لال آندھی سے مکالمہ

اس راستے پر چلتے ہوئے اس روز
میری لال آندھی سے ملاقات ہو گئی
وہ غرائی ہوئی ، بھرائی ہوئی ، جوش میں آئی ہوئی تھی
میں حیرت سے اسے تکتا
سہما سہما سا اس سے اس کے غصے کی
وجہ جاننا چاہتا تھا
 

اس نے کہا میرے راستے سے ہٹ جا
ورنہ تُو جانتا ہے
خاشاک کے ایک ٹکڑے
پرِکاہ کی طرح تجھے اڑا کر لے جاﺅں گی
آئے گا جو میری راہ میں اسے بہا کر لے جاﺅں گی

ڈرا تو میں تھا مگر حوصلہ پکڑا
موت کو سامنے دیکھا تو سوچا
اب اس سے زیادہ کیا ہو گا
کہ یہ میرا وجود ، میری حیثیت اور میری شناخت کو
روند ڈالے
اور اپنے بے پناہ جاہ و جلال میں
ایک تنکے کی طرح مجھے بے بنیاد کر دے
 بے آسرا کر دے

اس سے زیادہ کیا ہو گا
کہ میں اپنی دھرتی، اپنے ماحول اور اپنوں سے
بچھڑ جاﺅں گا۔
ہمیشہ کے لئے دربدر ہو جاؤں گا
نہ جائے اماں ملے گی اور نہ سکون نصیب ہو گا
جہاں بھی رہوں گا
سناٹا ہو گا،  تاریکی ہو گی
اور وہ سب مجھے کھانے کو دوڑیں گے

اب اس سے زیادہ کیا ہو گا
یہ غرائی بھرائی آندھی جس جاہ و جلال
اور تمکنت سے اب رواں ہے
اور جس لب و لہجہ اور غضبناکی سے
یہ مجھے مخاطب کرتی ہے
اور اس کے سامنے جو میری حقیقت ہے
وہ میں بھی جانتا ہوں، یہ بھی جانتی ہے

بس اسی خیال نے مجھے ازنِ کلام دیا
میں نے خود کو جمع کیا اور وہ کہہ دیا
جو ایسے موقع پر کہنا محال ہے، سوچنا دشوار ہے
میں نے کہا
جانتا ہوں تُو جوش میں ہے
تو اب تجھے ہوش کہاں
یہ بھی جانتا ہوں کہ تیرے بازوﺅں میں
تباہی و بربادی کے طوفان ہیں
تُو اب قہر کی طرح نازل ہو رہی ہے
سب کچھ غارت کرنے کی بات کر رہی ہے
مگر لمحہ بھر کو سوچ گو کہ
جانتا ہوں کہ
انسان ہو کہ آندھی
جوش میں ہو تو ہوش کہاں رہتا ہے
کچھ کر گزرنے کی تڑپ ہو تو
انجام کا گماں کہاں رہتا ہے

مگر شاید کہ تجھے سمجھ میں آ جائے یہ بات
کہ تُو طوفان ہے بربادی ہے، منہ زور ہے
میں کمتر پرِکاہ اور ناکارہ ہوں
تُو مجھے اڑا لے جائے تو میری جڑوں سے مجھے کاٹ دے
میرا گھر ، میرا آنگن ، میرا وطن مجھ سے چھین لے

مگر کیا یہ تیرے بس میں ہے
کہ تُو میرا وجود ختم کر دے
مجھے مسل دے ، کچل دے
نہ رہوں میں نہ میرا احساس رہے
نہ زیاں کا قیاس اور کل کا گمان رہے

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ
یہ پرِکاہ ........ ایک بے توقیر
ایسے نشیمن میں جا پہنچے جہاں بہاریں میری منتظر ہوں
جہاں میں ایسے آشیانے کا حصہ بنوں
جو زندگی سے مہکتا ، کلکارتا ہو

پر یہ بھی تو سوچ جوش میں دیوانی آندھی
آنکھوں میں لالی اور بازو میں طاقت لئے ہوش سے بیگانی آندھی
کہ جب تُو بستیاں ، دیس روندتی
اور بربادی عام کرتی
کامیابی کے پھریرے لہراتی
تباہی کا پیغام دیتی
سب کو بے گھر بے آسرا کرتی
ان مقامات سے گزر جائے گی تو تیری منزل کیا ہو گی
کیا ہو گا تیرا انجام اور کیا تُو حاصل کر پائے گی

ہو گا تو یہی نا کہ یہ جوش ولولہ نہ رہے گا
نہ تیری منزل نہ تیرا کوئی مقصد
تیرے گھمنڈ کا یہ ابال نہ رہے گا
تب کیا ہو گا
تُو ایک پرکاہِ سے بھی کمتر اور بے توقیر
نہ تیرا وجود نہ تیرا احساس رہے گا

ہوش کر دیوانی نہ بن
یوں زندگی کو نگلنے کی نادانی نہ کر
کہ زندگی تو تیری بھی داﺅ پر ہے
تباہ حال تو بچ نکلیں گے
تنکے جوڑ کر پھر سے آشیانے بنائیں گے

مگر تُو نہ ہو گی
ہاں
تیرا ذکر ضرور ہو گا
ہر سو تیرے لئے
نفرت کا اظہار مکرر ہو گا۔

 

تحریر : سید مجاہد علی

loading...