میرا قصور کیا ہے؟

یوں تو اس قسم کی تصویریں روز ہی اخباروں میں شائع ہوتی ہیں لیکن آج اس تصویر نے مجھے باندھ لیا ہے۔ میں اس تصویر سے فرار چاہتا ہوں لیکن یہ مجھے کچھ اور سوچنے کا موقع نہیں دیتی۔
 
میں جانتا ہوں کہ میں چاہے کتنی ہی دیر اس تصویر کو تاکتا رہوں۔ اس میں نظر آنے والے مظلومین کی آنکھوں میں جھانکتا رہوں۔ ان کی مظلومیت کو پڑھنے اور امید و ناامیدی کی تحریروں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہوں جو ہر چہرے پر عیاں ہے لیکن اس کا تاثر اس کے پس منظر سے جڑا ہے۔ یہ مایوس چہرے ان گھروں کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں ان کی ماں بیٹی یا بیوی معصوم بچوں کے ساتھ اپنے بیٹے ، بھائی یا شوہر اور باپ کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں۔
 
کسی گھر میں ادھار راشن لایا گیا ہو گا اور کہیں امید کا دیا روشن ہو گا کہ آج جب ان کا مچھیرا اپنے جال میں ڈھیروں مچھلیاں پکڑ کر گھر لائے گا تو سارے قرضے اتر جائیں گے۔ بولنے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور ادھار دینے سے انکار کرنے والے کونے کی دکان کا مالک خجل نگاہوں سے اہل خانہ کو پکارے گا کہ آ جاﺅ آج ہی تازہ مال آیا ہے۔ پیسوں کی پرواہ نہ کرنا۔ یہ تو دنیا داری ہے۔ لین دین تو چلتا ہی رہتا ہے۔
 
یہ آنکھیں پھیلی ہوئی اداس آنکھیں .... جن کی پتلیاں ایک طرف کو سمٹ گئی ہیں گویا اس تکلیف کے احساس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہوں جو اس ماں کو یاد کرتے ہوئے بھیگ رہی ہیں .... جو ہر دم کھانستے اور تکلیف سے کراہتے ہوئے بھی اپنے کماﺅ بیٹے کو دعائیں دیتی ہے۔ اس ماں کا سانس بھلے درست ہو یا نہ ہو اس کی دعا کا سوز اور بیٹے کی چاہ کی چاشنی ہر دم توانا رہتی ہے۔ یہ ماں جانتی ہے کہ اس کا بیٹا جب مچھلیاں بازار میں دے کر ڈھیروں نوٹ جیب میں بھرے گا تو وہ سب سے پہلے میڈیکل اسٹور کا رخ کرے گا اور صدری کی جیب سے ڈاکٹر کا دیا ہؤا زبوں حال نسخہ نکال کر دکاندار کو دے گا اور کہے گا:
 
قیمت کی پرواہ نہ کرنا۔ جو دوائیں ڈاکٹر صاحب نے لکھی ہیں وہی دینا۔ اصلی والی۔
 
ہاں یہ بھی دیکھ لینا کہ یہ دوا نمبر دو نہ ہو۔ میری ماں بہت بیمار ہے۔ اسے بالکل خالص دوا ملنی چاہئے۔
 
آج تو میں نے ڈھیروں مچھلیاں پکڑی ہیں۔ آج تو بیوی کا جوڑا ، بچوں کے کھلونے اور بہن کا غرارہ سب ہی کچھ خرید لوں گا۔ اس پگلی کو غرارہ سوٹ کا کتنا شوق ہے۔ کہا بھی کہ جب شادی ہو گی تو پہن لینا مگر وہ کہاں ماننے والی ہے۔ چلو آج اس کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔
 
لیکن سب سے پہلے ماں کی دوا لوں گا۔
 
وہ بیچاری ابا کے مرنے کے بعد سے کھاٹ سے لگی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بس باپ کی موت کا دکھ اس کے سینے کا بوجھ بن گیا ہے لیکن یہ دوائیں اس کے لئے اکسیر ہو سکتی ہیں۔ اب ماں ہی کا تو آسرا ہے۔ وہی نہ رہی تو اس زندگی کا کیا فائدہ۔
 
لو بھئی جلدی کرو۔ اب دوائیں باندھ بھی دو۔ ہاں وہ وٹامن نہ بھول جانا۔ ماں کو طاقت کی ضرورت ہے۔
 
ماں تو کہتی رہتی ہے کہ بیٹا میری فکر نہ کیا کر۔ میں نے وٹامن کیا کرنے ہیں۔ میری طاقت تو تو ہے۔ تو گھر پر ہوتا ہے تو میں سارے غم بھول جاتی ہوں۔ تو نہیں ہوتا تو تیرے بیٹے میں تجھے جوان ہوتا دیکھ کر خوش ہوتی ہوں۔ تو میری دوا کی فکر نہ کر۔
 
لو جی فکر کیسے نہ کروں۔ تیرے پاﺅں میں میری جنت ہے۔ تیرے دم سے میرے گھر میں رونق ہے۔
 
