یہ مسئلہ تو میرا ہے

(یہ کالم دو سال پہلے یورپ میں اسلام فوبیا کے حوالے سے لکھا گیا تھا۔ اس وقت پاکستان مذہبی انتہا پسندی کے جس رجحان کا سامنا کررہا ہے، اس کی روشنی میں اس تحریر میں اٹھائے گئے نکات کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے)

زور سے تالیاں بجیں تو میں چونکا

کسی نے کہا کہ یہ تالیاں تو تمہارا مذاق اڑاتی ہیں۔ وہ سارے تم پر ہنستے ہیں اور تمہاری سادہ لوحی ، ایمان پرستی اور عقیدے کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔ میں نے حیرت سے یہ باتیں سنیں اور سوچا کہ آخر وہ کیوں ایسا کریں گے۔

میں تو ان لوگوں کو نہیں جانتا۔ وہ مجھے نہیں جانتے۔ اس عدم شناسائی میں یہ رشتہ کیوں کر استوار ہو گیا ہے کہ وہ تالیاں بجائیں ، فقرے کسیں اور مجھے میرے ہونے کی وجہ سے مسترد کرنے کی بات کریں۔

نہ یہ سب کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ وہاں کچھ اور بات ہوتی ہوگی۔ سننے والے جب اسی بات کو آگے پہنچاتے ہیں تو اس کی ماہیت اور مطالب تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔ میں ان گمراہ کن پیغامات کو کیوں مانوں!

میں نے اس مسخ شدہ پیغام کو مسترد کیا اور اپنی دنیا میں مگن رہا۔ کسی نے کہا کہ یہ آفت کو سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کرنے کا رویہ ہے۔ مجھے اپنا رویہ بدلنا چاہئے۔

مگر کون سی آفت؟ میں نے سوچا

میں تو اپنی دنیا میں گم ہوں۔ میرا معاملہ میرے اور میرے رب کے درمیان ہے۔ میں نے تو بھلائی اور نیکی کو ایمان جانا ہے اور جہاں تک ہو سکا اسی طرز عمل کو اختیار کیا ہے۔ آخر مجھے کسی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ کوئی میرے وجود کو کیوں ناپاک ، ناقابل قبول اور خطرناک قرار دے سکتا ہے۔

میں نے ایک بار پھر ان افواہ نما باتوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

مگر وہ تالیاں اب میرا پیچھا کرتی تھیں۔ میرے سکون کو برباد کئے دیتے تھیں۔ وہ ہر جگہ کسی سائے کی مانند میرے ساتھ تھیں

’’ کینچلی اتارو میاں اور اپنے گھر سے نکلو ‘‘ اس بزرگ کی نصیحت بروقت تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ تم صرف اپنی ذات میں محصور ہو کر نہ خود کو پا سکتے ہو اور نہ رب کو۔ اپنے آپ سے اور اپنے پروردگار سے ملنا ہے تو اپنی ذات کا حصار توڑو۔ یہ انا کا خول ہے۔ یہ بزرگی ، نیکی یا دینداری نہیں ہے۔“

یہ باتیں شروع میں مجھے اجنبی لگتی تھیں۔ مگر آہستہ آہستہ انہوں نے میرے اندر گھر کرنا شروع کیا۔ تالیوں کی گونج اور قہقہوں کا شور جونہی بلند ہوتا ، مجھے یہ باتیں یاد آنے لگتیں۔

تو کیا میں کچھ غلط کر رہا ہوں۔

مگر میں نے تو کچھ غلط نہیں کیا۔ نہ ایک لفظ کہا نہ دلیل دی۔ نہ للکارا اور نہ مسترد کیا۔ بس میں اپنے خول میں بند ہوں۔

’’ ہاں یہی خول ۔۔۔ تمہارا تابوت ہے۔ تم نے اس خول کو روشن دان کے بغیر ایک ایسا مسکن بنا لیا ہے جہاں نہ روشنی آتی ہے اور نہ ہوا کا رخ ادھر کو ہے۔ تم کس برتے پر بلاؤں کا رخ موڑو گے‘‘۔

میں لا جواب تھا

میں خاموش تھا

میں ہراساں تھا

تالیاں گونج رہی تھیں اور زور سے کوئی للکار رہا تھا:

’’ یہ لوگ ہماری تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرز زندگی اور اصولوں کو پامال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمارا سکون چھین لیا ہے۔ یہ تباہی کے پیامبر ہیں‘‘۔

میں سہما ہؤا ڈرا ڈرا سا اندر داخل ہؤا۔ میرا جسم ایک لمبے کالے کوٹ میں سمٹا ہؤا تھا۔ ایک چادر سے میں نے اپنا منہ چھپا رکھا تھا۔ میں ایک کونے میں دیوار سے لگا سن رہا تھا:

