ایک انٹرویو جو ہو نہیں سکا

یوں تو آپ نے بہت انٹرویو پڑھے ہونگے۔ لیڈروں کو سخت سوالوں کے جواب دیتے سنا ہو گا۔ سوال کرنے والے یا جواب دینے والے کے حوصلہ کی داد بھی دی ہو گی۔ لیکن ہم آج آپ کو ایک ایسا انٹرویو پڑھواتے ہیں جو کبھی ہؤا ہی نہیں۔ لیکن زندگی میں ایسی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جو دراصل نہیں ہوتیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل ہمارا وطن ہے جہاں حکومت موجود ہے لیکن عملی طور پر کسی کو نظر نہیں آتی۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ یہ انٹرویو بھی حکومتِ پاکستان کی طرح ہے۔ ہے بھی مگر نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف گزشتہ دنوں تین روزہ دورہ پر ناروے تشریف لائے تھے۔ ناروے ایک پرسکون اور مسائل سے پاک ملک ہے۔ اس لئے عام طور سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان سے جو بھی آتا ہے ........ اگر اسے کوئی ضروری ذاتی کام نہ ہو تو وہ صرف آرام کرنے کے لئے ہی یہاں آتا ہے۔ اب میاں نواز شریف کو اس چھوٹے سے ملک میں ایسا کون سا ذاتی کام ہو گا۔ تو سمجھ لیتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان میں آئے دن کے جھمیلوں سے تنگ آ کر چند دن آرام کے لئے اوسلو آئے تھے۔

ان دنوں حکومت ناروے نے اتفاق سے ایک ایجوکیشن کانفرنس کا اہتمام بھی کیا تھا تو اللہ نے اس بہانے سے یہ موقع بھی عطا کر دیا کہ تعلیم سے حکومتِ پاکستان کی گہری محبت کا اظہار بھی کر دیا جائے۔ گویا ایک پنتھ دو کاج ........ پھر ناروے کیا دنیا بھر کی آنکھوں کا تارا ملالہ یوسفزئی بھی میڈیا کی ساری توجہ حاصل کرنے کے لئے یہاں آئی ہوئی تھی۔ اس کا فائدہ یہ ہؤا کہ ایک تو میاں نواز شریف کی میڈیا سے جان چھوٹ گئی دوسرے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملالہ کے سر پر ہاتھ بھی رکھ دیا کہ بچی فکر نہ کرو۔ آرام سے پاکستان آﺅ۔ ہم ہیں نا۔

اب اس نے پاکستان کیا آنا ہے لیکن مفت میں یہ شہرت تو ہو گئی کہ نواز شریف کی حکومت ملالہ کے ساتھ ہے۔ رہا طالبان کی ناراضگی کا معاملہ تو آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے انہیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں، وہ اوسلو میں وزیراعظم کے دئیے گئے بیان کا کیا نوٹس لیں گے۔

دیگر سب پاکستانیوں کی طرح رہتے تو ہم اوسلو میں ہیں مگر تڑپتے اس بات پر ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کب بند ہو گی۔ کوئٹہ میں فرقہ وارانہ قتل و غارتگری کب رکے گی۔ قبائلی علاقوں میں امن کب بحال ہو گا۔ وغیرہ۔ سو موقع بھی تھا، موضوع بھی اور انٹرویو دینے والا بھی۔ سو ہم پہنچ گئے وزیراعظم نواز شرییف کا انٹرویو لینے کے لئے۔

اوسلو کے وسط میں واقع ہوٹل میں ان کے سویٹ تک پہنچنے میں ہمیں قطعاً کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ تصوراتی محل کھڑے کرنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ اینٹ گارا سیمنٹ کی فکر کرنے اور ان کے حصول میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی طرح فرضی انٹرویو کا بھی یہ فائدہ ہے کہ سکیورٹی اور سیکرٹری وغیرہ کے جھنجھٹ میں پڑنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ کھٹ سے جاﺅ۔ دروازہ کھولو اور سوال کرنا شروع کر دو۔

ہم نواز شریف کے عالیشان ہوٹل سویٹ میں داخل ہوئے تو طویل راہداری ، وسیع و عریض سٹنگ روم اور بغلی دفتر میں وہ ہمیں نظر نہ آئے تو ہم نے جھجھکتے ہوئے بیڈ روم پر دستک دینے کا سوچا تاکہ کلثوم نواز وزیراعظم کو یاد دلا دیں کہ انٹرویو کا وقت ہو گیا ہے۔ ابھی ہم دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے پر تول ہی رہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ بیرونی باتھ روم میں نواز شریف شیو کر رہے ہیں۔

” سر آپ یہاں۔ ہم تو آپ کو پورے سویٹ میں تلاش کر رہے تھے“

” ہاں میں شیو کرنے یہاں آ گیا۔ اگر آپ میری تصویر نہ بنانے کا وعدہ کریں تو میں اسی طرح باہر آ جاتا ہوں“

” نہیں جناب ہم کسی پرانی تصویر سے کام چلا لیں گے مگر آپ باہر کے باتھ میں کیوں شیو کر رہے تھے“

