نہ یہ تصویر میری نہیں ہے!

یہ تصویر ذہن سے چپک گئی ہے۔ کیا اسے زیست عطا کی جا سکتی ہے۔ تصویر تو خیال ہوتی ہے۔ خیالات آتے جاتے رہتے ہیں۔ انسانی دماغ مختلف النوع خیالات کا مجموعہ ہے۔ اب ان میں سے ہر خیال حقیقت بننے لگے تو شاید کاروبار حیات چل نہ سکے۔

لیکن یہ تصویر کیوں کر میرے ذہن پر نقش ہو گئی ہے۔ اس کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ یہ خیال نہیں ہے۔ یہ ایک ٹھوس منظر ہے۔ ایک ایسا منظر جو کبھی زندہ جاوید تھا پھر اسے وقت کے دیو نے نگل لیا۔ لیکن یہ منظر میرے دماغ پر کیوں ثبت ہو گیا۔

اس کا سراغ لگانے سے پہلے یہ طے کر لیا جائے کہ بات اگر خیال کی بھی ہو ۔۔۔۔۔ صرف ایک تصور کی تو اسے مسترد تو نہیں کیا جا سکتا۔ خیال تو ایک بیج کی مانند ہے۔ اسے پروان چڑھایا جائے تو یہ بال و پر دینے لگتا ہے۔ بامعنی ہونے لگتا ہے۔ رہنمائی کرتا ہے۔ تصویریں اجاگر کرتا ہے۔ منظر نامہ بناتا ہے۔ حیات تشکیل دیتا ہے اور اسے معراج تک لے جانے کا فریضہ ادا کرتا ہے۔
خیال کو کیسے مسترد کر دیا جائے۔ یہ تو ہونے کا ثبوت ہے۔ زندگی کا تصدیق نامہ ہے۔ آرزوؤں کی تکمیل کا راستہ ہے۔ خوابوں کے تشکیل کی صورت ہے۔ خیال تو نعمت ہے۔ سہولت ہے۔ سہارا ہے۔ راستے کی روشنی ہے۔ مشکلوں کا حل ہے۔ اس کی انگلی تھامے انسان نے اس کائنات پر قدم رکھا تھا پھر اپنے تخیل کی قوت اور بازوؤں کی صلاحیت سے دھرتی کا سینہ چیرتا اپنے لئے کامیابی کا راستہ تراشتا رہا۔

فاسد خیالات ۔۔۔۔ ہاں یہ ایک تصور ضرور ہے مگر آزادی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنی ہو تو ہر خیال کو مفسد اور شیطانی قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے۔ خیال کھوج ہے۔ جستجو ہے۔ شوق ہے۔ ہمت ہے۔ نعمت ہے۔ راستہ ہے اور منزل ہے۔ اسے برا تصور کرنے کا مطلب ہے کہ بنی نوع انسان کے ہونے کو مسترد کر دیا جائے۔ اس کی کاوشوں، کامیابیوں اور سحر انگیزیوں سے انکار کیا جائے۔
یوں یہ بھی درست ہے کہ ہلاکت، تباہی اور بربادی کا آغاز بھی کسی خیال سے پھوٹنے والی کونپل سے ہی ہوا ہو گا۔ کسی دماغ میں تو یہ خیال کلبلایا ہو گا کہ زندگی کو ختم کر کے حیات کا راستہ تراشا جا سکتا ہے۔ اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے دوسروں کی تمناؤں کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔ اپنا محل تعمیر کرنے کیلئے کسی کا جھونپڑا گرایا جا سکتا ہے۔

کیا اسے بھی خیال کہیں گے۔
کیا یہ رویہ حسن و خوبی کے اس معیار کو مسترد نہیں کرتا جو تزئین، نزاکت ، احساس اور شعور کو پروان چڑھاتا ہے۔ یہ تخصیص تو کرنا ہو گی۔ لیکن یہ امتیاز کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ خیال تعمیر پر استوار ہوتا ہے۔ تخریب کا پیغام لانے والا اس کا ہمزاد تو ہو سکتا ہے، کامرانی و شادمانی کا پیامبر، حسن آفریں تصور نہیں ہو سکتا۔

