آﺅ احتجاج کریں

سب ناراض ہیں۔

یہ بڑا ظلم ہؤا ہے۔

ہم جانتے تو تھے کہ ان ٹیلی ویژن ڈراموں نے ہر حد پار کر لی ہے۔ نہ کوئی حیا نہ کوئی شرم۔ بس جو جی میں آتا ہے چلا دیتے ہیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے بھائی یہ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے لوگوں کو یہ فحش اور واہیات پروگرام کیوں دکھاتے ہو۔

کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔ ان سب کے ہاتھ لمبے ہیں۔ سیاستدانوں تک ان کی پہنچ ہے۔ اور تو اور یہ تو ایجنسیوں کے بھی پے رول پر ہیں۔ ان کا کان کون مروڑ سکتا ہے۔

اسی پر کہاں بس یہ لوگ تو ٹیلی ویژن اسکرین پر آ کر خود کو فرعون سمجھتے ہیں۔ ہر کسی کے ساتھ بدتمیزی، تہذیب اور شرافت تو کانوں کو ہاتھ لگاتی ہیں میاں۔

اور یہ سیاستدان ۔ یہ سب بکاﺅ مال ہیں۔ مگر دیکھا ہے کہ ان بدہئیت بد زبان ٹیلی ویژن اینکروں کے سامنے کیسے بھیگی بلی بنے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے تو یوں بھڑتے ہیں جیسے ابھی گردن دبوچ لیں گے۔ اصیل مرغ کی طرح اچک اچک کر ایک دوسرے پر حملے کرتے ہیں اور اینکر کا کردار انہیں ہلّہ شیری دینا ہوتا ہے۔

کبھی دیکھا ہے ناں کہ مرغ لڑانے کے شوقین کس طرح اپنے اپنے پٹھے کا حوصلہ بڑھانے کے لئے تاﺅ دلاتے ہیں۔ پچکارنے اور للکارنے پر مرغا بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر .... پنجوں کی نوک پر کھڑا ہو کر پروں کو پوری لمبائی تک پھیلا کر اپنے سے زیادہ جری، قوی اور عظیم الجثہ مرغ پر پل پڑنے کی اپنے تئیں پوری کوشش کرتا ہے۔

مگر مرغ بازوں میں کم از کم یہ تو ہوتا ہے کہ ہر مرغ کا  اپنا ایک مربّی ہوتا ہے۔ وہ اسی کی آواز اور اشارے پر اپنی جان نچھاور کرنے پر آمادہ و تیار ہو جاتا ہے۔ جانتا ہے کہ آج معرکہ مار لیا تو چوری سے سیوا ہو گی اور اگلے معرکے تک مالک گود میں اٹھا کر لاڈ سے پچکارتا اور پورے محلے سے داد وصول کرتا پھرے گا۔

مگر یہ ہمارے ٹاک شوز میں مرغوں کی نقل میں غرانے والے سیاستدان تو بس پروگرام کے میزبان کا منہ دیکھتے ہیں۔ اسی کی دھتکار سے ڈرتے ہیں۔ اسی کی پچکار کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ تو شو تو عشاق کا ڈوئل لگتے ہیں۔  کہ ایک محبوبہ کے حصول کے لئے کئی لوگ ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہیں اور محبوبہ ہے کہ ایک ادائے دلبری سے کبھی ایک کو مسکرا کے دیکھتی ہے تو کبھی دوسرے کے ساتھ آنکھ مٹکا کرتی ہے۔ دونوں سے دل اوب جائے تو تیسرے کے سر پر اپنا نازک ہاتھ پھیر کر اسے میدان کارزار میں اترنے کا اشارہ دیتی ہے۔

توبہ ہے بھئی پروگرام اینکر تو ان شرکاء کو انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ میاں تمہارے منہ میں کے دانت ہیں اور سیاستدانوں پر کیا موقوف ۔۔۔۔ کیا مولانا ، کیا مفتی اور جبہ پوش ، کیا انسانی حقوق کے علمبردار اور تحریکیں چلانے کے ماہر .... یہاں آتے ہی سب کی سٹی گم۔ بس ایک ہے جو انہیں اپنی ڈگڈگی پر یوں نچاتا ہے جیسے مداری بندر کو وہی کرنے پر آمادہ کر لیتا ہے جو اس کی تان اور ڈگڈگی کی تال کہتی ہے۔

پھر دیکھئے فتوے بھی حاضر اور بیانات بھی۔ دلائل اور شواہد کی تو یوں بھرمار ہوتی ہے کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ اب کس کے پاس اتنا ہوش کہ جا کے تصدیق کرتا پھرے۔ ایک کا الزام دوسرے کا انکار اور تیسرے کا اقرار اور بیچ بیچ میں اس بازی گر کا مٹکنا اور اشارے بازی۔ ارے واہ اس قوم کو کس کام پر لگایا ہے، ان بدبختوں نے۔ سب سارے کام بھول کر یہ تماشے دیکھنے تو یوں امڈے آتے ہیں جیسے کوئی قسط رہ گئی تو قیامت آ جائے گی۔