’’ یہ سب جس عقیدے اور کتاب کو مانتے ہیں ، اس میں تضادات ہیں۔ یہ درستی کی بات کرتے ہیں مگر ان کا یقین ہے کہ دوسرے سب لوگوں کو مار کر ہی یہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ کتاب دراصل دنیا کی تباہی اور بنی نوع انسان کی نسل کشی کی بنیاد بن چکی ہے۔ یہ سب درندگی اور قبل از انسانیت کا دور واپس لانا چاہتے ہیں۔‘‘

یہ کس کتاب کی بات کرتے ہیں۔ یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں۔ مگر مقررین کی گھن گرج اور حاضرین کے جوش و خروش نے مجھے مزید ہراساں کر دیا۔ میں نے ایک بار پھر خود کو سنبھالا اور دیوار کے ساتھ چپک گیا۔ گویا ضرورت پڑنے پر یہ شق ہوگی اور مجھے پناہ دے گی کہ ایک اور آواز گونجی:

’’ بالکل درست۔ میرے بھائی نے بالکل ٹھیک بات کی ہے۔ ہمیں کسی نسل ، کسی عقیدہ سے کوئی پرخاش نہیں ہے لیکن ہم ان کی یلغار کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کا ایک ہی علاج ہے۔ اس کتاب کو بدلنا ہوگا۔ اس میں سے نفرت ، عدم مساوات اور خوں ریزی کے ابواب کو نکالنا ہوگا۔ اسے اس کی موجودہ شکل میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ورنہ یہ اسلام کے ماننے والے شریعت نافذ کرکے ہماری تہذیب ۔۔۔۔۔۔ ہمارے وجود ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘

اوہ تو کیا یہ میری اور میرے عقیدے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا یہ قرآن کے بارے میں بدزبانی کر رہے ہیں۔ یہ اسلام اور قرآن کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔

اسٹیج پر سب براجمان تھے۔

ایک کا دعویٰ تھا وہ ملحد ہے اور کسی مذہب کو نہیں مانتا۔ مذہب شر پھیلاتا ہے اور سب برائیوں کی جڑ ہے۔

دوسرا کہتا تھا کہ وہ ہم جنس پرست ہے۔ وہ  صاحب عقیدہ ہے لیکن اس کتاب کے ماننے والے اس کی جان کے درپے ہیں ۔ اس لئے اسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔

ایک ادیب تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شریعت کے نفاذ سے سڑکوں پر انسانوں کی گردنیں کٹیں گی۔ عورتوں کے حق سلب کر لئے جائیں گے۔ یہ سارے خونخوار لوگ باقی سب کا جینا حرام کر دیں گے۔

تو یہ سارے میری بات کر رہے ہیں۔ مگر یہ میرے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ انہیں اسلام اور قرآن کا کتنا ادراک ہے؟

مگر یہ سارے اس قدر برافروختہ کیوں ہیں

یہ درست ہے کہ چند لوگوں کا ایک گروہ اسلام کے نام پر ایسے اقدام کرتا ہے جو انسانیت ہی کے نہیں اسلام کی تعلیمات کے بھی خلاف ہیں۔ مگر یہ سب مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار کیوں قرار دیتے ہیں۔ یہ اسلام اور شریعت کو کیوں موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں

یہ میرے دشمن کیوں ہو رہے ہیں

یہ مسئلہ تو میرا ہے

اسلام کی درست تصویر پیش کرنا

عقیدے کے نام پر قتال اور خوں ریزی کی بات کرنے والوں کو مسترد کرنا اور ان کا ہاتھ روکنا۔

یہ تو میرا کام ہے۔

’’ مگر کیا تم نے یہ کام کیا؟ کیا تم اس مسئلہ کو سمجھے؟ کیا تم نے اپنے عیقدے کی اصل شکل کو پہچانا ؟ تم تو اپنے خول میں بند ایک کٹھ ملا کی طرح مذہب اور عقیدے کے نام پر تہمت بنے ہوئے ہو۔ اس تہمت سے نجات حاصل کرنا تمہارا ہی کام تھا۔ مگر تم اس میں ناکام ہو گئے تو یہ باتیں تو سننا پڑیں گی‘‘۔

یہ اسی بزرگ کی آواز تھی۔

میں نے اپنی چادر اتار پھینکی اور بھاگ کر آواز کا پیچھا کیا

وہاں نہ سایہ تھا نہ وجود

بس آواز کی گونج تھی

ہاں وہ آواز ابھی تک فضا میں مرتعش تھی اور وہ بزرگ جا چکے تھے۔

میں ویران سنسان سڑک پر بے ردا کھڑا سوچ رہا تھا

یہ مسئلہ تو میرا ہے

پھر دوسرے اس کے بارے میں بات کیوں کرتے ہیں۔

 

loading...