جی آیاں نوں پر آئے کیوں ہو!

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف اج کل دو یا تین دن کے لئے اوسلو میں براجمان ہیں۔ یہ دو یا تین اس لئے لکھا گیا ہے کہ اس حوالے سے پاکستانی سفارت خانہ نے کوئی سرکاری ” بیان “ جاری کرنے یا معلومات فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

ظاہر ہے کہ محدود عملے اور قلیل وسائل کے ساتھ سفیر پاکستان اور ان کا عملہ ملک کے وزیراعظم کے دورے کے انتظام و انصرام میں مگن اور مصروف ہو گا۔ بہرحال عام آدمی کے لئے تو یہ اطلاع ہی کافی ہے کہ جس ملک میں ان کی جڑیں پیوست ہیں اور جس کی خیر وہ ہر وقت مانگتے ہیں اور جسے ہر دعا میں یاد رکھا جاتا ہے اب اس کی حکومت کے سربراہ ان کے شہر میں قدم رنجہ فرمائے ہوئے ہیں۔

یوں تو ناروے جیسے چھوٹے، بے ضرر ملک میں پاکستان جیسے بڑے (آبادی اور جغرافیائی و سیاسی اہمیت کے اعتبار سے) ملک کے وزیراعظم کا تشریف لانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مسلم لیگ (ن) ناروے کے نمائندے مختلف چھوٹے بڑے اخبارات میں یہ بیان جاری کر کے خوش ہو رہے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم سرکاری دورے پر ناروے تشریف لائے ہیں۔ حالانکہ اس دورہ میں سرکاری صرف اتنا ہے کہ وزیراعظم چونکہ حکومت کے سربراہ کے طور پر اپنی حیثیت میں عوامی کی بجائے سرکاری ہوتا ہے اس لئے اس کا دورہ بھی خواہ وہ کسی مقصد کے لئے ہو ........ سرکاری ہی کہلائے گا۔
 
جہاں تک نارویجئن سرکار کا تعلق ہے، اس نے پاکستانی لیڈر کے استقبال کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا اور نہ ہی اس دورے کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ البتہ نارویجئن حکومت سے یہ قصور سرزد ہؤا ہے کہ اس نے اوسلو میں منعقد ہونے والی ایجوکیشن سمٹ میں دیگر ملکوں کی طرح حکومت پاکستان کو بھی دعوت نامہ بھجوا دیا تھا۔ اب نواز شریف کو اپنے لوگوں کی تعلیم سے اتنی ہی محبت ہے جتنی روانڈا اور ہیٹی کے وزرائےاعظم اور نائیجر کے صدر کو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے علاوہ ان ملکوں کے سربراہ یا سربراہان حکومت بھی اوسلو تشریف لائے ہوئے ہیں۔
 
وہ سب آج شام پونے آٹھ بجے وزیراعظم ارنا سولبرگ کی خصوصی دعوت پر اوسلو سٹی ہال میں ماحضر بھی تناول فرمائیں گے۔ اب یہ خبر نہیں کہ نواز شریف اس ڈنر میں شرکت کر کے یہاں مقیم اہل وطن کو روزہ ” بروقت “ کھول لینے کا پیغام دیں گے یا وہ نارویجئن وزیراعظم سے معذرت کرتے ہوئے اپنا ” روزہ “ کھولنے کا اہتمام خود کریں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سفر کی چھوٹ کی وجہ سے مذہب سے گہرا شغف رکھنے والے نواز شریف روزے کی چھوٹ سے استفادہ کریں۔ آخر سفر بھی ہے اور پروٹوکول کا بھی تقاضہ ہے۔ اس طرح وہ اس ” سرکاری “  ڈنر کے موقع پر ” دنیا “ بھر سے آئے ہوئے اپنے ہم منصبوں سے آزادانہ یعنی کھلے ڈلے ماحول میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہی انداز ہمارے ملک کے وزیراعظم کو پسند بھی ہے اور ان کا اسٹائل بھی ہے۔
 
اوسلو کی ایجوکیشن سمٹ برائے ترقی کا مقصد بہت واضح اور جامع ہے۔ یہ کانفرنس حکومت ناروے کی طرف سے دنیا بھر میں فلاح عام کے متعدد منصوبوں میں سے ایک ہے۔ ناروے کی حکومت اس کا اہتمام اقوام متحدہ کے تعاون سے کرتی ہے تا کہ دنیا بھر کے اسکول کی سہولتوں سے محروم بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ اس کانفرنس کے ذریعے اقوام متحدہ، عالمی لیڈروں اور این جی اوز کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دنیا میں تعلیم عام کرنے اور خاص طور سے لڑکیوں کے لئے تعلیم کا انتظام کرنے کے لئے کیا اقدامات ہو سکتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وسائل کیوں کر فراہم ہو سکتے ہیں۔
 
