کون ہے جو آنسو پونچھے

کوئٹہ کے گھروں میں سناٹا ہے ، سسکیاں ہیں، پاکستان کے چپے چپے میں صف ماتم بچھی ہے، دلوں میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ لیکن نگاہیں انہیں دیکھنے کو تیار نہیں ہیں جو پالن ہار ہیں ، زندگیوں کی حفاظت جن کی ذمہ داری ہے اور جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہر قیمت پر اس ملک سے ان دیکھی قوتوں کو ختم کردیا جائے گا جو وقفے وقفے سے حملہ آور ہوتی ہیں اور اپنے قائم و دائم ہونے کا اعلان کرتی ہیں۔ لیکن حکومت ہو کہ ریاست کے دیگر ادارے ، ماتم کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی سے زیادہ کچھ کر نہیں پاتے۔ اب یہ ہمدردی بھی دل کا آزار بن چکی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمدردی کی آڑ میں اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ معاملات تو ایسے ہی رہیں گے۔ آپ ماتم کرتے رہیں، ہم ڈھارس بندھانے کا ناٹک کریں گے اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر واپس آجائے گی ۔ کسی نئے سانحے کے انتظار میں، کسی نئے تیمار دار کی راہ دیکھتی اور ایک نئے اعلیٰ سطحی اجلاس کی نوید دیتی ہوئی زندگی جو مسلسل موت کا پیغام بن چکی ہے۔

یہ سارا عمل کل کوئٹہ میں دہرایا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم نے آرمی چیف کے ساتھ مل کر شہیدوں کی نماز جنازہ ادا کی، زخمیوں کی عیادت کی اور پھر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت ہوئی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ خود کش حملہ آوروں کی شہر میں آمد اور سیکورٹی فورسز پر حملہ کی انٹیلی جنس اطلاعات موجود تھیں لیکن انہیں روکنے والے ہاتھ بے بس تھے۔ سینکڑوں تربیت سے فارغ ہونے والے کیڈٹ پولیس اکیڈمی میں نہتے سونے کی تیاری کررہے تھے کہ تین خود کش حملہ آوروں نے اندر گھس کر قیامت بپا کردی۔ اب شور مچا ہے۔ دیوار کیوں نہیں بنی۔ اطلاع تھی تو حفاظت کیوں نہیں کی گئی۔ یہ سب پولیس افسر تھے تو ان کے پاس اسلحہ کیوں نہیں تھا۔ اسپتال کے بستر پر لیٹا ایک جوان اپنے ساتھیوں کی شہادت پر آنکھوں میں آنسو بھر کر بتاتا ہے کہ ہمارے پاس اسلحہ ہوتا تو میرے یہ ساتھی آج زندہ ہوتے۔ لیکن اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ اکیڈمی محفوظ کیوں نہ تھی، حفاظت کا انتظام کیوں نہ ہؤا، اسلحہ کیوں موجود نہ تھا، انٹیلی جنس معلومات پر عمل کیوں نہ ہو سکا۔ آوازیں البتہ بہت ہیں۔ معطل کرنے کی ، ذمہ داروں کو سزا ینے کی اور ناہل لوگوں کو برطرف کرنے کی۔ یہ آوازیں وہی دہن اگل رہے ہیں جو اس سانحہ کو روکنے کے ذمہ دار ہیں۔ دوسروں کو اپنا فرض پورا نہ کرنے کا الزام دینے والے اپنے فرائض سے غافل ہیں۔ کہ انہیں تو حکومت کرنے کے لئے چنا گیا ہے اور حکومت کا کام سزا دینا ہوتا ہے، الزام دھرنا ہو تا ہے ۔۔۔۔۔ خود ذمہ داری قبول کرکے اس بات کا اعتراف کرنا نہیں ہوتا کہ اگر کچھ غلط ہؤا ہے تو وہ اس کے سزا وار ہیں۔ اور اس وجہ سے انہیں حکومت کرنے اور عہدوں پر سرفراز رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

پاکستان میں اس روایت کو ماننے اور قبول کرنے کا رواج نہیں ہے۔ اس روایت کو عام کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ سانحات ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کی روک تھام کے لئے مساجد میں دعائیں کی جا سکتی ہیں اور اللہ سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔ حکمران آخر کس کس بات کا جواب دیں۔ اگر آپ مجبور کرتے ہیں تو کسی نچلے درجے کے افسر کو ذمہ دار ٹھہرا کر یہ ضد بھی پوری کی جا سکتی ہے۔ عوام کا مطالبہ ماننا بھی آخر جمہوری طور سے منتخب لیڈروں کا فرض ہوتا ہے۔ ہمارے حکمران اس معاملہ میں کبھی حجت نہیں کرتے۔ ساٹھ افسر دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کروانے کے بعد دو یا تین کو تساہل اور فرائض سے غفلت برتنے پر معطل یا برطرف کرنے میں آخرکسی پھنے خان کا کیا جاتا ہے۔

