مجھے کون مارے گا

بچپن کے دوست کی گردن تن سے جدا کر کے اس نے اطمینان سے گنڈاسا ندی کے پانی سے صاف کیا اور تازہ ہوا میں لمبی سانس لی۔

پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا

اس بستی میں ایک زمانے میں سبھی ہم مشرب آباد تھے۔

یعنی ان میں اس بات پر جھگڑا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی شخص کس بات پر یقین رکھتا اور کس خدا کو مانتا ہے۔
وہ سب راست گو تھے اور حق پرستی ان کا شعار تھا مگر سب دوسرے لوگوں کی طرح اس بستی میں آباد لوگوں میں بھی نظرئیے اور عقیدے کا اختلاف تھا۔ چونکہ وہ صدیوں سے اس دھرتی پر آباد تھے ، اس لئے انہیں اس بات کی عادت تھی کہ مختلف عقائد رکھنے والوں کو قبول کر لیا جائے۔ یہ رویہ اب ان کی سرشت میں شامل تھا۔ انہیں کبھی دوئی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور معاملات طے کرتے ہوئے انہیں کسی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے کے عقیدے سے نابلد تھے مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ دوسرے لوگ مختلف دین کو مانتے ہیں، ان کے آپسی تعلقات متاثر نہیں ہوتے تھے۔ چونکہ سب لوگ ایک دوسرے کے عقیدوں اور رسوم و رواج کا احترام کرتے تھے اس لئے کبھی کوئی چپقلش یا فساد پیدا نہیں ہوتا تھا۔

ایک دوسرے کو قبول کرنے کے اس ماحول میں اگر کبھی اختلاف کی صورت پیدا ہوتی تو اسے فساد میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی رفع کر لیا جاتا۔ بستی کے سارے بزرگ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کس کا کیا عقیدہ ہے۔ مرنے کے بعد کسی کو جلایا جائے گا یا دفنا دیا جائے گا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ زندگی کو مل جل کر خوش اسلوبی سے گزار لیا جائے۔ روزمرہ پیش آنے والے مسائل سے نمٹا جائے۔ صاف پانی ، بہتر کاشتکاری ، گلیوں کی صفائی ، بچوں کے لئے اسکول اور بیماروں کے علاج معالجے کی سہولتیں سب کا سانجھا مسئلہ تھیں۔ اس بات پر اتفاق موجود تھا کہ ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اتفاق سے کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اس سکون میں اضطراب کی پہلی لہر اس وقت پیدا ہوئی جب علاقے کے جاگیردار نے پیداوار میں اپنے حصے میں اضافہ کرنے کے لئے سوچنا شروع کیا۔ اسے اندازہ تھا کہ بستی کے لوگوں میں پیار محبت ہے اور وہ سب فیصلے مل کر کرتے ہیں۔ اس لئے جاگیردار کے لئے اس اتحاد میں رخنہ ڈالنا ضروری تھا۔ لیکن یہ خیال اسے پنچایت میں اپنی بات پیش کرنے کے بعد ہی آیا۔ شروع میں جاگیردار کا خیال تھا کہ سب لوگ اس کی زمینوں پر کام کرتے ہیں اور اس کے دست نگر ہیں۔ اس لئے اس نے دھڑلے سے لوگوں کو پنچایت میں اکٹھا کرنے کا حکم دیا۔

بستی کے سارے لوگ پیغام ملتے ہی مقررہ وقت پر آبادی کے بیچ بنے ہوئے چبوترے کے گرد جمع ہو گئے۔ جاگیردار کی نشست سجا دی گئی اور وہ اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں آ کر رونق افروز ہو گیا۔

جونہی جاگیردار نے کاشتکاروں کا حصہ کم کرنے اور اپنا حصہ بڑھانے کا پیغام دیا تو لوگوں میں سے ایک دراز قد نوجوان کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنے اردگرد بیٹھے بزرگوں سے آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کرنے کی اجازت طلب کی ۔ ان کی آشیر واد ملتے ہی اس نے جاگیردار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

جناب آپ پوری بستی کے مالک ہیں۔ سب زمینیں آپ کی ہیں لیکن یہ زمینیں ہماری محنت سے سونا اگلتی ہیں۔ آپ ہماری محنت کا پھل کھاتے ہیں۔ ورنہ اپ کے یہ کھیت ویران اور باغ بے آباد ہو جائیں گے۔ اس لئے ان زمینوں کی پیداوار پر پہلا حق آپ کا نہیں ، ہمارا ہے۔ یہ للکار سن کر جاگیردار کا سر بھنا گیا اور وہ سوچنے لگا کہ ایسے سرکش کو کیوں کر لگام ڈالی جائے۔ نوجوان نے اپنی بات جاری رکھی ۔ اس نے کہا:

جس مہنگائی کا ذکر آپ کر رہے ہیں ، اس کا سامنا ہمیں بھی ہے۔ بلکہ ہمارے حالات دن بدن دگرگوں ہو رہے ہیں۔ ہم لوگ تو پچھلی فصل اٹھنے کے وقت سے ہی یہ بات آپ کے گوش گزار کرنا چاہ رہے تھے کہ اب معاملہ چالیس ساٹھ پر نہیں ہو گا۔ اب ہم پیداوار کا برابر حصہ لیں گے۔

