جمہوریت کو بچانے کے لئے سیاست دان بھی اصولی سیاست کریں

سندھ حکومت کی کارکردگی کے خلاف سپریم کورٹ کے اقدامات اور چیف جسٹس کے یکے بعد دیگرے سخت ریمارکس کے بعد آج حیدرآباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جوڈیشل ایکٹوازم کو جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے اور انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بھی  نواز شریف کی طرح عدالتوں میں زیر التوا اٹھارہ لاکھ مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو عوام انہیں ووٹ کے ذریعے حق نمائیندگی سے محروم کرسکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتظامی امور میں عدلیہ کے کردار کے بارے میں وہی باتیں کی ہیں جو چند روز پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی کرتے رہے ہیں۔  لیکن  عدالتوں کو حکومتی امور میں مداخلت سے باز رکھنے کے اصول پر بالواسطہ متفق ہونے کے باوجود   مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس حوالے سے کسی سیاسی اصول پر  متفق ہونے یا  کوئی واضح لائیحہ عمل اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آصف علی زرداری نے سینیٹ کے انتخابات اور اس کے بعد ایوان بالا کا چیئرمین منتخب کروانے کے لئے جو  ’سیاست ‘ کی ہے ،  شاید اس کا  ’تحفظ‘ کرنے کے نقطہ نظر سے بلاول بھٹو زرداری نے یہ کہنا ضروری سمجھا  کہ نواز شریف اداروں کو کمزور کرنے کے ذمہ  دار ہیں۔ حالانکہ ماضی میں پیپلز پارٹی بھی نواز شریف ہی کی طرح عدالتوں اور ججوں کے ساتھ  متصادم رہی ہے اور حکومت کو فعال ادارہ بنانے میں  کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کرسکی۔

نواز شریف  اور ان کی پارٹی نے  اگر کسی ادارے کو کمزور کیا ہے ،  تو وہ حکومت ہے کیوں کہ وہ پارلیمنٹ کو اپنی قوت بنانے، پارٹی کو جمہوری بنیادوں پر استوار کرنے اور کابینہ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے کی بجائے چند خوشامدیوں کے ٹولے کی مشاورت سے حکومت کرنے کے عادی رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا  ریکارڈ اس حوالےسے شاید کچھ بہتر ہو کہ اس کے وزرائے اعظم نواز شریف کے مقابلے میں زیادہ  وقت پارلیمنٹ میں آتے رہے ہیں۔ لیکن جہاں تک پارلیمنٹ کو ساتھ ملاکر،  حکومت کے انتظام میں کام کرنے والے اداروں کی بالادستی اور حکومتی معاملات میں مداخلت کا تعلق ہے تو آصف زرداری بھی 2008 سے 2013 کے دوران اتنے ہی غیر مؤثر اور ناکام تھے جتنے نواز شریف 2013  کے بعد چار برس تک رہے ہیں ۔ ان کی معزولی کے بعد شاہد خاقان عباسی نے تو فوج کے ساتھ کسی بھی قسم کا اختلاف کرنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ اور ملک کے آرمی چیف بیک وقت سیاسی دانشور ، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کا رول نبھاتے نظر آتے ہیں ۔ اس پر نہ حکومت کو کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے کوئی احتجاج دیکھنے میں آتا ہے۔

یہ بات راز کی حیثیت نہیں رکھتی کہ کس طرح  سینیٹ کے انتخابات سے دو ماہ پہلے چند سو ووٹ لے کر بلوچستان اسمبلی کا رکن بننے والے عبدالقدوس بزنجو  وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوگئے  حالانکہ ان کی پارٹی کو بلوچستان اسمبلی میں صرف تین نشستیں حاصل تھیں لیکن کسی جادؤی چھڑی نے صوبائی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) کا شیرازہ بکھیر دیا اور اب وہی عناصر صوبے  کے مفادات کی حفاظت کے لئے  ایک نئی پارٹی بنا کر قومی مفاد کے لئے کام کرنے کے عزم کا اظہار کررہےہیں۔ اسی ’عزم اور جذبہ‘ کی وجہ سے ہی عبدالقدوس بزنجو  چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے چند روز پہلے اسلام آباد پہنچے اور  صادق سنجرانی کے لئے اتنی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ پاکستان تحریک انصاف  غیر مشروط طور سے اور پیپلز پارٹی  سینیٹ میں دوسری پڑی پارٹی ہونے کے باوجود ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر راضی ہو کر عبدالقدوس بزنجو کے ایجنڈے پر متفق ہوگئی۔ حالانکہ وہ مسلم لیگ (ن)  کی حمایت کے بعد تجربہ کار اور وسیع تر احترام کے حامل سینیٹر رضا ربانی کو بھاری اکثریت سے چیئر مین بنوا سکتی تھی۔ لیکن اس طرح کا کوئی فیصلہ کسی سیاسی اصول کی بنیاد پر ہوتا اور یہ اصول   فوج کو خوش رکھ کر سیاسی اہمیت حاصل کرنے کی خواہش سے متصادم ہوتا۔ آصف زرداری کو لگا کہ اس طرح رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین تو بن جائیں گے لیکن بلوچستان اسمبلی میں ’بغاوت‘ کے ذریعے جو بساط سجائی گئی تھی،  پیپلز پارٹی اگر اس میں مات کا سبب بنی تو اسے اگلے انتخاب  کے بعد اقتدار میں حصہ لینے  میں دشواری ہوسکتی ہے۔

