یہ آنسو

یہ آنسو مژرگاں پہ ٹکا ہے
بہتا نہیں۔ اگر بہہ جائے تو دل ہلکا ہو۔لیکن وہ جو ذمہ داری اور وقار کا بار ان کاندھوں نے اٹھا رکھا ہے وہ بھی بکھر جائے گا۔
اس بوجھ کو اٹھانا مذاق نہیں ہے
یہ چند کلو سر پر ڈھو کر ایک مقام سے دوسری جگہ لےجانے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بوجھ احساس کا ہے۔ یہ بوجھ اس فرض منصبی کا ہے جو اس عہدے، اس حیثیت اور اس قوم نے تفویض کیا ہے۔
 
یہ آنسو امڈے چلے آتے ہیں۔
یہ تھمتے نہیں ---- لیکن
بہتے بھی نہیں
یہ خون کی دھارا بن کر دل پر وار کرتے ہیں
 
ہے کوئی جو اس دل کے کرب اور اس تکلیف اور اس بے پناہد درد کو محسوس کرسکے جو ایک باپ کے دل پر گزرتا ہے۔
 
یوں کہنے کو کیا نہیں ہوتا
دیکھنے میں کیا نہیں آتا
 
پسِ پردہء ساری ملاقاتیں بہت کارگر ہوتی ہیں۔ قلم کی ایک جنبش چہرے کی ایک مسکراہٹ۔ گرم جوشی سے کیا ہوا ایک مصافحہ
بس اتنی سی بات ہے۔ ساری مشکلیں اور سارے مسئلے چٹکی بجاتے حل ہوجاتے ہیں۔
ایک ملاقات تو بڑی بات ہے۔ جنبشِ قلم بھی ضروری نہیں۔ سرکا ہلانا بھی درکار نہیں۔ بس خاموش رہو۔
 
نہیں یہ خاموش رہنا تو جرم ہے
یہ ظلم ہے۔ یہ غداری ہے۔ یہ دھوکا ہے
وہ تو ہے۔ مگر کون جانتا ہے اور کون کہتا ہے۔
 
اس روز سپہ سالار پورے جلال میں تھا۔
سارے جرنیل دست بستہ تھے۔
تیور بگڑے ہوئے تھے۔
طاقت کا بے شمار گمان تھا
اور تم نے یہ کہا
جی
کیوں؟
 
کیوں کہ یہی سچ ہے۔ یہی سب کے فائدے کی بات ہے۔ اسی میں اس قوم کا فائدہ ہے۔
نہیں جھوٹ ہے۔ تم مجھے چیلنج کرنا چاہتے ہو۔
میں ابھی تمہیں برخواست کرسکتا ہوں۔
میں امین ہوں
ان سب نے مجھ پر اعتبار کیا ہے
میں ان کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔
 
یہ باتیں کتابوں میں ہوتی ہیں۔ یہ زندگی ہے۔ یہاں طاقت فیصلے کرتی ہے۔ یہاں میں حکم صادر کرتا ہوں۔
اور میں حکم دیتا ہوں۔ تم جاﺅ، گھر جاﺅ
اگر چاہتے ہو تو کوئی پرگنہ، کوئی جاگیر کوئی انعام
جو چاہو مگر اب جاﺅ
نہ
 
یہ کیا؟ یہ نہ کیا ہوتی ہے۔ تم جانتے ہو اس کا انجام۔ کھال کھنچوالی جائے گی۔ کوئی جان بھی نہیں پائے گا کہ وہاں کوئی آواز نکلی تھی۔ کوئی بات ہوئی تھی۔ کوئی قصہ تھا۔
 
نہ یہ نہ ہوگا
ایک عزم تھا۔ خاموش عزم
استقلال تھا۔ صبر اور حوصلے کے ساتھ ایک راستے پر چلنے کا عزم تھا
 
اب جو یہ آنسو پلک پر ٹکا ہے
اس روز تو چمک تھی
قہر کے سامنے بھی
کمزور ہونے کے باوجود تم کتنے طاقتور تھے
اب یہ آنسو بہہ جانے دو
 
نہ
نہ ۔۔۔۔۔  یہ آنسو بہہ گیا تو امیدیں ٹوٹ جائیں گی۔ اعتبار ختم ہوجائے گا
سب بکھر جائے گا۔
نہ یہ نہ ہوگا۔ یہ میں نہ ہونے دوں گا۔
 
یہ کتنا آسان ہے۔ تعلق بنانا اور ساتھ نبھانا۔ سب ہی تو کرتے ہیں۔
کوئی ہے جو اس سے گریز کرتا ہو
وہ دیکھو بیٹے کیا نہیں کرتے
وہ مٹی سے سونا بناتے ہیں
زہر بیچتے ہیں اور اجر پاتے ہیں
کون ہے جو آنکھ اٹھاسکے
 
بیٹے سب کے ہوتے ہیں۔ اب پتہ چلا۔
یہی سب کہتے تھے۔
اب ان نوجوانوں کے بھی ارمان ہوتے ہیں
وہ بھی کچھ کرکے دکھانا چاہتے ہیں
تم سے کہا تھا یہ معاملات نازک ہیں
ان میں کچھ لو اور کچھ دو ہوتا ہے
مگر ایسے قومیں تو نہیں بنتیں۔
قہقہہ۔ اور قہقہہ۔۔۔۔ ایک قبیح قہقہہ
 
یہ کیسا مذاق ہے قوم کو کیا ہوتا ہے
قوم یہی چاہتی ہے
ہر شخص اپنی حیثیت میں یہی کرتا ہے۔
کوئی کم تولتا ہے۔ کوئی سو روپے رشوت لیتا ہے۔
کوئی بجلی چوری کرتاہے۔ کوئی گیس کا میٹر بند کردیتا ہے۔
کوئی سرکاری کاغذ بیچتا ہے۔ کوئی پرایا اسباب فروخت کردیتا ہے۔
یہ ہمت اور حوصلے کی بات ہے۔
 
ہاں یہ ہمت اور حوصلے کی بات ہے
یہ بھروسے اور اعتبار کی بات ہے۔
یہ ذمہ داری اور اس کو نبھانے کی بات ہے
 
باپ کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہیں گے
پر منصف کی پلک پر وہ خون کی بوند کی طرح جم جائیں گے۔
یہی قیمت ہے جو ایک قوم مانگتی ہے
یہ قوم کی خوراک ہے۔ کسی کو تو یہ قیمت دینا ہوگی
 
عدالت برخواست ہوتی ہے۔
 
loading...