قوم کی تقدیر کا ستارہ

سب ہی وہاں جمع تھے۔ سب ہی قوم کے درد میں مبتلا تھے۔ سب ہی اس درد کا مداوا ہونے کے دعوے دار تھے اور سب سنہرا پاکستان بنانے کے لئے پرجوش تھے۔

ان میں وہ بھی تھے جو موقع ملنے پر ایک دوسرے کا لباس نوچنے کو عین قومی فریضہ سمجھتے ہیں اور وہ بھی جو آنسو بہاتے ہوئے اصولوں کی قربانی دیتے ہیں پھر بھی بااصول ہونے کا اعزاز پاتے ہیں اور اسی کارنامے پر گردن کو ایک خاص ادا سے خم دے لیتے ہیں کہ تکبر بھی ظاہر نہ ہو اور عام لوگ کسی غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ وہ کس عظیم ہستی کا دیدار کر رہے ہیں۔
 
یوں تو سب وہاں جمع تھے اور اپنے اپنے طور خوشامد اور تہذیب کا ایک خوبصورت گلدستہ بنے ہوئے تھے۔ یعنی مقصد تو یہ تھا کہ جب بڑے گھر تک خبر پہنچے تو راوی خیر ہی خیر لکھے لیکن حاضر مجلس لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ بادِ مخالف کے آ گے چراغ جلانے کا حوصلہ صرف ان کے دم سے قائم ہے۔
 
اس زندہ حوصلہ کی لاج رکھنے کے لئے آج انہوں نے باہمی اختلافات کو بھلا کر یہ پیغام دینا تھا کہ اس ملک کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کے نعرے پرانے ہوئے کیوں کہ خون بہانے سے اب ملک تعمیر نہیں ہوتے لیکن وہ اپنی صلاحیتوں، فکر، جدت، روشن دماغی اور غیر متزلزل یقین سے ایک ایسا پاکستان تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں حسب معمول: 
 
انصاف ہو گا
مساوات ہو گی
خوشحالی ہو گی
کسی گھر میں اندھیرا نہیں ہو گا
نونہالوں کے چہرے گلزار
آنے والی نسلوں کے حوصلے جوان
جانے والی نسل کے سر فخر سے بلند ہوں گے
مگر یہ کیوں کر ہو گا
 
سوچا: کہ اگر یہ سب اتنا آسان ہے تو کرنے کی بجائے اس کا ذکر کیوں ضروری ہے
 
کہا: جو خواب نہیں دیکھتے، وہ کر گزرنے کا حوصلہ نہیں کرتے، آج سوچو، ایک دلکش تصویر تیار کرو، خیال میں اسے متنوع رنگوں سے سجا کر ایک ایسا نظریہ استوار کر لو جو اس تعمیر میں مہمیز کا کام دے
 
ہو سکتاہے
لیکن یہ باتیں الجھتی جا رہی ہیں
تصویر، خیال اور رنگ
یہ ساری تو باتیں ہیں
 
تعمیر کے لئے مختص اوصاف میں تو شاید پسینہ، محنت اورتعمیر کی لگن ضروری ہے
 
لگن تو دیکھنے میں آئی
 
دو گھنٹے تک محفل کو پرجوش اور لطیف باتوں، چست فقروں اور برجستہ شعروں سے گرمانے اور یہ اعلان کرنے کے بعد کہ یہ ہمارا وطن ہے۔ ہم اس کے رکھوالے ہیں۔ ہم اس کے روشن مستقبل کے امین ہیں اور اب کسی کو اس امانت میں خیانت کرنے کا حق نہیں دیں گے۔
 
آخر سب تھک گئے
 
صاحب صدر بھی اور ان کی واسکٹ اٹھائے محفل کے کونے میں ایستادہ ان کا پیادہ بھی جو اشارہ چشم کا منتظر تھا کہ صاحب کو سردی محسوس ہو تو وہ گرم واسکٹ انہیں پہنا کر اپنے ہونے کا جواز حاصل کرے۔
 
آج صاحب صدر اس پیادہ کو سرخرو کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
 
آج محفل گرم تھی۔ باتیں پرجوش تھیں۔ تخیّل کی پرواز نے سرد ماحول کو گرما دیا تھا۔ ایسے میں تو، تن پر سجے کپڑے پھاڑ کر رقص کرنے کو دل کرتا ہے۔ لیکن ٹھہر اے دلِ ناداں۔ اب اتنا بھی دیوانہ نہ ہو۔ اس معاشرے میں دیوانوں کی کہانیوں سے حظ لیا جاتا ہے، انہیں دیکھ کر پتھر مارے جاتے ہیں۔
 
نہ اب میں سنگسار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ بڑی مشکل سے تو یہ فن ہاتھ آیا ہے کہ طویل سیاسی جدوجہد کا قصہ سنا کر یہ ثابت کیا جا سکے کہ کن جاں گسل خاردار راہوں سے گزر کر قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار عوام کا یہ خادم، اب ان کے سامنے فخر اور انکسار کی صورت بنا، دزدیدہ نگاہوں سے لوگوں کے چہروں کے اتار چڑھاﺅ کو تاک رہا ہے۔
 
ایسے میں واسکٹ بردار پیادہ کسے یاد رہتا ہے۔ یوں تو اسٹیج پر بیٹھا ہر شخص دوسرے کو جان محفل کہہ کر اپنی شان میں اضافہ کرر رہا تھا۔ کہ دل ہی دل میں ہر مقرر خوب جانتا تھا کہ اس کے سوا اس محفل تو کیا ملک بھر میں ، اس ملک و قوم کا سب سے بڑا جاں نثار وہ خادم بقلم خود تھا۔
 
اتنے سارے بقلم خود جب زریں خیالات کے اظہار سے فارغ ہوئے تو ان کے پہلو میں دل یوں دھڑک رہے تھے کہ ابھی اچھل کر باہر نکل پڑیں۔
 
لیکن اس سے پہلے کہ یہ سارے بے چین دل، بے دید اور بے بہرہ لوگوں کے بے مصرف قدموں تلے روندے جاتے، محفل کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔
 
یہ اعلان تھا یا صورِ اسرافیل
حشر کا سامان تھا اور ہم تھے
 
دیر سے فوٹو سیشن کے لئے اپنی اپنی پسند کے لیڈر کو تاڑنے والے طبع آزماﺅں نے یک بیک یوں اسٹیج پر چھلانگ لگائی گویا ڈوبتے جہاز سے جان بچانے کے لئے کود رہے ہوں۔
 
ان لوگوں کو احمق سمجھتے ہوئے جن لوگوں نے محفل میں جمائیاں لیتے ہوئے وقت پورا کیا تھا۔ وہ ماکولات و مشروبات کی میزوں کی طرف یوں لپکے کہ نیکیوں کے یہ خوان ان سے پہلے کوئی دوسرا لوٹ کر لے گیا تو شاید انہیں باقی زندگی جہنم میں بسر کرنا پڑے۔
 
ایک نیا پاکستان تعمیر کرنے والے یہ سارے لوگ خوشامد کرنے یا کروانے میں مصروف تھے۔ کھانے اور تھوڑی دیر میں شکم کی آگ کو زیادہ سے ذیادہ بجھانے میں قوم کی ترقی کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔
 
باہر تاریک آسمان پر ایک ستارہ ٹوٹ رہا تھا۔
کیا یہ اس قوم کی تقدیر کا ستارہ تھا !
loading...