ہم سا ہو تو سامنے آئے

میں ایک کہانی سنانا چاہتا ہوں
لیکن مشکل یہ ہے کہ کہانی میرے دل و دماغ میں تو کلبلاتی ہے اور اظہار کا راستہ مانگتی ہے لیکن میں یہ طے نہیں کر پاتا کہ اس کا آغاز کہاں سے اور کیسے کیا جائے۔
یہ کام اس صورت میں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب کوئی کہانی کسی ایسے شخص پر وارد ہو جو کہانی کار نہ ہو۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ کہانی تو میرے پاس ہے۔ اسے بتانا بھی مجھے ہے۔
 
کہا جا سکتا ہے کہ میں کوئی پروفیشنل مدد حاصل کر لوں۔ یعنی کسی کہانی لکھنے والے دوست سے بات کروں کہ وہ اسے بیان کرنے کا طریقہ مجھے بتا سکے۔ میں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ اگر کسی داستان گو کی مدد لوں گا تو یا تو کہانی ادھوری رہ جائے گی یا اس کے بعض کردار بدلی ہوئی شکل میں نمودار ہوں گے۔
 
میرا خیال ہے کہ یہ ابتدائیہ بہت طویل اور غیر ضروری ہو گیا ہے۔ میں یہ کہانی سنانا چاہتا ہوں۔ یہ اس مشکل کا قصہ بیان کرنے کا موقع نہیں ہے جو اسے بتانے میں مجھے درپیش ہے۔ ایسی صورت میں تو مجھ سے کہا جا سکتا ہے کہ کسی حکیم سے سکون ذہن و قلب کی دوا لو۔ اور یقین کر لو کہ دنیا کے کام یہ کہانی بیان کئے بغیر بھی چلتے رہیں گے۔
 
بات تو یہ درست ہے لیکن لگتا ہے کہ میں نے اگر اس کہانی کو سنانے سے گریز کیا تو کسی دوسرے کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، میں خود ادھورا رہ جاﺅں گا۔ یہ تو مجھ پر واجب ہے کہ جب کوئی کہانی خود چل کر مجھ تک آتی ہے تو اسے اس کے حق داروں تک پہنچانے میں تاخیر سے کام نہ لوں۔ لیجئے میں کہانی کو کسی ابتدائیہ کے بغیر ہی شروع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
 
کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک بستی تھی جس کا ایک راجہ تھا۔
 
اس کا نام راجہ نہیں تھا نہ ہی اس کے منصب کا نام راجہ تھا نہ ہی وہ بستی راجواڑہ تھی لیکن امتداد زمانہ نے اس بستی کو ایک مفتوحہ علاقے میں تبدیل کر دیا تھا۔ جسے بھی اس بستی کے معاملات چلانے کا موقع دیا جاتا یا وہ یہ حق حاصل کر لیتا تو وہ خود کو فاتح اور اس بستی میں آباد لوگوں کو مفتوحہ قوم ہی سمجھتا تھا۔ اسی نسبت سے میں اس بستی کے حکمران یا رہنما یا لیڈر کو راجہ کہہ رہا ہوں۔ کہ معاملات کی باگ دوڑ اس کے ہاتھ میں تھی اور وہ سارے فیصلے اپنی خوشی اور فائیدے کے لئے کرتا تھا۔
 
کہانی بتانے سے قبل یہ بیان کرتا چلوں کہ یہ بستی کوئی موروثی ریاست یا مملکت نہیں تھی۔ اس علاقے میں آباد لوگوں نے لڑ جھگڑ کر طویل جدوجہد کے بعد یہ حق حاصل کیا تھا کہ وہ سارے معاملات کے فیصلے خود کرنے کے مجاز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تھوڑے ہوں یا زیادہ اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہر فرد کو اپنی عقل ، سوچ اور مفاد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس طرح انہوں نے بہت کھینچا تانی کے بعد یہ طے کروا لیا کہ اس علاقے میں جس میں کہ یہ بستی اور اس سے ملحقہ علاقے شامل تھے ........ تمام فیصلے خود کریں گے۔ ان کا پہلا فیصلہ یہ تھا کہ اب یہ سارا علاقہ خود مختار ہے اور اس کے سارے باشندے ہی اس کے اصل حکمران ہیں۔ وہ مل کر یا کثرت رائے سے امور مملکت چلایا کریں گے۔
 