وہ تصویر جو میں دیکھتا ہوں۔ اور وہ خیال جو صرف ایک خوبصورت دنیا کو جنم دیتا ہے اور جس کی کوکھ سے سہولت ، خیر سگالی اور احترام جنم لیتا ہے۔ کیا وہ ایک ایسا خواب ہے جو شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یا میری آنکھیں اس جادونگری کا مشاہدہ کرنے سے قاصر ہیں۔
میری تصویر میں یہ دنیا خوبصورت ہے۔ جہاں سب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں۔ مسکراہٹ سے ایک دوسرے کو آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔ رزق کی تقسیم کے سوال پر جھگڑا نہیں ہوتا۔ انسان کی عزت نفس اور اس کے وجود کا احترام کیا جاتا ہے۔ وہاں کوئی فساد نہیں ہوتا۔ کیونکہ کوئی کسی کا حق غصب نہیں کرتا اور کوئی کسی کو محروم دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کر لیتا۔ اس دنیا کا ہر گھر اسی وقت خوشی کے شادیانے بجاتا ہے جب اس کا ہمسایہ بھی مسرور ہو۔ اس دنیا میں دوسروں کی تباہی پر اپنی کامرانی کی عمارت تعمیر کرنے کا امکان نہیں ہے۔
یہ تو سہانا خواب ہے۔ ایک سجیلی تصویر کے انگ اور رنگ ہیں لیکن میرے اردگرد جو دنیا آباد ہے اس میں اس خواب کا شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔

یہ دنیا جھلسے چہرے والی ایک نابینا لڑکی کو بے اعتبار اور بے آبرو کرتی اور اس پر بغلیں بجاتی ہے۔ کیونکہ ہم نے حسن کو نوچ لینے کی روایت کو پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے اس مزاج کو گلے لگایا ہے کہ میں جسے چاہتا ہوں اس پر سوائے میرے کسی دوسرے کا حق نہیں ہو سکتا۔ یہ حسینہ جو میرے خوابوں میں آتی ہے۔ اگر میں اس کا ہاتھ تھام لوں تو اس کی کیا مجال کہ مجھے انکار کر دے۔ یہ میری دنیا ہے۔ میری خواہش کو کوئی کیوں مسترد کرے۔ تو کیا اس حسینہ کا کوئی خواب ، کوئی خواہش ، کوئی ضرورت یا کوئی رائے نہیں ہے۔

ہو گی ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی کیا اہمیت ہے۔ میں نے کہا نا کہ میں اسے چاہتا ہوں۔ پا لینا چاہتا ہوں۔
انکار مسلسل ہے۔
وجہ کچھ بھی ہو
یہ رائے کا معاملہ ہے
استحقاق کا حوالہ ہے
اپنے ہونے کے احساس کی بات ہے
یہ غرور کوئی کیسے کسی سے چھین سکتا ہے
ہے نا۔ اس کا بھی راستہ ہے
یہ تیزاب کی بوتل
جو میرا نہیں ہو سکتا۔ وہ کسی دوسرے کو کیسے رجھا سکتا ہے۔
اب جھلسا چہرہ ، بینائی سے محروم آنکھیں لئے، جاؤ دنیا کے رحم پر زندہ رہو۔

