا۔ ان بدبختوں سے بدلہ لینے کےلئے تو اتنے جتن سے کھیر پکا رہا ہوں۔ ان کو تو ہر قیمت پر ترسانا ہے۔ اس کا کوئی طریقہ تو سوچنا ہی پڑے گا۔ میرے ان دشمنوں کو کھیر بھی نہ ملے لیکن وہ مانگ مانگ کر ذلیل ہونے پر بھی مجبور ہوں۔
تو کیا کروں۔ میرا خیال ہے کہ اپنے چند دوستوں سے کہوں گا کہ وہ بس ایسے لوگوں کو آگے آنے دیں جو انجان ہوں۔ جنہیں کھیر اور چاولوں کا فرق بھی معلوم نہ ہو۔ بس کھانے سے غرض ہو۔ ایسے لوگوں کو تھوڑی تھوڑی کھیر دے کر اعلان کردوں گا کہ بھئی معاف کرنا کھیر تو ختم ہو گئی۔ بہت افسوس ہے سب کو حصہ نہیں مل سکا۔ اب اگلی بار زیادہ بڑا کڑھاؤ چڑھاؤں گا۔ فکر نہ کرو۔

اس تصور سے لال بجھکڑ کی باچھیں کھل گئیں کہ اس کے دشمن خوار ہو کر اس کا منہ دیکھیں گے اور تھوڑی سے کھیر کےلئے اس کی منت سماجت کریں گے۔ لیکن اس نے پکا ارادہ کر لیا ان خبیث روحوں پر بالکل ترس نہیں کھانا۔ یہ ہر موقع پر مجھے دھتکارتے رہے ہیں۔
بس اب جلدی سے دوستوں کی فہرست بنا لوں۔ کیونکہ کھیر پکنے کے بعد تو سب دوستی اور قرابت کے دعویدار بن بیٹھیں گے۔ یوں لال بجھکڑ نے زندگی میں کسی کام کا آغاز کرنے کےلئے قلم اور کاغذ تلاش کیا ور فہرست مرتب کرنے لگا۔ کئی گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ دسیوں نام لکھ کر انہیں لسٹ سے نکال چکا تھا۔ ہر کسی نے کسی نہ کسی موقع پر اس کی توہین کی تھی۔ اسے مناسب جگہ نہیں دی تھی۔ اچھی کرسی پر اس کے مخالف کو بٹھا دیا تھا۔ پلاؤ میں بوٹی کم تھی یا بس، کوئی تو اسے نام سے یا شکل سے ہی ناپسند تھے۔ یہ فہرست تھی کہ نمٹنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ آخر تنگ آ کر اس نے کاغذ سمیٹے اور سوچا کہ اس طرح دوست تلاش کرنا آسان نہیں۔ کھیر پکاتا ہوں۔ دوست دشمن کی خود ہی پہچان ہو جائے گی۔

کھیر کےلئے جو سامان درکار تھا، وہ اسے خوب اچھی طرح یاد تھا۔ دودھ ، شکر اور کھویا۔ ہاں بس یہ تین ہی تو چیزیں ہیں۔ ان کو ملائیں گے تو مزیدار کھیر تیار ہو جائے گی۔ پھر دماغ پر زور ڈالا کہ انہیں ملا کر پکانے کی ضرورت بھی ہوگی۔
میرا خیال ہے وہ بڑا دیگچہ مناسب رہے گا جس میں مہمانوں کے آنے پر کھانا تیار ہوتا ہے۔ لوگوں کو پتہ تو چلے کہ کس سخی نے کھیر پکائی ہے اور بہت سی پکائی ہے۔ برتن کے بارے میں طے کرنے کے بعد دودھ اور کھوئے کی خریداری کا مسئلہ درپیش تھا۔
یہ بے حد ضروری ہے کہ دودھ خالص ہو اور کھویا اعلیٰ درجے کا ہو۔ خام اجزا اچھے نہ ہوں تو پکوان بھی خاص نہیں بنتا۔ کئی حلوائی اس کے ذہن میں تھے۔ وہ ایک ایک کے بارے میں غور کرتا اور اپنے مشاہدے ، علم اور تحقیق کی بنیاد پر کسی نہ کسی وجہ سے اسے مسترد کر دیتا۔ پھر اسے اندازہ ہوا کہ مکمل طور سے اعلیٰ دودھ اور کھویا فروخت کرنے والا تو شاید دستیاب نہ ہو۔ اس لئے جو ان سب بروں میں کم برا لگتا ہے، اسی سے سامان خریدا جائے۔ شکر کا تو طے ہو گیا تھا کہ وہ نکڑ کے اسٹور سے شکر کی فیکٹری میں تیار ہونے والے بند پیکٹ خرید کر لائے گا۔

لیکن کھیر پکائی کہاں جائے۔ باورچی خانے میں تیار کی تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ میں نے کیسا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس لئے طے ہوا کہ گھر کے وسیع دالان میں چولہا لگا کر کھیر کا دیگچہ چڑھایا جائے۔ لیکن اتنی دور گیس کیسے لائی جائے گی۔
بہت غور کے بعد لال بجھکڑ کو یاد آیا کہ کھیر پکانے کےلئے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اسے یاد آیا کہ شاعر نے کہا ہے:
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
وہ ہنسا کہ وہ اس شعر والی خاتون کی طرح احمق نہیں ہے۔ وہ کتے تو کیا کتے نما انسانوں کو بھی قریب پھٹکنے نہیں دے گا۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جتن سے کھیر پکانے کےلئے چرخے کو جلا کر آگ تیار کی جائے۔

اب میں چرخا کہاں سے لاؤں۔ اب تو کپڑا فیکٹریوں میں تیار ہوتا ہے۔
پھر اسے یاد آیا کہ اس کے ابو نے دادی کا ایک پرانا چرخا نشانی اور انٹیک یادگار کے طور پر اپنے کمرے میں بڑی حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔ اب اتنی مزیدار کھیر کےلئے چرخے کی قربانی تو دینا ہی پڑے گی۔ ویسے بھی کون اس پر کوئی دھاگہ تیار کرتا ہے۔
لال بجھکڑ نے چولہا بنایا۔ چرخا توڑ کر آگ جلائی اور کھیر پکنے لگی۔ وہ آگ برقرار رکھنے کے لئے چرخے کی لکڑی کے ٹکڑے ایک ایک کرکے چولہے میں ڈالنے لگا۔ دودھ ابلنے کی خوشبو سونگھنے کے لئے اس کے نتھنے بے چینی سے پھیلنے اور سکڑنے لگے۔

دالان کے بیچ الاؤ دہکنے لگا تو امی نے حیران ہو کر باہر دیکھا اور بھاگی ہوئی آئیں۔
یہ کیا کر رہے ہو۔
کھیر پکا رہا ہوں۔
کھیر؟
تو برتن کہاں ہے۔
برتن؟
اوہ وہ تو میں بھول ہی گیا۔
اور یہ دادی کا چرخا کیوں جلا دیا۔
جتن سے کھیر پکانے کےلئے
ماں نے اپنا اور لال بجھکڑ کا سر پیٹ لیا۔

(یہ مضمون جولائی 2014 میں کاروان میں شائع ہو چکا ہے۔ احتیاط کے نقطہ نظر سے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس مضمون کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں نہ پٍڑھا جائے) 

loading...