یوم قائد اعظم

ہم نے محمد علی جناح کو قائد اعظم کا رتبہ دینے کے بعد یہ تصور کرلیا کہ ہم اپنی قومی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو چکے ہیں۔ شاید اس سے بڑھ کر ہم نے یہ کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے کہ ملک کے کرنسی نوٹوں پر قائد اعظم کی تصویر شائع کرکے اس لیڈر کو خراج مسلسل پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اور شاید ہم نے قائد پر اس سے بھی بڑا احسان یہ کیا ہے کہ اس ملک اور معاشرہ میں جہاں ہر دوسرا مسلمان کافر قرار پاتا ہے اور ہر نئی چیز پر بدعت یا غیر اسلامی ہونے کا فتویٰ جاری کیا جاتا ہے، ہم نے ابھی تک قائد اعظم کی تصویر والے نوٹ کو قبول کرکے اور ان پر شرعی حدود سے متجاوز ہونے کا حکم نامہ جاری نہیں کیا۔ ۔۔۔ اور ایسا کرکے گویا اس احسان کا بدلہ چکا دیا ہے جو محمد علی جناح نام کے اس شخص نے اڑسٹھ سال قبل انگریز اور ہندوؤں کی نمائیندہ جماعت کانگرس کی مشترکہ قوت سے مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان نام کی ایک ایسی پناہ گاہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرکے کیا تھا، جسے پاکستان کہا جاتا ہے ۔

یوں تو ہم اس ملک کے وجود کو چیلنج کرنے اور پچھلی صدی کی تیس اور چالیس کی دہائیوں میں اس مملکت کے قیام کے لئے جد و جہد کرنے والوں کو ڈس کریڈٹ کرنے اور ان کے کئے یا نہ کئے کاموں میں کیڑے نکالنے ، کہے یا نہ کہے اقوال کا خاکہ اڑانے اور ہر دم اپنی عقل اور تاریخی تفہیم کا ڈھنڈورا پیٹنے میں اتنے مشغول رہتے ہیں ، کہ ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہمارے بزرگوں کی اس نسل نے دور فہمی سے کام لیتے ہوئے ، ان مصائب کا اندازہ نہ لگایا ہوتا جو ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلمان اقلیت کو برداشت کرنا پڑتے ۔۔۔۔۔۔ تو آذادی، خود مختاری اور معاشی و سیاسی مفادات کے تحفظ کی سب باتیں خیالی ثابت ہوتیں ۔

تب ہم اپنے سیاسی لیڈروں سے یہ تقاضہ نہ کررہے ہوتے کہ وہ ہمارے لئے بہتر سماجی سہولتیں، روزگار کے مواقع اور اقوام عالم میں ہمارے قومی مؤقف کی بہتر ترجمانی کریں بلکہ ہم اس بات پر گڑگڑارہے ہوتے کہ ہمیں اپنے علاقے کی مسجد قائم رکھنے کی اجازت دی جائے، ہمیں اپنے مذہبی شعائر کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہئے اور ہندو انتہا پسند ، ہماری مقدس یادگاروں کو صرف اس لئے تباہ کرنے کے درپے نہ ہوں کہ انہیں کسی مسلمان بادشاہ نے تعمیر کیا تھا۔ تب ہمیں ہر پل اور ہر موقع پر یہ دلیل دینا پڑتی اور یہ ثابت کرنا پڑتا کہ ہم بر صغیر کی کوئی درآمدشدہ مخلوق نہیں ہیں بلکہ اسی دھرتی سے جنم لینے والے لوگ ہیں جنہیں زندہ رہنے اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا مساوی حق حاصل ہے۔

لیکن ہم تو اس بھیانک عمل سے گزرنے کی زحمت سے بچ گئے کہ تقریباً ایک صدی پہلے برصغیر کو جناح جیسا نابغہ وقت سیاستدان اور علامہ اقبال جیسا بے مثال مفکر اور ہمدرد میسر آیا تھا۔ اب ہم ایک آذاد قوم ہیں ۔ اب ہم جو چاہیں سوچنے اور کہنے میں آذاد ہیں ۔ اب ہم پر اس بات کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ تاریخ کا سبق یاد رکھیں اور ان لوگوں کے ممنون احسان ہوں جن کی بصیرت اور کاوش سے اہل پاکستان اپنی تمام تر مشکلوں اور صعوبتوں کے باوصف ایک خود مختار، طاقت ور اور باعزت مملکت کے شہری ہیں۔