اس بستی پر حکمران قوتوں کا خیال تھا کہ یہ لوگ بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں کیونکہ نہ تو انہیں انتظام و انصرام کا تجربہ ہے ، نہ ہی ان کے پاس مناسب وسائل ہی اور نہ ہی ان لوگوں کو “ مل جل کر فیصلے کرنے “  کے عمل کا جسے عرف میں جمہوریت کہتے ہیں ........ تجربہ ہے۔ لیکن بچہ ہو یا لوگوں کا ہجوم جب ضد پر آ جائیں تو کون ان کا سامنا کر سکتا ہے۔ اس علاقے کے لوگ جب ایک آواز اور بلند آہنگ کے ساتھ “ لے کر رہیں گے ........ بنا کر رہیں گے “ کے نعرے لگانے لگے تو حکمرانوں کے پاس ہتھیار پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
 
یہ اسی بستی کے حکمران یا راجہ کا قصہ ہے۔
 
اس راجہ کو گمان تھا کہ وہ حکمرانی کے لئے ہی پیدا ہؤا ہے۔ یوں تو شومئی قسمت سے اس بستی میں جب بھی کوئی شخص کسی بھی طریقے سے زمام اقتدار سنبھالتا تو اسے یہ گمان ہی نہیں، یقین ہو جاتا کہ وہی حکومت کے قابل ہے اور اس کے بغیر نہ یہ بستی رہے گی اور نہ ہی یہاں کے معاملات مناسب طریقے سے چل پائیں گے۔
 
ہو سکتا ہے کسی بستی کے بہت سے حکمرانوں میں سے اگر ایک آدھا ایسا کند ذہن بھی برسر اقتدار آ جائے جو خود کو عقل کُل سمجھتا ہو تو معاملات شاید زیادہ خراب نہ ہوں۔ یہ بستی اس لئے کہانی بنتی جارہی تھی کہ اس میں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا ........ یعنی ہر آنے والا حکمران یہی سمجھتا تھا کہ دنیا کی ساری عقل اسی کے حصے میں آئی ہے اور وہ نہ رہا تو یہ بستی اجڑ جائے گی۔
 
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار کے ایک سے زیادہ دعویداروں کے میدان میں آنے سے دنگل کا سماں پیدا ہؤا اور اس بستی کو جو دو بڑے بڑے جزیروں پر مشتمل تھی، آپس میں بانٹ لیا گیا۔ یوں تو از سر نو تقسیم ہونے والی دونوں بستیوں کی کہانی اپنی اپنی جگہ عبرتناک ہے لیکن ہم تو اس بستی کا ذکر ہی کریں گے جہاں پر اس راجہ کی حکومت تھی۔ اور جسے یہ وجدان ہو چکا تھا کہ حکومت کرنا اس کا ہی حق اور مرتبہ ہے۔
 
اس بستی پر چونکہ کسی ایک خاندان کی حکومت کا اصول مسترد ہو چکا تھا اور یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ یہ علاقہ کسی کی میراث نہیں ہے، اس لئے عقل کُل ہونے یا حکمرانی کا گمان رکھنے والے مختلف ہتھکنڈوں سے اقتدار سنبھالنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مارتے رہتے تھے۔ چونکہ اصل حکمران سارے باشندے تھے اور ان کے پاس ہی یہ حق تھا کہ مل کر یا کثرت رائے سے فیصلہ کریں کہ کون شخص کتنی دیر کے لئے حکومت کر سکتا ہے یعنی راج سنگھاسن پر بیٹھا رہ سکتا ہے۔ اس لئے حق حکمرانی کے سارے دعویداروں نے اپنے اپنے طور پر لوگوں کو تقسیم کرنے اور ٹولیوں میں بانٹنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ تا کہ بستی کے باشندوں کو جنہیں عرف عام میں عوام کہا جاتا تھا ........ گمراہ کیا جا سکے اور اس طرح انہیں خود اپنے اختیار و اقتدار کے لئے استعمال کیا جائے۔
 
اس راجہ کو بھی مدمقابل بد خواہوں کا سامنا رہا تھا۔ لیکن اس نے کبھی ہار نہیں مانی تھی اور بار بار راج سنگھاسن سے ہٹائے جانے کے باوجود وہ نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ حکومت سنبھالنے کے لئے میدان میں آ جاتا تھا۔ اب پھر اس کی حکمرانی تھی۔
 
لوگ کہتے تھے کہ اس بار راجہ بالکل بدل چکا ہے۔ زندگی کے تجربوں اور اقتدار سے محرومی کے دنوں میں ملنے والے دکھوں اور دھوکوں نے اس کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ جب پیندے میں سوراخ ہو تو گھڑا بھر نہیں سکتا۔ یہ راجہ بھی جب تیسری بار اقتدار میں آیا تو اس نے غرور سے چاروں جانب دیکھا اور مسکرایا۔ جیسے کہہ رہا ہو ........ ہم سا ہو تو سامنے آئے!
 