رحم کرنے والے کون سا کم ہیں۔
کوئی غریب ہے۔ محروم ہے۔ بے آسرا ہے، بینائی سے محروم ۔۔۔۔۔ اس کا چہرہ جھلسا ہے تو کیا ہوا۔ اللہ کا خوف بھی تو کوئی شے ہے۔ ایسوں کی مدد کرنا تو عین ثواب ہے۔
آؤ یہ مال لے جاؤ۔ یہ تمہارا حق ہے۔ تم کو ناحق تمہارے حسن اور بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایسے لوگ دنیا و آخرت میں اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔
تم ادھر آ جاؤ کہ میں ان باتوں کو نہیں مانتا۔
میں تو بے سہارا ، بدصورت بنا دیئے گئے مجبوروں سے بہت محبت کرتا ہوں۔
اور یہ میرے دوست ہیں۔ یہ بھی میرے ہی جیسے ہیں۔
آؤ یہ تمہارا حق ہے
یہ سارا مال لے جاؤ
دیکھو اب تمہیں کون پوچھتا ہے۔ لیکن ہم پھر بھی تمہارے قدردان ہیں۔

رکھو! اپنا مال۔ لعنت ہے تم پر اور تمہاری خدا خوفی پر۔ میں جانا چاہتی ہوں،
لیکن یہ مرد کا بڑھا ہوا ہاتھ ہے۔
اسے کون دھتکار سکتا ہے۔
ایسے رحم دلوں کی پیشکش کو مسترد کرنے والی احسان فراموش۔

کانچ کا ایک گلاس فرش پر گرا
کرچی کرچی شیشے کے ٹکڑے پاؤں زخمی کئے دیتے ہیں۔
میرے خواب کی تصویر میں پیوست ہوئے جاتے ہیں
نہ اس تصویر کو مت چھوؤ۔ یہ میرا خواب ہے۔ یہ ایک خوبصورت دنیا کا خواب ہے۔ یہ ہنستی مسکراتی، کھلکھلاتی  دنیا کا خواب ہے۔

ان خوں ریز شیشے کے ٹکڑوں سے اسے داغدار نہ کرو۔ دھماکہ ہوتا ہے
خون ۔۔۔ انسانی جسموں کے ٹکڑے اور سناٹا ۔۔۔ وہ سناٹا جو دھماکے اور پکار و آہ و بکا کے بیچ ٹکا ایک نامعلوم لمحہ ہے۔ کیا اس لمحہء بے نام کو محسوس کیا۔
میں اس لمحہ کو پھیلا کر دھماکے اور تباہی کے بیچ حد فاصل بنا دینا چاہتا ہوں۔
یہ دھماکہ میرے خواب کی اس سندر تصویر کو نگلنا چاہتا ہے۔ میں اسے اس حد فاصل پر تھام لینا چاہتا ہوں۔

اور یہ تیزی سے دوڑتی ایک بس
سڑک کے کنارے چھابڑی لگائے ایک سبزی فروش اور چند خریدار
میری تصویر میں وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کی خیر مناتے ہیں۔ تو یہ کسی عفریت کی طرح چلاتی بس کیوں بڑھی چلی آتی ہے۔
سب میری اس حسین تصویر کو کیوں روندنا چاہتے ہیں۔

وہ مسکراتی آنکھیں جو دیکھنے سے محروم کر دی گئیں
وہ ماں جو لخت جگر کو آغوش میں بھینچے دھماکے اور آہ کے بیچ حائل خلا میں گم ہو گئی۔
وہ باپ جو سبزی کی پوٹلی لے کر گھر جانے کو بڑھنے والا قدم دوبارہ زمین پر نہ رکھ سکا۔

نہ یہ میری دنیا نہیں ہے۔ یہ میرا خواب نہیں ہو سکتا۔ میرے خواب میں پھول خوشبو سے مہکتے ہیں، گھروں کے آنگن آباد ہیں۔ روشن آنکھیں مسکراتی ہیں، غرور سے سر بلند ہیں۔
وہاں کوئی ماں کسی نامعلوم لمحے کی کھائی میں گم نہیں ہوتی۔
وہاں کوئی بچہ اپنے باپ کے آنے کے انتظار میں بھوکا نہیں سوتا۔
یہ تصویر میری نہیں ہے۔
اسے کس نے بگاڑا ہے۔

loading...