قابل فروخت

یوں تو مسکین کرخنداری بھی گانٹھ کا پورا تھا اور معاملات میں حساب کا پکا لیکن تقدیر نے اسے ایسے دوست بھی عطا کئے تھے جو اس کی صلاحیتوں کو دوبالا کرنے میں اس کا ہاتھ بٹاتے رہتے تھے۔ یوں اس بات کا اندیشہ نہ رہتا تھا کہ مسکین کرخنداری جسے اس کے قریبی دوست لاڈ سے ایم کے پکارتے تھے، کبھی لین دین میں خسارہ اٹھائے گا۔

لیکن اس بار اس کے جگری یار خداداد مفادی یعنی ایم کے کو اندیشہ ہو چلا تھا کہ اس کا دوست اپنے جن اقدامات کو دوسروں کو ” چونا لگانا “ سمجھتا ہے، وہ دراصل صریحاً نقصان کا سودا ہے۔ لوگ دور دراز سے اسے مدعو کرتے۔ اسے اعلیٰ نسب فنکار اور بلند پایہ ہنرمند بنا کر پیش کرتے اور اس طرح اپنے اپنے طور پر اپنی دکان چمکانے کا سامان کرتے۔ خداداد مفادی نے آخر تنگ آ کر ایک روز مسکین کرخنداری سے پوچھ ہی لیا:

یار یہ تو بتاﺅ کہ ان طول طویل دوروں اور کام کاج سے دور رہنے سے تمہیں کیا حاصل ہوتا ہے۔
 
ایم کے بولا: اس طرح ایک تو عزت بنتی ہے۔ دنیا بھر میں میرے نام کا ڈنکا بجتا ہے اور میں اعزازات سے نوازا جاتا ہوں۔ لیکن اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح مجھے مفت میں نگر نگر گھومنے اور خاطر داری کروانے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔
 
کے ایم: یہ تو ٹھیک ہے۔ یہ بھی مانتا ہوں کہ ایسے دوروں پر ایک آدھ بار تم مجھے بھی ساتھ لے کر گئے ہو۔ اگرچہ تم نے مجھے دانشور اور عظیم نقاد کے طور پر متعارف کروایا تھا مگر سب لوگ مجھے تمہارا بیاض بردار ہی سمجھتے رہے۔ حالانکہ میں تم سے تو زیادہ اوریجنل شاعر ہوں
 
ایم کے: خیر اب جانے دو۔ یہ بحث نہ ہی چھیڑو تو بہتر ہے۔ میری وجہ سے تمہاری اچھی خاصی پذیرائی ہوئی تھی۔ منتظمین نے میرے لحاظ میں تمہیں بلند پایہ شاعر کا ایوارڈ بھی دیا تھا ورنہ درپردہ سب تمہاری نظموں پر کھیں کھیں ہنس رہے تھے۔
 
کے ایم: بھائی مانا تمہاری دکانداری چل نکلی ہے اور تم باتیں بنا سکتے ہو۔ لیکن مجھے یہ تو بتاﺅ کہ تم یہ کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چولہے پر چڑھا سکتے ہو۔ آخر کو بھانڈا پھوٹنا ہی ہے۔
 
ایم کے: (قہقہہ لگاتے ہوئے) میں تمہاری طرح اناڑی شاعر تھوڑی ہوں۔ میں آنچ لگنے سے پہلے ہی یہ کہہ کر ہنڈیا اتار لیتا ہوں کہ میں بڑوں کے سامنے کیا بات کروں یا یہ کہ اس موضوع پر بات کرنے کے لئے فلاں فلاں تیس مار خاں موجود ہے۔ پھر بھی بات نہ بنے تو طبیعت کی ناسازی تو تیربہدف نسخہ ہے۔
 
کے ایم: لیکن میں اس چولہے کی بات نہیں کر رہا۔ میں تو یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہر پراڈکٹ مارکیٹ میں ایک خاص حد اور مدت تک ہی فروخت ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد یا تو اس میں جدت پیدا کرنی پڑتی ہے، یا نئی چیز متعارف کروانا پڑتی ہے اور مارکیٹ پرانی چیز کا نام بھول جاتی ہے۔ یہ اصول صرف مصنوعات تک محدود نہیں ہو سکتا۔ تمہیں بھی خود کو ” قابل فروخت “ بنائے رکھنے کے لئے کچھ نیا کرنا ہو گا۔
 