راجہ اسی طرح زندگی بسر کرنا چاہتا تھا جو حکمرانوں اور بادشاہوں کے شایان شان ہوتی ہے۔ لیکن بدخواہوں کو یہ انداز گوارا نہ تھا کیونکہ وہ خود راجہ کی جگہ لے کر اس ٹھاٹ باٹ کے مزے لوٹنا چاہتے تھے۔ لہٰذا اسے برا بھلا کہہ کر اپنے لئے عام لوگوں میں ہمدردی پیدا کرتے رہتے تھے۔ لیکن یہ نیک دل راجہ گالیاں سن کر بھی مخالفین کو دعائیں دیتا تھا۔ گالیاں دینے کا کام اس نے نہایت مہربانی سے اپنے مصاحبین کے سپرد کر دیا تھا۔ جو خوش اسلوبی اور گرمجوشی سے یہ خدمت سرانجام دیتے تھے۔
 
کہتے ہیں راجہ مصاحبین کے چناﺅ میں بڑی احتیاط سے کام لیتا تھا۔ ماضی میں دھوکے کھانے کی وجہ سے اب اس نے طے کر لیا تھا کہ صرف وہی شخص اس کے قریب آ سکتا ہے جو کڑے امتحان میں کامیاب ہو گا۔ اس امتحان کا پرچہ بہت مشکل ہوتا تھا۔ عام عقل و شعور کا آدمی اس کے سوالوں کا جواب دینے کی تاب نہیں لا سکتا تھا۔ یہ سارے سوال تو یہاں بیان نہیں کئے جا سکتے مگر ہم یہ بتائے دیتے ہیں کہ اس امتحانی پرچے کے تین حصے ہوتے تھے:
 
الف) لطیفے اور فحش قصے سنانے کا مقابلہ
ب) نت نئے کھانے بنانے اور لذیذ ڈشز کو نئے طریقے سے تیار کرنے کا مقابلہ
ج) خوشامد اور چاپلوسی کے نت نئے اصول دریافت کرنے کا مقابلہ
 
کہتے ہیں لوگ مصاحب بننے کے مقابلے کے لئے سخت تیاری کرتے تھے اور برس ہا برس کی ریاضت کے بعد اس امتحان میں شریک ہوتے تھے۔ اکثر لوگ پھر بھی ناکام ہی رہتے۔ بعض اوقات تو بیچارے راجہ کو قابل اور اہل، مصاحبوں کے چناﺅ میں بے حد مشکل کا سامنا ہوتا تھا۔ اس لئے اس نے مصاحبین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ایک جو امتحان میں امتیازی نمبروں سے پاس ہوئے تھے۔ دوسرے وہ جو کامیاب تو نہیں ہوئے تھے لیکن ان میں امتحان پاس کرنے کی ساری خوبیاں موجود تھیں۔ انہیں نائب مصاحب کا درجہ دے کر حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ لیکن یہ کم عقل، پاس ہونے والے اور مصاحبین کا اعزاز پانے والوں کی ٹانگیں کھینچنے کے کام میں مشغول ہو جاتے۔ اس طرح راجہ کے لئے دن رات کوئی نہ کوئی قضیہ کھڑا رہتا۔
بے چارہ راجہ
 
اس بستی کے راجہ کے لئے مصاحبین کی کم عقلی کے سوا تو چین ہی چین تھا۔ بس مخالفین مہم جوئی کرتے رہتے تھے۔ راجہ کو انہیں دبائے رکھنے کا طویل تجربہ تھا۔ یہ بھی مشکل مرحلہ نہیں تھا۔ ہاں ایک مشکل ضرور تھی۔ محافظوں کے دستے کے سردار نے راجہ کے کان میں کہہ دیا تھا کہ میرا بھی خیال رکھیں ورنہ ٹھیک نہیں ہو گا۔
 
راجہ اس سرگوشی سے پریشان رہتا تھا۔
اب یہ سرگوشی اکثر ہونے لگی تھی۔
پھر بھی راجہ ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔
 
بات لمبی ہو گئی اور کہانی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی۔ چلئے آپ تمہید کا لطف لیجئے۔ کہانی پھر کبھی سہی۔
loading...