”شہادت“

تم بھوکے ہو کیوں کہ تمہارے ہمسائے کا پیٹ بھر اہوا ہے۔ اس نے تمہارے حصے کا کھانا ہضم کرلیا ہے۔
 
مگر یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اپنا کام کرتا ہے۔ محنت سے وسائل حاصل کرتا ہے۔ اس کا پیٹ بھرا ہونے سے میں کیوں کر بھوکا ہوسکتا ہوں۔ نہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔
 
ایسا ہے کہ اسے کوئی حق نہیں کہ ہمسایہ بھوکا ہو اور وہ خود پیٹ بھر کر کھانا کھالے۔ وہ اس لئے ایسا کرتا ہے کیوں کہ اس کا ضمیر مردہ ہوچکا ہے۔ اوراسے جگانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کے گھر کو آگ لگادی جائے۔ اس کی دکان تباہ کردی جائے اور اس میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ محرومی کیا ہوتی ہے۔
 
مگر یہ تو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اللہ کے احکام کے بھی خلاف ہے۔ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے سے اس کے وسائل چھین لوں۔
 
نہیں تم کو یہ سبق بھی اسی اسکول میں پڑھایا گیا ہے جو اس استحصالی طبقے نے تم جیسوں کو محروم کرنے کے لئے قائم کئے ہیں۔ اللہ کا حکم یہ نہیں کہ ظالم کا ظلم برداشت کرو۔ بلکہ اللہ یہ کہتا ہے کہ اپنا حق چھین لو۔
 
یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ تو ہرگز میرے عقیدے کا حصہ نہیں۔ میرے والد نے ساری زندگی صبروشکر کے ساتھ ان وسائل میں بسر کی جو ان کو میسر تھے اور خوش رہے۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے یہی سبق سکھایا کہ صبر اور تحمل ہی ہمارا دین اور ہمارے رسول کا شعار ہے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ہمارے پیارے نبی نے برا چاہنے والوں اور کرنے والوں کا بھی بھلا چاہا۔ اب تم مجھے کہہ رہے ہو کہ یہ غلط ہے۔
 
نوجوان بڑے عزم اور تدبر سے بول رہا تھا۔ اس کا سر فخر سے اونچا تھا۔ اس کے سامنے بیٹھے ادھیڑ عمر باریش شخص نے شیطانی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ پھر سنجیدہ ہوگیا۔ اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر کمرے میں لے گیا۔
 
جدید رطز کے اس ڈرائنگ روم میں ہر شے میسر تھی۔ اس شخص نے ایک ڈی وی ڈی، پلیئر میں لگایا اور بولا:
تم اسے دیکھو پھر بات کرتے ہیں۔ میں ذرا ایک کام نمٹا کر آتا ہوں۔
 
پھلوں سے بھری ایک قاب میز پر دھری تھی۔ ایک کونے میں ریفریجریٹر بھی تھا۔
 
ہاں برخوردار بھوک لگے تو کچھ کھا لینا۔ ہم تمہارے ہمسایوں کی طرح استحصالی نہیں ہیں۔ شیطانی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کو مکروہ بنادیا تھا.... اس نے دروازہ بند کیا اور آنکھوں سے روپوش ہوگیا۔
 
نوجوان نے ٹیلی ویژن پر مناظر دیکھنا شروع کئے تو اس کا خون کھولنے لگا۔
 
فلسطینی اپنے جلے ہوئے گھروں پر پانی پھینک رہے تھے۔
آگ میں گھرے بچوں کی چیخیں وحشی کررہی تھیں۔
ایک جیل میں گورے محافظ مسلمان قیدیوں کو کتا بنا کر ان پر قہقہے لگا رہے تھے۔
اور ایک ............
 
اس نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور آنکھیں موندلیں۔ اسے لگاہ وہ تضحیک اس کی روح کو جھنجوڑ رہی تھی.... ادھ جلے بچوں کی بے نور آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔
 
وہ پاگل ہورہا تھا۔
مجھے جانا چاہئے۔ وہ اٹھا۔ وہ نہ اٹھ سکا۔
وہ چیخا۔ اس کی آواز نہ نکل سکی۔
وہ ادھ موا بے بس زمین پر ڈھیر ہوگیا۔
 
دروازہ کھلا تو دنیا بدل چکی تھی۔
باپ کی بتائی ہوئی باتیں اپنا اثر کھو چکی تھیں۔
اب وہ سوچ نہیں سکتا تھا۔
سوچنا بزدلی ہے۔ اسے تو انتقام لینا تھا۔
بہادر بنناتھا۔ شہید ہونا تھا۔
 
loading...