نوحہ

پاکستان میں عید سے ایک روز پہلے بہاولپور کے نزدیک ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے آخری خبریں آنے تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس سانحہ نے عید کی خوشیوں کو گہنا دیا ہے۔ اہل پاکستان اس سے پہلے کوئٹہ اور پاڑا چنار میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے ہی دل گرفتہ تھے کہ احمد پور شرقیہ میں رونما ہونے والے اس سانحہ نے ہر دل کو زخمی اور ہر آنکھ کو اشک بار کردیا۔ ایک نامعلوم سرائیکی شاعر نے پاکستان کے عام آدمی کی بے بسی کو ان چند اشعار میں قلم بند کیا ہے جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں:

اساں سڑ گئے ہاں تاں کیا تھی گئے؟
اساں ملک تیڈے دے کملے کوجھے...

اساں پکھی واس، کُٹانڑے، کمِّی....
ساڈا جیونڑ کیا؟ ساڈا مرنڑ کیا؟

کوئ  بم  دھماکہ  مار  ڈیوے..
کوئ ٹینکر روڈ تے ساڑ سٹے....

کوئ چوک، چوراہے، ایم پی اے...
ساکوں کار دے ہیٹھ لتاڑ ڈیوے....

کوئ عید، بقر عید، محرم ھے...
ہر  جشن  تے  ساڈا  ماتم  ھے...

اساں لوگ جو جمدوں مرنڑ کیتے....
یا  خان  دی  چاکری  کرنڑ  کیتے.....

 اساں رل گئیں دی توں فکر نہ کر...
  اساں کہڑی یار قطار اچ ہائیں....؟

 

loading...