ایک تصویر ۔۔۔۔۔ ہزار کہانیاں

ایک بڑے گھر کے باہر چار بڑے لوگوں کی تصویر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی خاص تصویر ہے لیکن اس بڑے مکان کے سائے میں اپنے اپنے شعبے کے یہ چار قد آور، پست قد اور بونے دکھائی دیتے ہیں۔ ساری زندگی عزت کمانے کے بعد آخر انسان کو ایک ایسے مکان کے سائے کی کیوں ضرورت پڑتی ہے اور وہ اپنے وقار ، مقام اور بڑھاپے کا خیال کئے بغیر کیوں کاسہ لیسی اور خوشامد پر مجبور ہوتا ہے۔

یہ سوال مجھے اس وقت سے پریشان کر رہا ہے جب سے میں نے یہ تصویر دیکھی ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرنے کےلئے جس تجربے اور مشاہدے کی ضرورت ہے، وہ انہی چاروں یا ان جیسے چند دیگر لوگوں کی دسترس میں ہے۔ ایسے میں میرے جیسے سوال کرنے والے کہاں جائیں۔

ہمیں ان جیسے استادوں نے بتایا اور درسی کتابوں میں لکھا کہ کس طرح اپنے وقت کے کامل انسانوں نے جلاد صفت شہنشاہوں کے درباروں میں حاضری دینے اور حکم بجا لانے  سے انکار کر دیا تھا۔ شاید کتابوں میں وہ لفظ اب بھی موجود ہوں گے۔ قصے بھی محفوظ ہوں گے۔ کہیں نہ کہیں کوئی معلم انہیں اپنے طالب علموں کو پڑھا بھی رہا ہو گا۔ لیکن وہ طالب علم بڑے ہو کر جب اپنے استادوں کو کسی بڑے گھر یا بڑے آدمی کی زیارت کرنے کے شوق میں قطار میں کھڑا دیکھیں گے تو وہ کس بات پر یقین کریں گے۔ اپنی سماعت پر یا آنکھوں پر ۔۔۔۔۔۔ کہ حقیقت حال تو اب ایک تصویر کی صورت اس کا منہ چڑا رہی ہے۔ تو وہ قصے کیا ہوئے۔

جن لوگوں نے اس استادوں کی تحریریں پڑھ کر ، باتیں سن کر ، دلیلیں مان کر زندگی میں قدم بڑھانا سیکھا۔ اور یہ جانا کہ اچھائی اپنی پہچان اپنے کردار سے کرواتی ہے۔ یہ برائی سے ہمیشہ ممتاز رہتی ہے۔ آج جب وہ اس امتیاز کو ختم ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل پر کیا بیتتی ہو گی۔ کیا وہ اس کردار پر پورا اتر سکیں گے جسے معیار بنا کر انہوں نے ایک حریص اور بدعنوان معاشرے میں ناپ تول کر اچھائی کے راستے پر قدم اٹھانا شروع کئے تھے۔

یہ تصویر سوالوں کا مرقع ہے۔ لیکن یہ زمانے کا احوال بھی کہتی ہے۔

یہ تاریخ کے وہ سارے سبق یاد دلاتی ہے جب علم کو نفع کے لئے استعمال کرنے والوں نے ضمیر کا سودا کرتے ہوئے دلائل کے انبار لگا دئے تھے۔ کیا وہ دلیلیں آج ہمارے کام آ سکتی ہیں۔ کیا وہ بلند قامت جنہوں نے اپنے علم کی روشنی کو وقت کے تخت و تاج کو چمک عطا کرنے کے لئے استعمال کرنا ضروری سمجھا ، اب ہمارے حافظے میں محفوظ ہیں۔ کیا تحسین و تعریف کا کوئی لفظ ان کے لئے ادا ہوتا ہے۔

زمانہ بڑا ظالم ہے۔ جو لوگ اسے سمجھنے کی صلاحیت  کو ملّی شعور بیدار کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ذاتی مرتبہ اور مفاد پانے کےلئے استعمال کرتے ہیں۔ خداداد صلاحیتوں کو شخصی حرص کا پابند کرتے ہیں، انہیں یہ زمانہ نشان عبرت بناتا ہے، باعث تقلید نہیں۔ لیکن یہ بھی ہر عہد کی ستم ظریفی ہے کہ عبرت و شرمندگی کی ان علامتوں کو جاننے اور سمجھنے کے باوجود ہر عہد کا صاحب علم، صاحبان اقتدار کے در کا مجاور بننے میں عار محسوس نہیں کرتا۔