ہاں یہ تو ہے۔ ایم کے یعنی مسکین کرخنداری کو احساس ہؤا کہ خداداد مفادی واقعی اس کا دوست ہے۔ اسے آج پہلی مرتبہ اپنی کم مائیگی کا بھی احساس ہؤا۔
 
اس سے پہلے وہ خود کو دنیا کا عقلمند ترین شخص سمجھتا تھا کیونکہ اس نے نہایت چالاکی سے اپنا ایک ایسا امیج گھڑ لیا تھا کہ دیکھنے اور ملنے والے اس کی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو جاتے۔ وہ خوب مزے سے ان احمقوں کی فراہم کردہ سہولتوں اور اعزازات کو سمیٹتا اور دل میں خوب زور زور سے قہقہے لگاتا۔ جب بیرون ملک سفر کے دوران اس کے باقاعدہ اور بے قاعدہ میزبان تواضع اور خاطر داری میں زمین آسمان ایک کرنے پر تل جاتے تو اس کے دل میں خوشی کی پھلجڑی پھوٹتی اور وہ خود اپنے آپ سے کہتا: ” دیکھو کیسا بے وقوف بنایا ہے۔“
 
پھر وہ دیر تک اپنی عقلمندی اور دوسروں کی بے وقوفی پر خوش ہوتا اور بغلیں بجاتا رہتا۔ آج اسی کامیاب ، چالاک اور ہوشیار مسکین کرخنداری عرف ایم کے کو اچانک یہ ادراک ہؤا تھا کہ وہ درحقیقت ایک اوسط درجے کا معمولی عقل کا آدمی ہے۔ حتیٰ کہ اس کا بچپن کا دوست خداداد مفادی بھی اس سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتا ہے۔ وہ یہ حقیقت شناس ہے کہ ہتھکنڈے جب پرانے ہو جائیں تو انہیں بدلنا پڑتا ہے۔ شکار کرتے رہنے کے لئے نیا جال تیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
 
اس اعتراف حقیقت سے اس کا رنگ زرد ہو گیا۔ اسے لگا کہ اس کے اندر جہاں آج تک دوسروں کی حماقتوں اور اول جلول حرکتوں پر صرف پھلجڑیاں پھوٹتی تھیں، اب ایک دھماکہ ہؤا ہے، جس میں اس کا برسوں میں تعمیر کردہ خود پرستی کا بت پاش پاش ہو گیا ہے۔ وہ خود کو اپنی نظر میں حقیر سا محسوس کرنے لگا۔
 
کے ایم نے جب اپنے دوست کو پریشان اور خاموش دیکھا تو بشاشت سے گویا ہؤا: ” ہر مسئلہ کا حل ہوتا ہے۔ تم کون سا اصل بادشاہ ہو جو یوں اداس ہو رہے ہو جیسے تخت و تاج چھن گیا ہو۔ یہ سراب تو تم نے خود ہی گھڑا تھا۔ اب ایک نیا ہیولا تعمیر کرتے ہیں۔ “
 
واقعی یہ مفادی کس قدر ہوشیاری کی باتیں کر رہا تھا۔
 
اب کرخنداری کا وقتی احساس زیاں ختم ہو چکا تھا۔
 
دونوں دوستوں نے دیر تک عزت و وقار کی اس خود ساختہ مملکت کو برقرار رکھنے کے لئے نئے ہتھکنڈوں پر غور شروع کیا۔
 
طویل علالت کا بہانہ کیا جائے ........ یہ ہتھکنڈہ آزمودہ تھا۔
 
تحقیق کے لئے گوشہ عافیت میں جانے کا اعلان کیا جائے ........ کھوج لگانے والے ضرور اصلیت تلاش کر لیں گے۔
 
کوئی اچھوتی بات، نیا خیال اور نیا علمی نکتہ ........ ہاں یہ سب ممکن ہے لیکن وہ دونوں تو مداری تھے جو صرف کرتب دکھا سکتے تھے۔
 
تو کیا کیا جائے
 
آخر وہ متفق ہو گئے کہ اس مسئلہ کا حل ان کے دیرینہ ساتھی بلکہ استاد مورچھل پشوری کے پاس ضرور ہو گا۔
 
ایم پی کا اصل نام تو بھلا سا تھا مگر جب سے اس نے پشاور کو خیر آباد کہہ کر اس دنیائے رنگ و بو کے امکانات کا سراغ لگانا شروع کیا تھا وہ اسی نام سے پہچانا جاتا اور اس پر فخر محسوس کرتا۔ پشوری کا دم چھلا اسے اپنے وطن سے وابستگی کا احساس دلاتا جو درحقیقت اس کے خمیر میں شامل نہیں تھی۔ اس کی ساری زندگی کا ماحصل تھا کہ جہاں جیسے فائدہ حاصل ہوتا ہو، اسے حاصل کر لیا جائے۔ اس مقصد کے لئے اس نے ”خوش رہو اور خوش کرو“ کا سنہرا رہنما اصول دریافت کیا تھا۔
 
