زندگی کو ترستی بستی

خبر ہے
لاہور میں وکیلوں نے انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی عالمی شہرت یافتہ وکیل عاصمہ جہانگیر کا لائسنس معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان وکیلوں نے لاہور ہائی کورٹ پر دباﺅ ڈالنے کے لئے مظاہرہ بھی کیا ہے تا کہ عدالت ان کے مطالبے پر عمل کرے۔
 
عاصمہ جہانگیر کا قصور
حیرت انگیز طور پر عاصمہ جہانگیر کا قانون کی پریکٹس کرنے کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے وہ کام کرنے کا اقرار کیا ہے جس کے لئے کسی وکیل کو لائسنس دیا جاتا ہے۔ یعنی ایک شکایت کنندہ کا معاملہ عدالت میں پیش کرنے کا فرض ادا کرنا۔ تاہم اس بار انہوں نے ایک ایسے شخص کا مقدمہ اپنے ہاتھ میں لیا ہے جو وکیلوں کے اس گروہ کے لئے ناقابل معافی شخص ہے۔
 
اس شخص کا نام الطاف حسین ہے۔
عاصمہ نے جس شخص کا مقدمہ لڑنے کی حامی بھری ہے، اس کا نام الطاف حسین ہے اور وہ پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا لیڈر ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر الطاف حسین کی تقریر،  بیان یا تصویر شائع یا نشر کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اب وہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل کر کے اپنا آئینی حق استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اس مقدمہ میں ان کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 
 
اس معاملہ میں لاہور کے ہی ایک دوسرے وکیل اور سابق وزیر خالد رانجھا بھی عاصمہ جہانگیر کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دو روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں مظاہرہ کرنے والے وکیلوں نے انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایک ” ملک دشمن “ کی وکالت کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔
 
الطاف حسین کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن جس طرح پاکستان میں دوسروں کے ایمان اور نیت کے حوالے سے فیصلے صادر کرنے کا طرز عمل اختیار کیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی شدت پسندی کی وجہ سے معاشرے میں توڑ پھوڑ اور تصادم کی کیفیت سامنے آئی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کسی رائے کا اظہار کرنے اور اپنے غلط یا درست مؤقف پر دلیل دینے سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ مگر اس وقت ضرور مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کسی کو رائے کے اظہار سے زبردستی روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
 
متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے لیڈر پر ماضی سے لے کر اب تک درجنوں مختلف قسم کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سب سے سنگین الزام یہی ہے کہ یہ جماعت اپنے عسکری ونگ کے ذریعے مخالفین کے جان و مال کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ لوگوں کو زبردستی پارٹی کی حمایت کرنے، اس کی اپیل پر ہڑتال کرنے، چندہ (جسے بھتہ بھی کہا جاتا ہے) دینے اور الطاف حسین کی طول طویل تقریریں سننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے اس حد تک دھونس اور زبردستی سے کام لینا شروع کر دیا تھا کہ کوئی ٹیلی ویژن الطاف حسین کی تقریر براہ راست نشر کرنے سے انکار کرنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ رینجرز کی کارروائی نے اس صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔
 
لاہور ہائیکورٹ کا کمال
اس کے باوجود حکومت ، اس کے کسی ادارے یا عدالت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسروں کے اظہار رائے پر پابندی عائد کرتے پھریں۔ کوئی رائے رکھنا اور اس کا اظہار کرنا اتنا ہی قانونی ہے جتنا اسے مسترد کرنے یا اسے قبول کرنے سے انکار کرنا۔ اس لئے اگر ہم ایم کیو ایم کے اس فعل کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کو اپنی بات ماننے پر مجبور نہیں کر سکتی، دھمکی کے نتیجے میں خبریں شائع نہیں کروا سکتی اور سنگین نتائج کا نوٹس دے کر ٹیلی ویژن چینلز کو اپنے لیڈروں کی تقریریں اور پریس کانفرنس نشر کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی ........ اسی طرح ہم کسی گروہ ، ادارے ، حکومت یا عدالت کو یہ اختیار بھی نہیں دے سکتے کہ وہ ایم کیو ایم سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق واپس لے لے۔
 
بدنصیبی کی بات ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے یہ کمال کر دکھایا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں ایک پٹیشن پر غور کرتے ہوئے ایک سہ رکنی بنچ نے متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر کی تقریریا بیان نشر کرنے، شائع کرنے یا ان کی تصویر چھاپنے اور نشر کرنے پر مکمل پابندی لگانے کا حکم دیا۔ اگر عدالت الطاف حسین کی طرف سے کسی قانون شکنی پر انہیں سزا دیتی تو یہ قابل قبول ہوتا۔ لیکن حیرت ہے کہ فاضل ججوں نے الطاف حسین کی ماضی کی تقریروں کی روشنی میں یہ طے کر لیا کہ وہ مستقبل میں بھی اشتعال پھیلائیں گے، اس لئے ان کے نظریات اور باتیں سامنے لانے پر مکمل پابندی لگانا ضروری ہے۔ مستقبل میں جھانکنے، دلوں کا حال پڑھنے اور کسی کی نیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کے اس رویہ کو کچھ بھی کہا جا سکتا ہے ........ لیکن اسے قانون کی منشا یا انصاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ حکم ناانصافی ہی کہلائے گا۔
 