” وہ اندر کلثوم آرام کر رہی تھیں۔ میں نے سوچا انہیں ڈسٹرب نہ کروں۔ تو اپ بولیں کہ کیا انٹرویو کرنا ہے۔ آپ لوگ تو آرام بھی نہیں کرنے دیتے۔ میں صرف تین روز کے لئے یہاں آیا ہوں۔ آپ ہیں کہ قلم کان میں ٹکا کر یہاں بھی آ دھمکے۔“

ہم نے اپنا آئی پیڈ میاں صاحب کو دکھاتے ہوئے یقین دلایا کی ہمارے کان پر کوئی قلم نہیں ہے۔ ہم تو الیکٹرانک گیجٹ استعمال کرتے ہیں۔

” ٹھیک ہے، ٹھیک ہے “۔ نواز شریف ناگواری سے ناک سکوڑتے ہوئے تولئے سے منہ صاف کرتے ہمارے سامنے صوفے پر آ کر بیٹھ گئے:۔ ” آپ سوال پوچھیں۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ابھی میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ “

” لیکن جناب آج کل تو روزے ہیں۔ کیا آپ روزے نہیں رکھتے۔“

” کیوں نہیں رکھتا۔ تم تو ہر بات کی کھال اتارتے ہو۔ کام کا سوال کرو۔“

” اچھا یہ بتائیے کہ ناروے میں آپ پاکستانیوں سے کیوں نہیں ملے۔ وہ سخت ناراض ہیں۔“

” میں نے پاکستانیوں سے مل کر کیا کرنا ہے۔ یہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ ہیں۔ مجھے ملنے آئیں گے تو ان کا وقت برباد ہو گا۔ ویسے فوٹو سیشن کے لئے میں نے تمہاری وزیراعظم کے ساتھ وہ کیا نام ہے اس کا ار ........ ن ........

” جی ارنا سولبرگ “

”ہاں وہی اسے ساتھ لے کر لڑکیوں کی ٹیم سے ملاقات کر لی تھی۔ بلکہ کرکٹ بھی کھیلی تھی۔ میری شاٹس دیکھ کر سب نے زور زور سے تالیاں بجائی تھیں۔“

“ تم تو وہاں نہیں تھے۔ مگر تم کو کرکٹ سے دلچسپی بھی نہیں ہو گی۔“

” جناب آپ نے خود ہی کہا کہ وہ لڑکیوں کی ٹیم تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہاں پر مقیم پاکستانی ناراض ہیں کہ وزیراعظم تین روز ان کے شہر میں رہے اور ان سے ملاقات بھی نہیں کی۔“

” لوگوں کی ناراضگی کا کیا ہے۔ اب میں اپنے کام کروں یا یہ دیکھتا رہوں کہ کون ناراض ہے اور کون خوش ہے۔ میں تو اپنے وزیروں اور ارکان اسمبلی سے بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے سوائے سفارشیں کرنے کے اور کیا کہنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی لوگوں نے یہی کچھ کرنا تھا۔“

” تو پھر آپ اتنی دور آئے کیوں ہیں۔ جس کانفرنس کا آپ بہانہ کر کے یہاں آئے ہیں، وہ تو دنیا بھر میں آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔ ہر جگہ وزیراعظم تو نہیں جاتا۔ اب دیکھ لیں اس موقع پر بھی کسی اہم ملک کا حتیٰ کہ ہمسایہ سویڈن ، ڈنمارک کے وزیراعظم بھی نہیں آئے۔ آپ منہ اٹھائے چلے آئے۔“

” دیکھو زبان سنبھال کر بات کرو۔ میں آخر وزیراعظم ہوں۔ میں جہاں چاہوں جاﺅں۔ تم کون ہو پوچھنے والے۔“

” مگر پاکستان میں اتنے مسائل ہیں۔ سندھ میں حکومت اور رینجرز کے درمیان اختلاف ہیں۔ آپ کو تو وہاں جانا چاہئے تھا۔“

” گیا تھا میں کراچی۔ قائم علی شاہ کے شکوے سنے۔ اشارے کنایوں میں انہوں نے زرداری کی دھمکیاں مجھ تک پہنچائیں۔ عشرت العباد نے بتایا کہ الطاف حسین پھنکار رہے ہیں۔ میں سب کی سن کر واپس آ گیا۔ میں نے سوچا رینجرز اور فوج انہیں خود ہی سنبھال لے گی۔ میرے بولنے کی کیا ضرورت ہے۔“

” اب کیا پروگرام ہے “

” ابھی تو نہاﺅں گا۔ شام کو نہاری کا انتظام ہے۔ سفیر صاحب نے بتایا ہے کہ بڑا ماہر باورچی ہے یہاں۔ بس اب تو شام کا انتظار ہے۔“

“ نہیں میرا مطلب تھا کہ کیا آج آپ کی کوئی میٹنگ یا اہم ملاقات ہے۔ “

” اچھا اب انٹرویو ختم۔ مجھے بہت سے کام کرنے ہیں۔ “

loading...