سانحہ کی خبر سامنے آنے کے چند ہی گھنٹے کے بعد یہ بات سامنے لائی گئی تھی کہ یہ کام لشکر جھنگوی العالمی کے دہشت گردوں نے کیا ہے۔ تینوں دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے اور انہیں ہدایات بھی وہیں سے مل رہی تھیں۔ پنجاب کے ایک شہر سے فرقہ واریت کی بنیاد پر کھڑا ہونے والا ایک گروہ اب ملک کی سرحدوں سے باہر نکل چکا ہے۔ اب وہ صرف فرقہ کے اختلاف پر وار نہیں کرتا بلکہ پوری ریاست کو چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اب اس کے رابطے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ ہیں۔ آئی ایس پی آر نے اعلان کیا تھا کہ داعش کا پاکستان میں صفایا کردیا گیا ہے۔ لیکن پیر کو دن میں پشاور میں ایک انٹیلی جنس افسر کو ہلاک کرنے کے بعد اس دہشت گرد گروہ نے کوئٹہ حملہ کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ گروہ عراق میں اتحادی افواج کے حملے میں پسپائی کی صورت حال میں اپنی قوت کا پروپیگنڈا جاری رکھنے کے لئے جھوٹے دعوے کررہا ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ داعش کا اعلان غلط ہے۔ ہم افغانستان اور بھارت کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لئے ان دونوں ملکوں پر الزام عائد کرسکتے ہیں لیکن ثبوت تو اس صورت میں بھی درکار ہوں گے۔

تحریک طالبان پاکستان کے فرقہ پرست عناصر کے داعش کے ساتھ مراسم اور اس کے اشارے پر قتل و غارتگری کوئی خفیہ معاملہ نہیں ہے۔ اس لئے اس بات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ داعش اب پاکستان میں اپنے دانت تیز کررہی ہے اور پاکستان ہی نہیں عالمی طاقتوں کو اپنی پھیلی ہوئی صلاحیت کے بارے میں خبردار کررہی ہے۔ ان اشاروں کو سنجیدگی سے سمجھنے اور ان عناصر کا پیچھا کرنے کی ضرورت ہوگی جو پنجاب یا ملک کے دوسرے دور افتادہ علاقوں سے نکل کر اب افغانستان میں پناہگاہیں بنائے ہوئے ہیں اور داعش جیسے خطرناک اور سفاک گروہ کے ساتھ ساز باز کرکے ایک ایسی جنگ کو ہمارے خطے میں لانا چاہتے ہیں جو صرف خوں ریزی اور تباہی پر ہی منتج ہوگی۔

خبر ہے کہ وزیر اعظم نے کوئٹہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کوتاہیوں پر سرزنش کی ہے اور تمام کالعدم گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ سوال تو صرف یہ ہے کہ یہ حکم جاری کرنے کے لئے مزید ساٹھ جوانوں کی قربانی کا انتظار کیوں کیا گیا ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کالعدم قرار پانے والے گروہ تو نئے ناموں اور پرانے چہروں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں، تو یہ کارروائی کس کے خلاف ہو گی۔ ان کالعدم ناموں کے خلاف جو خود انہیں اختیار کرنے والوں نے ترک کردئے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر دہشت گرد کی کوئی سرحد نہیں ہوتی تو ہم صرف بلوچستان میں ہی ان نام نہاد ’کالعدم‘ گروہوں کو کیوں تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں لاہور میں لشکر طیبہ کا عالمی اشتہاری حافظ سعید جماعت الدعوۃ کے نام سے سرگرم عمل کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ بھارت کا مفرور مولانا مسعود اظہر جنوبی پنجاب میں کیوں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ اورجولائی 2007میں فوج کے ساتھ محاذآرائی کرنے والا مولانا عبدالعزیز اسلام آباد میں ہی بیٹھ کر حکومت کو کیسے للکارتا ہے۔

پھر سے مطالبہ ہؤا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل کیا جائے۔ اگر یہ ایکشن پلان مدرسوں کو کنٹرول کرنے اور سلیبس سے زہر آلود مواد نکال کر نفرت اور تعصب کا راستہ روکنے کا نام نہیں ہے تو پھر کیا یہ کوئی ایسا ’اسم اعظم ‘ ہے جس کا ورد کرنے سے قوم کی ساری مشکلیں حل ہو جاتی ہیں۔ یا یہ ایک ایسے منصوبے کا نام ہے جو ایک تصویر پر عالمی شہرت پانے والی شربت گلہ کو گرفتا کرکے دنیا بھر میں پاکستان کے قانون کی بالادستی کا شہرہ کرسکتا ہے۔ یا یہ اس کارنامے کا نام ہے جو اس کے وزیر داخلہ دفاع کونسل پاکستان کے مشکوک مولویوں سے مل کر فورتھ شیڈول میں شامل ہزاروں ملاؤں کو سہولت دینے کی صورت میں انجام دیتے ہیں۔ حکومت اس کی وضاحت کرسکے تو بہت سے لوگوں کو قومی ایکشن پلان کی افادیت کے بارے میں خبر ہو سکے گی۔

آنسو ہیں کہ بہے جاتے ہیں۔  جن ہاتھوں کو انہیں پونچھنا تھا ، وہ دوسرے کاموں میں مشغول ہیں۔ کون ہے جو یہ آنسو پونچھے۔ اپنے بچوں کی قربانی دہنے والوں کو بتائے کہ یہ ملک ان دہشت گردوں کا پیچھا کرے گا جنہوں نے ان کے گھروں کے چراغ گل کردئے۔  کیا ہم کبھی ان راستوں کو بند کرسکیں گے جو بم بردار موت کے سوداگروں کو ہمارے آنگن تک لاتے رہے ہیں۔

loading...