قانون کی نئی تفسیر
اب الطاف حسین اسی ناانصافی کے خلاف اپیل کرنے کا آئینی حق استعمال کر رہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر اور خالد رانجھا اس قانونی مرحلے پر ان کی معاونت کر رہے ہیں۔ تفہیم قانون کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ کسی ” مجرم “  یا  ” ملزم “ کی پیروی کرنے والا وکیل خود بھی اس فعل یا رائے سے متفق ہے۔ یا ایسے وکیل کو قابل سزا سمجھنا چاہئے۔
 
حیرت ہے لاہور کے وکیل تفہیم قانون کی ایک نئی تفسیر سامنے لا رہے ہیں۔ اب وہ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ اگر ہم کسی مدعا علیہ سے متفق نہیں ہیں تو اس کا مقدمہ لڑنے والا وکیل بھی قابل گردن زدنی ہے۔
 
ایسے وکیلوں کے بارے میں ہم تو یہی کہیں گے کہ اس بارے میں شبہ ہی نہیں یقین کر لینا چاہئے کہ یا تو ان کی سند وکالت ویسی ہی مشکوک ہے جیسی کہ متعدد سیاستدانوں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہو رہی ہیں یا دوران تعلیم وہ اصول انصاف کے پیریڈ سے غیر حاضر رہتے تھے۔ اب دونوں صورتوں میں ان سب وکیلوں کو عدالتوں میں پیش ہونے کی بجائے از سر نو اپنی قانونی اہلیت کی تکمیل کر لینی چاہئے۔
 
جس کے ہاتھ میں لاٹھی
مگر ان وکیلوں سے یہ بات کیسے اور کیوں کر کہی جا سکتی ہے۔ ماضی قریب میں چشم فلک نے یہ مناظر دیکھے ہیں کہ کالے کوٹ والے صرف زبان کے ہی تیز نہیں ہوتے، وہ دست درازی ، مار پیٹ اور غنڈہ گردی میں بھی ماہر ہیں۔ وکیلوں کا یہ گروہ پوری استقامت سے یہ ثابت کرنے پر تلا ہؤا ہے کہ بھینس اسی کی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے بازوﺅں میں دم نہیں ہے تو انصاف کی بات یا خواہش کرنا آپ کا حق نہیں ہے۔
 
قاتل پر پھولوں کی بارش
انصاف کے یہی علمبردار ایک ایسے قاتل کو کاندھوں پر بٹھا کر اس پر گل پاشی بھی کر چکے ہیں جس نے سرکاری ہتھیار سے اس گورنر کو ہلاک کر دیا تھا جس کی حفاظت پر اسے مامور کیا گیا تھا۔ قانون کے ان مفسرین کی کتاب میں ممتاز قادری نے قانون شکنی نہیں کی تھی بلکہ ایک قانون شکن کو سزا دی تھی۔
 
اگر قانون کی یہ تشریح عام ہو جائے تو ہر شخص کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہو گی اور ہر گلی انصاف کا مندر بن جائے گی۔ ایسے میں وکیلوں ، عدالتوں ، قانون یا اس کی موشگافیوں کی کیا ضرورت رہے گی۔
 
پھر عاصمہ جہانگیر یا خالد رانجھا کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔
اس صورت میں تو نعرہ لگانے والے اور ان کی زد پر آنے والے سارے وکیل ہی بے روزگار ہو جائیں گے۔
 
تماشہ شروع تو ہو چکا ہے۔ اگر نعرہ زن وکیلوں کی جدوجہد اور ” قربانیاں “ جاری رہیں تو اس کھیل کو انجام تک پہنچنے میں کیا دیر لگتی ہے۔
 
زندگی سے محروم بستی
مؤرخ اس عہد کا بیان کرتے ہوئے یہی لکھے گا کہ یہ ایسے جیالوں کی بستی تھی جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کاشانہ حیات کو آگ لگا دی۔ کیونکہ وہ قانون ، اصول اور ان کی مجبوریوں کو قبول کرنے کی بجائے، انصاف دلوانے اور ملزموں کو سزا دینے کا ” فوری نظام “ نافذ کرنا چاہتے تھے۔
 
اب وہ سب اپنی قبروں میں خاموش پڑے ہیں۔
ایک دوسرے کے ہاتھوں برباد ہونے والی یہ بستی ہنوز زندگی کو ترستی ہے۔
loading...