ایک تصویر کا فسانہ

بے شمار ہنگامہ خیز ، پریشان کن ، افسوسناک اور اندوہناک خبروں کے ہجوم میں یہ ایک تصویر توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ اس تصویر میں پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید دنیا کے متعدد ممالک کے علمائے کرام کے ساتھ قطار بنائے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اس ملت اسلامیہ کے اتحاد کا اعلان کر رہے ہیں، جس کا وجود ہی نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تلاش بسیار کے بعد ایک انگریزی اخبار کی اضافی خبروں میں بالواسطہ طور سے اس اجتماع عظیم کا ذکر ملا ،جس میں پاکستان کے وزیر اطلاعات نے خطاب فرمایا ہے کہ حرمین الشریفین کی طرف کوئی دہشتگرد آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ اس اجتماع کو انٹرنیشنل علما اتحاد و عظمت حرمین شریفین کانفرنس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس 57 ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد کی گئی ہے۔ او آئی سی OIC یا اسلامی تعاون تنظیم 47 برس قبل 1969 میں وجود میں آئی تھی لیکن نصف صدی گزرنے کے باوجود یہ تنظیم عالمی سفارت کاری میں کوئی اہمیت حاصل کر سکی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے درمیان یا مسلمانوں کے بارے میں کسی تنازعہ کو حل کروانے میں کوئی کردار ادا کر سکی ہے۔ ایسی تنظیم کے زیر اہتمام  ایک مزید عالمی ملت کانفرنس کیا انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ اسی لئے یہ تصویر قابل توجہ ہے۔

یہ تصویر دراصل مسلمانوں کا ایسا نوحہ ہے جسے پوری دردمندی سے چیخ چیخ کر بیان کیا جاتا ہے لیکن کسی حوالے سے بات  اعلان،  بیان، نعرے اور دعوے سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں متعدد علاقائی یا عسکری اتحاد قابل ذکر خدمات سرانجام دے رہیں۔ مختلف شعبوں میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے یا فیصلے کرنے سے پہلے ان کی اعانت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن 57 مسلمان ملکوں کا او آئی سی OIC کی شکل میں اتحاد آمدم  نشستم  برخاستم سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔ مسلمانوں کا یہ علامتی اتحاد پوری دنیا میں ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اسی لئے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل جب عالمی علما کانفرنس کے سلسلہ میں اسلام آباد تشریف لائے تو انہوں نے پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کروانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس بیان کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی کہ بھارت کی طرف سے اسے مسترد کرنے کیلئے کوئی بیان ہی جاری کر دیا جاتا۔ اسی طرح جس علما کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اطلاعات علما کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر اتحاد  قائم کرنے اور دہشت گردی کے خاتمہ کا اعلان کر رہے تھے، اس کے مندوبین اسٹیج سے اترنے کے بعد ان باتوں اور اعلانات کو بھول چکے ہوں گے جو اس کانفرنس کے منشور کا حصہ تھیں۔ اپنے اپنے ملک واپس روانہ ہو کر،  اپنی اپنی درس گاہ ،  ادارے ، عہدے یا مسند پر واپس پہنچ کر وہ وہی کہیں گے اور کریں گے جو وہ اب تک کرتے چلے آئے ہیں، یعنی افتراق و نفاق کے راستے پر پوری دل جمعی سے گامزن رہیں گے۔
 