مورچھل کو ہم نفسوں میں استاد کا درجہ بھی اسی سنہری اصول کی بنا پر ملا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ سچ بولنا دراصل عیب جوئی کے مترادف ہے کیونکہ کوئی شخص عیبوں سے پاک نہیں ہوتا۔ میں یہ جرم کرنے کو گناہ عظیم سمجھتا ہوں۔ گئے وقتوں میں مسکین کرخنداری اور خداداد مفادی نے مورچھل پشوری کی صحبت میں اس سنہرے اصول کا سبق سیکھا تھا اور اسی کے زور پر دنیا میں نام پیدا کیا تھا۔
 
یعنی میل ملاقات ، کام کاج ، سماجی و پیشہ وارانہ معاملات میں ہمیشہ وہ کہو جو دوسرے سننا چاہتے ہیں۔ اس مدح سرائی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرے بھی صرف وہ کہتے ہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں۔ اس باہمی ستائش کے اصول سے بھلے تحقیق و جستجو کی گاڑی آگے نہ بڑھتی ہو، لیکن انسان کے اپنے مفاد کی گاڑی خوب تیز دوڑتی ہے۔
 
مسکین کرخنداری کی گاڑی تھوڑی دیر پہلے تک سرپٹ بھاگ رہی تھی۔ لیکن خداداد مفادی نے اس کے راستے میں ایک بڑا پتھر کھڑا کر دیا تھا۔
 
وہ جانتے تھے مورچھل پشوری کے پاس اس مسئلہ کا حل بھی ضرور ہو گا۔
 
وہ اس کی مسند پر حاضر ہوئے تو ضرورتمندوں کا ہجوم تھا۔ ستائش باہمی کے جس فلسفہ حیات کی ” تحقیق و جستجو“ کے علاوہ “ پرورش “ میں ایم پی نے ساری زندگی صرف کی تھی، اس کا ثمر تھا کہ اس کا گھر رہنمائی چاہنے والوں سے بھرا رہتا ۔ اب یہ گھر مرجع خاص و عام بن چکا تھا۔
 
دونوں پر نظر پڑتے ہی ایم پی اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا اور نہایت تپاک سے انہیں اپنے ساتھ بٹھایا۔ خجالت سے تخلیہ کی درخواست کرنے کے بعد جب ایم کے اور کے ایم نے اپنا مسئلہ پیش کیا تو مورچھل پشوری یوں زور زور سے ہنسنے لگا گویا انہوں نے کوئی اچھوتا اور بالکل نیا لطیفہ سنا دیا ہو۔ اس کے بڑے بڑے کان مورچھل کی طرح ہلنے لگے اور چھوٹی گول آنکھیں اندر کو دھنس گئیں ۔۔۔ جنہیں اس کے مکتبہ فکر کے اراکین روشن چمکتی آنکھیں قرار دے کر ستاروں اور ہیروں سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔
 
ایم پی نے زیادہ دیر تک ان دونوں کو حیران ہونے کا موقع نہیں دیا۔ اپنی نشست پر آلتی پالتی مار کر چائے کی چسکی لیتے ہوئے بولا: ” تم بھی وہ کرو جو میں کرتا ہوں۔ “
 
” وہ کیا “ ایم کے اور کے ایم بیک وقت پکارے
 
یعنی ان سب کو اپنے گھر بلاﺅ، خاطر داری کرو اور توصیف و تعریف سے انہیں اپنے آپ کو وہ سمجھنے پر مجبور کر دو جو وہ نہیں ہیں مگر جس حیثیت اور مقام کا وہ خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
 
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مورچھل پشوری نے کہا: ” میاں یہ انویسٹمنٹ ہے۔ جتنا مال لگاﺅ گے، اتنا ہی منافع ملے گا۔ مگر اس کام میں سرمایہ تھوڑا منافع زیادہ ہے۔ آخر چرب زبانی بھی تو سرمایہ کاری ہی کا حصہ ہے۔ “
 
ایم پی زور سے ہنسا تو ایم کے اور کے ایم کے چہروں پر اطمینان کی گہری مسکان دیکھی جا سکتی تھی۔
loading...