اس کرب اور عذاب کا احوال پوچھنا ہے تو ہندوستان میں آباد مسلمانوں سے پوچھا جائے جو نہ مرضی کی زندگی گزار سکتے ہیں ، نہ من بھاتا کھا سکتے ہیں اور نہ سیاسی سطح پر ان کی آواز سنائی دیتی ہے اور انتہا پسند غنڈوں کے گروہ جب چاہیں کسی کا گھر، عبادت گاہ یا کاروبار تاراج کردیں ۔
اس تکلیف کا ا حوال مقبوضہ کشمیر کے باسی بھی بتا سکتے ہیں کہ سات لاکھ فوجی ہردم ان کی آواز دبانے اور حقوق پامال کرنے کے لئے مستعد ہیں۔

ہم کہ آذاد ملک کے آذاد شہری ہیں اور اب کہ ہم نے اپنے آبائی وطن سے نکل کر ایک نئے آذاد ملک میں آباد ہونے کا قصد کیا ہے، تو ہمارے لئے یہ سارے مشکل حالات دکھائی نہ دینے والی ایسی حقیقتیں ہیں کہ جن کو ماننے کو دل نہیں کرتا اور نہ ہم ان کے بارے میں سوچ کر اپنے شب و روز کی شگفتگی و راحت کو داغدار کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہم آج جمع ہیں ۔ ہم پاکستانی ہیں اور یہ فکر کرتے ہیں کہ اس ملک پر آنے والی مصیبتوں سے کس طرح نجات حاصل کی جائے اور کیوں کر پاکستان ایک ایسا خوبصورت معاشرہ بن جائے جیسا کہ ناروے ہے جو مسلسل پانچ سالوں سے دنیا میں رہنے کا بہترین ملک شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ منزل ہم سے اتنی دور کیوں ہے۔ ہم وہ سب کچھ کیوں حاصل نہیں کر سکتے جو اس ایک نہایت چھوٹی قوم نے حاصل کرلیا۔ آخر پاکستان میں کون سی کمی ہے کہ وہاں پر ترقی کا راستہ ہموار نہیں ہوتا، امن بحال نہیں ہوتا اور زندگی آسان نہیں ہوتی۔

ہم سب کے پاس ان سوالوں کے اپنے اپنے جواب ہیں۔ ہم دن رات مختلف محفلوں میں وہ حل پیش کرکے خود کو مشکل کشا اور اہل پاکستان کو گمراہ اور کند ذہن بھی تصور کرتے رہتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف اوور سیز پاکستانیوں تک محدود نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی نسل در نسل ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک و قوم کی مشکلوں کا ذمہ دار دوسروں کو اور اس کے وسائل کا حقدار خود کو سمجھتے ہیں۔

تو کیا عجب ہے کہ معاملات گنجلک اور اس ملک میں آباد جمیعت قوم کی شناخت سے محروم ہوتی چلی جاتی ہے۔
لیڈر لوگوں کو اور ماضی کو ۔۔۔ لوگ لیڈر کو اور ان کی بدعنوانی کو۔۔۔ اور دونوں مل کر امریکہ کو گالی نکالتے اور اپنی مشکلوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

ایسے میں میں تو صرف یہ کہوں گا کہ جو قوم اس شخص کا پیغام بھول جائے جسے وہ بابائے قوم کہتی ہے، وہ اپنا راستہ کھوٹا نہیں کرے گی تو کیا حاصل کرے گی۔

ہم نہ قائد کے پیغام کو یاد رکھ سکے کہ فرقہ بندی کسی قوم کی شناخت نہیں ہوسکتی۔ نہ ان کے ان اصولوں پر عمل کرسکے کہ اتحاد ، یقین اور تنظیم ہی ترقی اور کامیابی کا راستہ ہے۔
اور نہ ہی یہ تسلیم کرسکے کہ ہماری مشکلوں کی وجہ انحراف پر ہے ، اصولوں ، اخلاقی قدروں اور سیاسی بنیادوں سے انحراف۔

پھر تو کامیابی کا راستہ قائد کی باتوں میں نہیں ان کی تصویر والے نوٹ کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
اہل پاکستان اس کوشش میں لگے تو ہیں ، دیکھئے کیا نتیجہ برآمد ہو۔

(یہ مضمون پاکستان ورکرز ویلفئر یونین ناروے کے زیر اہتمام یوم قائد اعظم کی تقریب میں پڑھا گیا)

loading...