مسلمانوں کے اتحاد کے اعلان کےلئے اتروائی گئی تصویر دنیا بھر میں مسلمانوں کی ابتر صورتحال اور مسلمان ملکوں کی زبوں حالی کا فسانہ بیان کر رہی ہے۔ یہ اتحاد اور قوت کا اظہار نہیں ، مجبوری اور بے بسی کا اعلان ہے۔ یہ تصویر ایک بار پھر اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ مل بیٹھ کر باتیں بنانے کے علاوہ مسلمان مشترکہ مقاصد کےلئے کوئی قدم اٹھانے پر تیار نہیں ہیں۔ یہ 57 ملک نام نہاد ملت اسلامیہ کا جزو لاینفک ہونے کا اعلان تو کرتے ہیں لیکن ان میں سے ہر ملک کے مفادات ان طاقتوں کے ہاں گروی رکھے ہوئے ہیں جنہیں تقریروں اور نعروں میں اسلام کا دشمن اور مسلمانوں کے اتحاد کا مخالف بتایا جاتا ہے۔ گویا مسلمان ممالک اس بات کا تعین کرنے میں ناکام ہیں کہ کون ان کا دشمن ہے اور کون دوست۔ وہ یہ بھی جاننے سے قاصر ہیں کہ وہ کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نہ ہی وہ ان امور کی فہرست مرتب کر سکے ہیں جن پر اتفاق رائے کر کے مسلمان ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ افغانستان سے لے کر شام و عراق تک مسلمان ہی مسلمان کا خون بہانے میں مصروف ہے۔ اس نیک مقصد کی تکمیل سے فرصت ملے تو وہ شاید اتحاد اور مشترکہ مقاصد جیسے معاملات پر بھی غور کر لیں گے۔ اس دوران سینیٹر پرویز رشید اور ان کے ہمنوا  اختلاف کرنے والوں کو کافر قرار دے کر اپنا اور سامعین کا دل خوش کر سکتے ہیں جیسا کہ آج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر نے فرمایا کہ: ’’مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے۔ ان کا  مذہب کوئی دوسرا ہے۔ یہ تقسیم بہت واضح ہے۔ مسلمانوں اور اسلام کے دشمن مختلف اور الگ لوگ ہیں‘‘۔
 
اس اصول کو پیمانہ بنایا جائے تو اس کرہ ارض پر تو کوئی مسلمان دکھائی نہیں دے گا۔ خود کو مسلمان قرار دینے والے تو بہت ہیں لیکن اسی سانس میں پرویز رشید کی طرح دوسروں کو غیر مسلم کہنے والے بھی اتنی ہی تعداد میں موجود ہیں۔ اس صورت میں یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جائے گا کہ کس کو مسلمان مان کر اس کے نام کا نعرہ تحسین بلند کیا جائے۔ اس اصول میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ اس میں ’’غیر مسلم‘‘ کے بارے میں یہ طے کیا جا رہا ہے کہ وہ مسلمان کا دشمن ہے جبکہ حقیقی صورتحال میں تو مسلمان مسلمان کا دشمن ہے ۔بس وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر اور موقع ملنے پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر اپنے مشن کی تکمیل کےلئے سرگرداں رہتے ہیں۔ واضح ہونا چاہئے کہ خرابی مسلمان یا غیر مسلم ہونے میں نہیں ہے۔ برائی ان اصولوں کو ترک کرنے میں ہے جو شرف آدمیت کا احترام سکھاتے ہیں۔ جو سب کو زندہ رہنے کا حق دیتے ہیں۔ جو مساوات عام کرتے ہیں۔ سب کےلئے عدل و انصاف مانگتے ہیں ۔  ہر کسی کو عقیدہ اور رائے رکھنے کا حق دیتے ہیں اور اختلاف کا خوش دلی سے احترام کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے جس روز سے ان اصولوں کو اپنے منشور سے علیحدہ کیا  تھا اور اس کی بجائے  اسٹیج پر ہاتھ بلند کر کے اتحاد ملی کے نعرے بلند کرنے کا چلن عام کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اسی روز سے انہوں نے اپنی رسوائی اور زوال کے سفر کا آغاز بھی کیا تھا۔ اتحاد کے متلاشی مسلمانوں کو یہ صنف نایاب اسی لئے دستیاب نہیں ہے کہ وہ کسی بنیاد کے بغیر مل کر چلنا چاہتے ہیں اور اس اتحاد سے اپنا اپنا انفرادی فائدہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سعئ  لاحاصل کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ سب زخموں سے چور ، شکست سے بے حال ، کفر کے فتوے سمیٹتے نامعلوم منزل کے راہی بن چکے ہیں۔
 