اب دشمن ملک کی پولیس چوکی کے ایک بڑے کمرے میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اکڑوں بیٹھا وہ سوچ رہا ہے:
 
میری ماں کیا سوچے گی۔ اسے دوا کیسے ملے گی۔ میں نجانے اسے دیکھ سکوں گا کہ نہیں۔
 
سنتری نے بندوق کی نوک سے اسے سیدھا ہونے کا حکم دیا تو وہ بھیگی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے حکم بجا لایا۔
 
قہر اور انتظار کے ان طویل لمحوں میں اب اسے ہر حکم کی تعمیل کرنا تھی۔
 
اس طویل قامت گرانڈیل شخص سے ذرا فاصلے پر ایک لاغر ، کمزور لاچار بوڑھا دونوں بازوﺅں میں چہرہ چھپائے منہ نہواڑے بیٹھا پہریداروں کے حکم کا انتظار کر رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ سب سے اپنی آنکھیں چھپنا لینا چاہتا ہے۔
 
کیا وہ جانتا ہے کہ ہڈیوں سے بھرے چہرے میں دھنسی ہوئی اس کی دو آنکھیں دیکھنے والے سے بے ساختہ کلام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کیا وہ خوفزدہ ہے کہ اس کی آنکھیں اس کے دل کا حال بیان کر کے اسے شرمندہ کر دیں گی۔ لیکن یہاں کس کو پرواہ ہو گی۔ کون ان آنکھوں کو پڑھے گا اور اس دل کا حال جانے گا جس کی بیٹی ہاتھوں میں مہندی بھرے ، دل میں امنگوں کے چراغ جلائے اپنے بابا کے آنے کا انتظار کر رہی ہے۔
 
دو سال سے اس کی ڈولی اٹھنے کا انتظار ہو رہا ہے۔ قطرہ قطرہ کر کے اس کے بوڑھے باپ اور سلیقہ مند ماں نے کچھ اسباب اکٹھا کیا ہے۔ اب سنا تھا کہ سمندر بہت مہربان ہے۔ مچھیرے نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور شفقت سے بولا: جو جاتا ہے سمندر اس کے جال اور کشتی کو تازہ مچھلی سے مالا مال کر دیتا ہے۔ بیٹی اب جاﺅں گا تو واپس آتے ہی تیرے سسرال والوں سے بات کر کے تیری رخصتی کی تاریخ پکی کر دوں گا۔
 
لجائی ہوئی بیٹی شرم سے زمین میں دھنستی جاتی تھی لیکن اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنے باپ سے لپٹ جائے جسے نہ اپنی صحت کا خیال ہے ، نہ وہ دوائیں خریدتا ہے اور نہ ہی پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے۔ کہتا ہے : اب تجھے ڈولی میں بٹھا کر ہی سکون کی نیند سوﺅں گا۔
 
بابا .... بیٹی کی شرمائی بھرائی آواز نے پکارا اور وہ اپنے منحنی باپ سے لپٹ گئی۔
 
بیٹی اب تیری ڈولی رخصت نہیں کر سکوں گا۔
 
میں جانتا ہوں جس قہر میں میں پھنسا ہوں، اس میں دن رات وقت کو ماپنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دن ، مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے ہیں۔ کڑیل جون بوڑھے اور ناتواں ہو جاتے ہیں اور بوڑھے کھانستے کھانستے جیل کے دالان میں کسی گڑھے میں پھینک دئیے جاتے ہیں۔
 
خوش رہ میری بیٹی
 
یہ لاچار باپ تیری مانگ کے لئے سیندھور نہ لا سکا۔ یہ پچکی ، دھنسی اداس آنکھیں بیٹی کی بانہوں کا لمس محسوس کر کے بھیگ رہی ہیں۔
 
مگر حکم ہے قطار میں کھڑے ہو جاؤ۔
 
سب کلائیاں طویل زنجیر میں باندھی جا رہی ہیں۔
 
قیدیوں کو منتقل کرنا ضروری ہے۔
 
ان میں ایک الہڑ لڑکا بھی ہے۔ یہ اس کا پہلا سفر تھا۔ اس کی پھیلی روشن آنکھیں اب بھی امید کے نور سے بھری ہیں۔ قطار کے آخر میں پہریدار نے جب کمرے کے پیچھے اس کے ہاتھوں کو قفل بند کیا تو وہ پکارا:
 
مجھے باندھتے کیوں ہو
 
میں نے کیا قصور کیا ہے
 
میں تو سمندر کی اتھاہ وسعتوں میں اپنا مستقبل ڈھونڈنے کے لئے بڑی امیدیں لے کر گھر سے نکلا تھا۔
 
مجھے کھول کیوں نہیں دیتے
 
مجھے جانے کیوں نہیں دیتے
 
سنگین کی تیز چبھن نے اس کی آواز کو گلے میں گھونٹ دیا۔ سنا ہے اس دن کے بعد وہ نوجوان بول نہیں سکا۔
loading...