یہ سنتے ہی زمیندار کی آنکھیں پھیل گئیں۔ دل و دماغ غصے سے پھٹنے کو تھے مگر اس نے اپنے جوش کو ہوش سے قابو میں رکھا۔ اسے اپنے باپ کی یہ بات یاد تھی کہ بستی والوں سے معاملہ کرتے ہوئے کبھی اونچ نیچ نہ کرنا۔ یہ لوگ ایک مٹھی کی طرح ہیں۔ تم نے زیادتی کی کوشش کی تو یہ تمہارا حلیہ بگاڑ دیں گے۔

نوجوان نے بات جاری رکھی:

تو جناب ہمارا فیصلہ تو یہ ہے کہ برابری کی بنیاد پر معاملہ کرنے سے بھی آپ کو فائدہ ہی ہو گا۔ پیداوار میں زیادہ حصہ ملے گا تو ہم لوگ زیادہ محنت کریں گے۔ ہماری ضرورتیں پوری ہوں گی۔ ہمارے گھروں میں خوشحالی آئے گی۔ اسکول اور اسپتال کی حالت بہتر ہو گی تو کام میں ہمارا دل بھی لگے گا۔ ورنہ آپ ہی غور کریں کہ اگر ہماری بدحالی بڑھتی رہی تو زمینوں سے پیداوار میں اضافہ کی خواہش بھی تو ختم ہو جائے گی۔ اس میں سراسر آپ ہی کا نقصان ہے!

نوجوان نے بات مکمل کی۔ بستی کے بزرگوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور جاگیردار سمجھ گیا کہ ابھی بات بگاڑنے کا وقت نہیں ہے۔ اس نے لوگوں سے ان کا حال احوال پوچھا اور جلد ہی اس مسئلہ پر نئی پنچایت منعقد کرنے کا وعدہ کر کے اپنی حویلی روانہ ہو گیا۔

اگلی صبح سیر کرتے ہوئے جاگیردار کی بگھی اس کھیت کے قریب پہنچ گئی جہاں وہ نوجوان ہل جوت رہا تھا۔ جاگیردار نے اسے ساتھ لیا اور حویلی لے گیا۔

اس ملاقات میں اس نے نوجوان کی ذہانت اور محنت کی تعریف کی اور اپنے منشی سے کہا کہ اس کے لئے ٹریکٹر کا انتظام کر دے تا کہ وہ نوجوان اپنے کھیتوں میں پیداوار میں اضافہ کر سکے۔ زمیندار نے نوجوان سے کہا کہ بھئی تم حوصلہ مند نوجوان ہو۔ میں دس بے آباد کھیت تمہیں دیتا ہوں۔ تم ٹریکٹر کی مدد سے ان کو بھی آباد کر لینا۔

بستی والے خوش خیال اور خوش گمان لوگ تھے۔ انہوں نے زمیندار کی عنایت کو سازش قرار دینے کی بجائے نوجوان کو مبارکباد دی اور خوشی کا اظہار کیا۔

اس واقعہ کے تھوڑے دن بعد ہی اس نوجوان کے باپ نے ایک درسگاہ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ بستی کا اسکول بہت چھوٹا ہے اور اس میں سب بچوں کے لئے گنجائش بھی نہیں ہے۔

پھر ہم اپنے بچوں کو اپنے مذہب کی تعلیم بھی تو مناسب طریقے سے نہیں دے سکتے۔ گھروں میں یہ کام احسن طریقے سے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ درسگاہ ضروری ہے۔

اس بستی میں پہلی مرتبہ کسی نے اپنے عقیدے کی حفاظت کے لئے علیحدہ مدرسہ قائم کرنے کی بات کی تھی۔ مگر دوسرے لوگوں کو اس بات پر حیرت اور افسوس تھا کہ بعض گھروں کے بچے اب سب کے ساتھ مل کر نہیں پڑھ سکیں گے۔

” تو کیا ہؤا “۔ نئی درسگاہ کے مہتمم نے واضح کیا:

اسکول کے بعد تو سب مل کر ہی کھیلیں گے نا۔

” ہاں یہ تو ہے“ سب کو اس کی بات ماننا پڑی۔

ٹریکٹر کے آنے اور درسگاہ بننے سے اس نوجوان کے خاندان کو اپنے لوگوں میں خاص مقام اور امتیاز حاصل ہو گیا۔ اب اس گھر کی دیواریں اونچی اور چھتیں پکی ہو گئیں۔ بستی میں عقیدے کے علاوہ طبقاتی تقسیم کا آغاز ہو چکا تھا۔

عقیدے کے نام پر پہلا قتل اس درسگاہ کے دروازے پر ہؤا۔ مدرسے کے نوجوان طالب علموں نے دوسرے عقیدے کے ایک ادھیڑ عمر شخص کو چھرے کے وار کر کے مار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مدرسے کی طرف استہزائیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا گویا وہ ہمارے عقیدے کا مذاق اڑا رہا ہو۔

بستی کے بزرگوں نے مل کر اس تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن ٹریکٹر والے نوجوان اور اس کے مہتمم باپ کو نیا اختیار اور وسائل مل چکے تھے۔

یہ اس بستی کی آخری سبھا تھی جس میں سب لوگ شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ساتھ والی گلی میں دوسرے عقیدے کی پاٹھ شالا قائم ہو گئی اور لوگوں نے ایک دوسرے سے منہ موڑ لیا۔

اس بستی میں آج آخری قتل ہؤا تھا۔

نوجوان نے اپنے ساتھ کھیلے راجو کا سر تن سے جدا کیا۔ گنڈاسے کا خون ندی کے پانی سے صاف کیا۔ تازہ ہوا میں سانس لی۔ پھر وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا:

” اب تو میں اکیلا ہوں“ وہ دیوانگی سے چلایا۔

” اب مجھے کون مارے گا“

loading...