گرے زون

ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔
ساری خواہشیں قطار اندر قطار چھم چھم اترتی چلی آتی ہیں۔
رنگ رنگیلی، رسیلی اور دلچسپ۔۔۔ کاش ایسا ہوجائے۔
ایسا ہوجائے کہ یہ جو شخص سامنے بیٹھا ایک ایسا جھوٹ بول رہا ہے جس کا نہ سر ہے نہ پاؤں، میں اس کے سامنے جاؤں اور کہوں۔ صاحب جانے دو۔ اب اتنے زمین آسمان کے قلابے نہ ملاؤ۔۔۔ کچھ زمین پر پیر ٹکاؤ۔ کچھ عقل کے ناخن لو اور کچھ تو سچ کہو۔
پھر ایسا ہوتا نہیں ہے۔
یہ دُنیا ہمیں سکھاتی ہے کہ سورج نکلتا ہے۔۔۔ دن طلوع ہوتاہے اور پھر شام کا اندھیرا پھیلتا ہے اور کاروبار حیات سمٹنے لگتا ہے۔ یہ قانون فطرت ہے۔ میں تو یہی دیکھتا اور اس کو مانتا ہوں۔
مگر مدرس ہمیں سکھاتا ہے کہ سب سیاہ یا سفید نہیں ہوتا۔ دُنیا کو دو خانوں میں نہیں بانٹ سکتے۔ اسی طرح دن کو بھی صرف دن اور رات میں کیسے مقیدکرسکتے ہیں۔
تو پھر
ان دونوں کے درمیان بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ بہت سا اب جو ہوتا ہے مگر نظر نہیں آتا ہے۔ جو دکھتا نہیں مگر قوت رکھتا ہے۔ وہ اثرانداز ہوتا ہے۔ زندگیاں بدلتا ہے اور خواب بکھیردیتا ہے۔
وہ کیا ہے
میں خوفزدہ ہوجاتا ہوں۔ میری آنکھیں حیرت سے پھیلی ہیں۔
پھر میں یہ نہیں کہ سکتا؟
میں نہیں کہہ سکتا کہ صاحب آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
جناب آپ نے تو کبھی مشقت نہیں کی آپ کو غربت اور غریب کا کیا پتہ۔ میں کہہ دوں۔
نہ یہ نہ کہو۔ ایسا نہیں کہتے۔
اچھا صاحب آپ کس منہ سے ایمانداری اور اُصول کی بات کرتے ہیں آپ نے تو کبھی سچ نہیں بولا۔۔۔ آپ تو محض جھوٹ کے سہارے سہانے خواب بنتے ہو۔ لوگوں کو بے وقوف بناتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ سچ بولنا چاہئے۔ آپ کبھی اپنی پٹاری کھول کر اپنے کر تبوں کا پول بھی تو کھولئے۔
ارے یہ کیا۔۔۔ ایسا نہیں بولتے۔۔۔ یہ تو حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔
مگر یہ تو سچ ہے
مگر ایسا کہنا ہمارے مفاد میں نہیں۔
مگر میں تو جھوٹ نہیں بولتا۔
تو جھوٹا کہنا کیا ضروری ہے۔
لیکن یہ سب تو جھوٹ ہے۔
ارے اب سمجھ بھی جاؤ۔
یہ گرے زون ہے۔ دنیا صرف سیاہ یا سفید نہیں ہوتی۔

loading...