یوں تو وہ بھی مسلمان تھا اور بزعم خویش جنت کا اولین حقدار بھی تھا جس نے اپنے جسم سے بم باندھ کر ترکی کے شہر غازی عنتیب میں شادی کی ایک تقریب میں دھماکہ کیا۔ 50 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا، جن میں بچے ، عورتیں ، جوان اور بوڑھے سب ہی شامل تھے۔ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے۔ ان میں سے بہت سے زخموں کی تاب نہ کر خالق حقیقی سے جا ملیں گے۔ لیکن یہ قیامت برپا کرنے والے نے تو ’’کافروں اور غیر مسلموں‘‘ کو مارا تھا کیونکہ اس کے خیال میں یہ لوگ مسلمان نہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کے نام پر تہمت تھے۔
 
بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کے بے مثال عالم حضرت علامہ طاہر القادری اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف فتوؤں کی پٹاری کھولتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح شریف برادران نے اسلام سے غداری کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  ان پر یہ بھی منکشف ہو چکا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کی خواہش اور کوشش ہے کہ نواز شریف ہی پاکستان میں حکومت کرے کیونکہ وہ اس ملک میں ان کے مفادات کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ علامہ کے ارشادات کو تشریح کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ 2013 کے انتخاب میں جن لوگوں نے ووٹ دے کر نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو اکثریت سے سرفراز کیا تھا،  انہیں یا تو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے گمراہ کر د یا تھا  یا بھارت نے پاکستان کے امور مملکت میں اس قدر رسوخ حاصل کر لیا ہے کہ وہ اپنے ’’ایجنٹ‘‘ کو حکمران بنوانے کےلئے انتخابات میں ایسی دھاندلی کروانے کا اختیار رکھتا ہے جس کا چرچا 2014 کے دھرنے میں طاہر القادری اور عمران خان ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کرتے رہے تھے۔ دو برس بعد دھاندلی دھرنے کا ساز چونکہ پرانا ہو گیا ،  اس لئے اب احتساب ریلی اور قصاص ریلی نے اس کی جگہ لے لی ہے۔
 
مسلمانوں کو جب ایسے رہنما میسر ہوں گے تو مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں اور گلیوں میں مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر گولیاں برسانے والی بھارتی فوج کو کون روکے گا۔ جس عالمی رائے کی بات کی جاتی ہے اور جن طاقتوں کو بیدار ہونے کا مشورہ دیا جاتا ہے، وہ کیوں ایسے لوگوں کی باتوں پر غور کریں گے جو ابھی تک یہ فیصلہ کرنے میں مصروف ہیں کہ ان کی صفوں میں دشمن کا ایجنٹ کون ہے اور کافروں کی تعداد کتنی ہے۔ اب یہ فیصلہ ہو تو کوئی اس بات پر غور کرے کہ ایک جنت نظیر وادی کو کس طرح انسانوں کے خون سے رنگین کیا جا رہا ہے۔
 
یہ تصویر جو میرے سامنے ہے یہ ایک ایسی ملت کے اتحاد کا اعلان نامہ ہے جس کے ارکان ملک ملک ، شہر شہر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اور کافر کافر کہہ کر ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ شام کے شہر ہوں یا عراق کی گلیاں ، افغانستان کی آبادیاں ہوں یا پاکستان کی بستیاں ۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ کچھ لوگ کفر کے نظام کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ کچھ نظام کو مسترد کرنے والوں کو کافر قرار دے رہے ہیں۔ کچھ اس لئے شمشیر بکف ہیں کہ انہیں اپنے عقیدے کا تحفظ کرنا ہے، بعض نے اس لئے بندوق اٹھائی ہے کہ شہر کے باقی لوگ دین حق کے پیغام کو چھوڑ چکے ہیں۔ ایسے میں ان بلند کئے ہوئے ہاتھوں سے کون پوچھے گا کہ حضرات گرامی آپ کس کس کے ہاتھ سے بندوق چھینو گے۔ آپ دنیا کو کیسے بتاؤ گے کہ مسلمان ملت واحدہ ہیں۔ کیسے باور کرواؤ گے کہ پیرس ، اورلانڈو ، برسلز، کوئٹہ ،  کابل ،  دمشق یا بغداد میں دھماکے کرنے والے دراصل غیر مسلم ہیں اور ہم جو انہیں غیر مسلم کہہ کر اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں ۔۔۔۔ صرف ہم مسلمان ہیں۔
 
مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے ہی عقیدے اور اس کے سنہرے اصولوں کی اس سے زیادہ بے توقیری کیا ہو سکتی ہے۔

loading...