کہتے ہیں کہ وقت بدل گیا ہے۔ اب ہر طرف یہی چلن ہے۔ رابطے کرنے اور دوستیاں بڑھانے کا دور ہے۔ لوگ اسے خوشامد سمجھتے ہیں کیونکہ وہ زمانے کے اطوار سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یا وہ لوگ ایسا نعرہ بلند کرتے ہیں، جنہیں خود یہ موقع نہیں ملتا۔ یہ خوشامد نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ فہمی ہے۔ خدا نے ان لوگوں کو اقتدار سونپا ہے۔ اسی خدا کے حکم سے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری سب پر لازم ہے۔ اس تابعداری میں اگر سونے کے چند سکے ، عہدوں کی کچھ خیرات ، مفادات کی تھوڑی بھیک، ہمارے حصے میں بھی آ جائے تو اسے نعمت خداوندی جان کر قبول کرنا چاہئے۔ تبھی تو رشوت ، ہیر پھیر اور ذخیرہ اندوزی سے بنائے گئے ہر محل پر “ہذا من فضل ربی“ لکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کہ کون اس بات سے انکار کرے گا کہ یہ رب ہی کی عطا ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا۔

کونے میں دبکا فقیر یہ باتیں سنتا ہے تو اس کی زہر خند مسکراہٹ پوری کہانی بیان کرتی ہے۔ اس کہانی کے بھید جاننے میں ہی زندگی کا راز ہے اور سرفرازی ہے۔ لیکن ایسے گدڑی پوش اور بوریا نشین تو یہ راز پا کر بھی زبوں حال ہیں۔ نہ شان و شوکت ، نہ طمطراق ۔ نہ آگے پیچھے گھومنے والے خوشامدی اہلکار اور نہ زندگی کی سہولتیں۔ تو کیسا راز ہے۔ یہ کیسی سرفرازی ہے۔

جواب میں صرف نرم خو مسکراہٹ ہے۔

اصرار مگر بہت زیادہ ہے

شاگردوں کے ہجوم میں بہت لوگ بے چین ہیں۔

فقیر بولتا ہے: تم بتاؤ کہ سہولتوں سے لبریز پرتعیش یونیورسٹیوں کے کمروں کو چھوڑ کر اس فقیر کے حجرے میں کیوں براجمان ہوتے ہو۔

میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں!

آپ ہمیں حکمت اور عقل کی باتیں بتاتے ہیں۔ آپ ہمیں اچھے برے کی تمیز سکھاتے ہیں۔ آپ سے ہم نے اس روشنی کا پتہ پایا جو پورا وجود روشن کرتی ہے۔ ضمیر کو زندہ کرتی ہے۔

فقیر اپنی مسند پر اٹھ بیٹھا اور بولا: تو میں کیا جواب دوں۔ اس کا جواب تو تم جانتے ہو۔ یہ سمجھ لو جس روشنی کی تم بات کرتے ہو۔ جس ضمیر کو تم رہنما کرنا چاہتے ہو، وہ اسی وقت تک تمہارے ساتھ ہو گا جب تک تم اس کی حفاظت کرو گے۔ جب تک علم کو بانٹو گے، بیچو گے نہیں۔ جب اپنے تجربے کو دوسروں کی فلاح اور بہتری کے لئے استعمال کرو گے ۔۔۔۔ کوتوال شہر کی خوشنودی کےلئے نہیں۔ تمہاری طاقت، تمہارے ارادے اور ضمیر میں ہے۔ یہ صلاحیت بہبود عام کے لئے ہے تواضع شاہ کے لئے نہیں۔ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایسا وقت ضرور آئے گا جب تم کو یہ انتخاب کرنا ہو گا۔ ایک طرف تکلیفیں ہوں گی لیکن اطمینان بھی ہوگا۔ دوسری طرف سہولت ہوگی مگر وہ تمہارے چہرے کی رعنائی اور وجود کا وقار تم سے چھین لے گی۔

پھر چاہو تو شاہ وقت کی خوشدلی کیلئے خوش فعلیاں کرو یا لطیفے سناؤ۔ اور خلعت فاخرہ پاؤ

یا اسے بتاؤ کہ اے بادشاہ تیری رعایا تجھ سے نالاں ہے اور دربار سے دھتکارے جاؤ۔

خلعت اور دھتکار میں تھوڑا ہی فاصلہ ہے۔

اس تھوڑی سی جگہ میں ضمیر نے ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔

تم نے اس کی بات نہ سنی تو وہ سکڑ جائے گا۔ تمہارا راستہ کھوٹا نہیں کرے گا۔

کیونکہ تم خود اپنا راستہ کھوٹا کرنے کی راہ پر چل پڑو گے۔

شاہ وقت کے محل کے سائے تلے اپنی باری کا انتظار کرو گے۔

loading...