اس وقت غربت اور وسائل کی کمی کے علاوہ دنیا کے متعدد خطوں میں جنگ اور بدامنی کے حالات ہیں۔ اس لئے خاص طور سے اس بات پر بھی تجاویز سامنے لائی جائیں گی کہ ان علاقوں اور خطوں میں پھنسے ہوئے بچوں کی تعلیم کے لئے کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ کانفرنس میں امیر اور ڈونر ملکوں ........ جن میں ناروے بھی شامل ہے ........ سے تقاضہ کیا جائے گا کہ وہ اس ضرورت کو پوری کرنے کے لئے مزید وسائل فراہم کریں۔
 
اس وقت دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد 58 ملین ہے جنہیں اسکول کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ان میں سے دس فیصد کے لگ بھگ پاکستان میں مقیم ہیں۔ پاکستان کی حکومت ملک میں تعلیم عام کرنے اور سب کے لئے لازمی تعلیم کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہے۔ حکومت اس وقت قومی پیداوار کا 2.7 فیصد تعلیم پر صرف کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس طرح دنیا میں اس کا نمبر 157 واں بنتا ہے۔ ریکارڈ کی درستی کے لئے بتایا جا سکتا ہے کہ افریقہ کے بیشتر ملکوں میں جو وسائل کے اعتبار سے پاکستان سے بہت پیچھے ہیں، قومی پیداوار کا دس سے پندرہ فیصد تعلیم پر صرف کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف 40 فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ شرح سری لنکا میں سو فیصد ، بھارت میں 80 فیصد اور بنگلہ دیش میں 60 فیصد ہے۔ 
 
یہ سوچا جا سکتا ہے کہ کیا یہی کارکردگی دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے وزیراعظم نواز شریف اوسلو تشریف لا ئے ہیں۔
 
یا وہ یہ اعزاز سمیٹنے کے لئے اس عالمی کانفرنس میں شریک ہوں گے کہ اس کا افتتاح کرنے کے لئے نارویجئن حکومت نے پاکستانی نژاد ، نوبل امن انعام یافتہ سترہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو مدعو کیا ہے۔ ملالہ وزیراعظم ناروے ارنا سولبرگ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ہمراہ اس اجلاس میں افتتاحی تقریر کریں گی۔
 
ملالہ یوسفزئی کو شدید زخمی حالت میں 2012 میں خصوصی انتظامات کے تحت برمنگھم کے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کی حکومت پاکستان ایک  14 سالہ بچی کا تحفظ کرنے اور ملک کے انتہا پسند اس نحیف آواز کو برداشت کرنے میں ناکام رہے تھے۔ طالبان نے محض اس لئے اسے گولیوں کا نشانہ بنا دیا تھا کیونکہ ملالہ سب کے لئے تعلیم کی بات کرتی ہے۔ برمنگھم کے کوئن الزبتھ اسپتال میں ہوش سنبھالنے کے بعد اس نے جو پہلی بات کی ، وہ یہی تھی کہ وہ سب کے لئے تعلیم کا نعرہ بلند کرتی رہے گی۔ اس کے اس ایثار اور جرات نے اسے عالمی شہرت اور اعزازات سے نوازا ہے اور اس کے جواب میں ملالہ نے پوری اولالعزمی کے ساتھ تعلیم عام کرنے کے خواب کی تکمیل کے لئے کام کیا ہے۔
 
ملالہ سے آنکھیں چار کرتے ہوئے کیا میاں نواز شریف اسے بتا سکیں گے کہ پاکستان کا دامن اتنا تنگ اور وہاں کی حکومت اتنی کمزور کیوں ہے کہ وہ ملالہ کو وطن میں واپس قبول نہیں کر سکتی۔
 
اگر یہ جواب وزیراعظم پاکستان کے پاس نہیں ہے تو وہ ملالہ کی معصومیت اور مظلومیت کا سامنا کیونکر کر سکیں گے؟
 
یا شاید وہ اس احساس فخر کے ساتھ اوسلو کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہوں کہ بی بی سی کی ممتاز پاکستانی نژاد صحافی مشال حسین اس کانفرنس میں متعدد گروپ میٹنگز کی میزبانی کرے گی۔ بلاشبہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے شہری دنیا کے جس خطے میں بھی پہنچے، وہاں انہوں نے پاﺅں جمائے اور اپنا مقام بنانے کی قابل قدر مثالیں قائم کی ہیں۔ لیکن ایسے میں مشال حسین بھی تو وزیراعظم پاکستان سے یہ دریافت کر سکتی ہیں کہ ان پاکستانیوں کو اپنے وطن میں کیوں یہ موقع نہیں ملتا۔ زرمبادلہ کمانے اور ملک کی معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے کیوں پاکستان کئی دہائیوں سے ” انسانی قوت “ کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بنا ہؤا ہے۔
 
لیکن یہ جواب نواز شریف کیوں کر دے پائیں گے۔
 
ناروے میں تین روزہ قیام کے دوران ان کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں ہے کہ وہ اس ملک میں مقیم پاکستانیوں سے مل کر ان کا حال احوال پوچھ سکیں۔
 
ایسے میں ناروے کے پاکستانی یہی کہہ سکتے ہیں:
 ”جی آیاں نوں ............ پر آئے کیوں ہو!“
loading...