مگر اب تو حد ہی ہو گئی ہے۔

دیکھو فحاشی بھی دیکھ لی اور برداشت کی

بدتہذیبی کے مظاہر پر بھی خاموش رہے۔

جاہل گنواروں کو عقلمندوں کا روپ دھارے دیکھ کر جی اوب اوب جاتا ہے مگر سب سہا۔ سب برداشت کیا۔ مگر اب تو یہ ہر اصول کو پامال کرتے چلے جاتے ہیں۔

ہاں اب یہی دیکھ لو۔ پہلے ان لوگوں نے ہماری افواج اور آئی ایس آئی پر حملہ کیا۔ دیکھو بھئی کچھ بھی سہی ، فوج نہ ہو گی تو یہ دشمن ہمیں ایک لمحہ میں چت کر دیں گے۔ ابھی ہندوستان میں ہی دیکھو کیسے ہندو قوم پرست مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں اور یہ چینل ہیں کہ ان سے دوستی کا راگ الاپتے ہوئے اپنے ہی اداروں کو تباہ کرنے پر تلے ہیں۔

اور ان خبروں میں کچھ تو سچ ہو گا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی “ را “ ان کو مال کھلاتی ہے۔ تبھی تو یہ دشمن سے بڑھ کر اس ملک کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔

اس کو بھی چھوڑو۔ اب تو یہ ہمارے عقیدے اور دین پر حملے کرنے لگے ہیں۔ ڈھونگی اداکاروں کی جعلی شادیوں میں  مقدس منقبت .... نعوذ باللہ۔ گمرہی کی بھی حد ہوتی ہے۔ یہ لوگ تو ہمارے بچوں اور عورتوں کے ذہنوں کو دینی حرمت اور قومی شناخت سے عاری کر دیں گے۔ اس طرح یہ ہماری قومئ شناخت برباد کرنا چاہتے ہیں، اب کیوں نہ کہیں کہ یہ سب دشمن کی چال ہے۔

جو بھی کہو مگر اس بارے میں مولانا صاحب کہتے تو ٹھیک ہیں۔ چلو مان لیا کہ یہ کفر کی باتیں ذرا زیادتی ہے مگر یہ جو ابھی جیو نے مارننگ شو میں کیا ہے ، وہ تو کفر ہی ہے۔ اب دن کو دن اور رات کو رات نہ کہیں تو کیا کہیں۔ یہ جو ہم ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ مولویوں نے ہی ہمارے معاشرے میں آگ لگائی ہے ، ان چینل والوں نے تو ثابت کیا ہے کہ ہم کتنے غلط تھے۔ آخر یہی لوگ اس بے حرمتی پر میدان میں نکلے ہیں۔ یہ لوگ سامنے نہ آتے تو ہمارا تو عقیدہ ہی خاک میں مل جاتا۔

اب تو احتجاج کرنا چاہئے۔

ہاں کیوں نہیں

آج شام کو ہی ریلی اور جلسہ ہے۔ میں تو اس میں ضرور جاﺅں گا۔

اور کیا ہر صاحب عقیدہ شامل ہو گا۔ بھئی یہ ایمان کا معاملہ ہے۔

دنیا تو فانی ہے۔ یار یہ جو کماتے کھاتے ہیں سب یہیں رہ جانا ہے۔ اصل کام تو اعمال ہی آئیں گے۔

ہم تو گناہ گار لوگ ہیں۔ شاید اس احتجاج میں ہماری شرکت ہی قبول ہو جائے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے ہمارے گناہ معاف ہو جائیں۔

وہ بڑا بے نیاز اور معاف کرنے والا ہے۔ ہم جیسوں کو تو بس اس کی رحیمی کا ہی سہارا ہے۔

ہاں بھئی آج احتجاج ضروری ہے۔

زندہ باد .... مردہ باد

مارو ۔ بند کرو ۔ جلا دو۔

یہ لو پتھر لو۔

یہ مشعل ہے اسے اس کوڑے کے ڈھیر پر پھینکو۔ یہ عشقِ رسول اور حبِّ اہل بیت کا سوال  ہے۔ اس حکومت اور ان کفر بکنے والوں کو پتہ تو چلے کہ ابھی ہمارے دل سیاہ نہیں ہوئے۔ ابھی ہمارے دلوں میں ایمان کی چنگاری باقی ہے۔

وہ گرا .... وہ جلا ....

زندہ باد .... مردہ باد

یہ بہت ضروری تھا۔ دیکھ لینا اس کا اثر ضرور ہو گا۔ ہاں نقصان تو ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ تو بعض لوگوں کے کاروبار اور گھر تو اس احتجاج میں ضرور تباہ ہوئے ہیں۔ مگر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہمیں انہیں خاموش کرنا ہے جو ہماری حرمت اور غیرتِ ایمانی کو للکار رہے ہیں۔

اچھا تو اب چلتے ہیں۔

دیکھ لینا اس احتجاج کا اثر ضرور ہو گا

دن بہت لمبا تھا۔ بہت تھک گیا ہوں

ارے یہ تم نے یہ کیا گھر میں سناٹا طاری کیا ہؤا ہے

کیا لوڈ شیڈنگ ہے۔ تو جنریٹر چلا لو۔

وہ ٹیلی ویژن آن کرو

جیو لگانا اس پر وہ آج بڑا دلچسپ مباحثہ ہونا تھا

دیکھیں تو ............

loading...