آصف زرداری جس سیاسی حکمت عملی کے تحت  بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی کارکنوں کے ساتھ مل کر عوام دوست ایجنڈے کے لئے عوامی رابطہ مہم سے روکا تھا، اس کے نتیجے میں ایک ایسی کمزور پارلیمنٹ وجود میں آئے گی کہ پیپلز پارٹی ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مانگے تانگے کی حمایت کے ذریعے ہی  چند نشستیں جیت سکے گی ۔ اس طرح توقع کی جارہی ہے کہ  وفاقی حکومت میں پیپلز پارٹی کو شراکت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس قسم کی سیاست میں کوئی ہرج نہیں ہے  ۔ پاکستان میں پارلیمانی سیاسی تاریخ میں  ایسی سیاسی طوائف الملوکی  کی بے شمار مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن  اس سیاست کا ہی نتیجہ ہے کہ آج فوج طاقتور اور حکومت کمزور ہے۔ جو ادارے سیاسی عمل کو نقصان پہنچانے اور جمہوری روایت کو تاراج کرنے میں سرگرم رہے ہیں ، انہی سے جمہوریت کے تحفظ کی ضمانت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے یا انہیں جمہوریت کا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  ایسی سیاست کرنے کے بعد آصف زرداری ہو سکتا ہے کہ  2018 کے انتخاب کے بعد پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت بنوانے میں کامیاب ہو جائیں یا کسی مخلوط حکومت کا حصہ بن کر خود کو بادشاہ گر کہلوا لیں۔ لیکن اس قسم کے سیاسی کھیل سے جمہوریت مضبوط نہیں، کمزور ہوگی۔ وہی ادارے مضبوط  ہوں گے اور حکومت کی رہنمائی کریں گے جو جمہوریت کے راستے میں کانٹے بچھاتے رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کو اگر  پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو انہیں جمہوی سیاست بھی کرنا ہوگی اور اصولوں پر واضح مؤقف بھی اختیار کرنا پڑے گا۔ پھر خواہ ان کے راستے میں ان کا باپ ہو یا کوئی اور، وہ جمہوریت کی کامیابی کے لئے درپردہ جوڑ توڑ اور افہام و تفہیم کی سیاست کو قبول کرنے سے انکار کریں گے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے نتیجے میں بلاول بھٹو زرداری  پیپلز پارٹی کو  فوری طور پر بڑی سیاسی  کامیابی نہ دلوا سکیں لیکن اس راستے پر گامزن ہونے کے بعد وہ پارٹی کا مستقبل محفوظ کرسکیں گے اور یہ واضح کرسکیں گے کہ وہ نوجوان نسل کے نمائیندے کی حیثیت سے ایسے کسی سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے جو  ملک میں جمہوریت کو کمزور اور سیاست دانوں کو بے توقیرکرنے کا سبب بنتی ہے۔  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے جوڈیشل ایکٹو ازم کا گلہ کرنے اور اسے جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دینے سے پہلے سیاست دانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ خود کس حد تک  ملک میں جمہوری روایت کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

شخصی لڑائیوں کو جمہوریت اور سیاست قرار دینے سے  نہ عوام کے مفادات محفوظ ہوں گے اور نہ ہی جمہوری روایت جڑ پکڑ سکے گی۔ جمہوریت میں کسی بات کی صرف اس لئے مخالفت یا حمایت نہیں کی جاتی کہ وہ کس نے کہی ہے بلکہ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ عوام کے حق حاکمیت کے لئے درست مؤقف ہے یا نہیں ۔ آج اگر نواز شریف سیاسی عمل میں اداروں کی مداخلت کے خلاف بات کرتے ہیں تو ان کے ماضی یا ذاتی کردار پر بحث سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہوگی کہ کیا یہ  مؤقف عوام کے نمائیندوں  پر مشتمل پارلیمنٹ  کو طاقتور بنا سکتا ہے یا نہیں۔ نواز شریف کا راستہ اس وقت کھوٹا کرنا ضروری ہوگا جب وہ  پارلیمنٹ کی خود مختاری کی بجائے اس کی محتاجی کا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کریں یا اس مقصد کے  لئے سیاست کریں۔ اگر وزیر اعظم کے طور پر ان کے فوج کے سربراہان سے  وزیر اعظم کو بااختیار بنانے کے سوال پر اختلافات پیدا ہوتے رہے ہیں تو اس  رویہ کو مسترد کرنے کی بجائے یہ یقینی بنانا چاہئے کہ مستقبل کا کوئی وزیر اعظم نہ صرف اپنا اختیار اور پارلیمنٹ کا فیصلے کرنے کا حق  تسلیم کروانے کی کوشش ہی نہ کرے بلکہ جو قوتیں اس کا راستہ روکتی ہیں ان کا اعلان پارلیمنٹ کے فلور سے کرنے کا حوصلہ بھی کرسکے۔

اگر ماضی میں کسی وزیر اعظم نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سیاسی جلسوں میں ذو معنی لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں پر تنقید کرنے کی بجائے، حکومت میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر سچ بولنے  کا حوصلہ کیا ہوتا تو آج  نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری جہوریت کو لاحق خطروں کی بات نہ کررہے ہوتے۔ جمہوریت کی حفاظت سیاست دانوں کو ہی کرنی ہے اور اس مقصد کے لئے انہیں  خود جمہوریت پر ایمان لانا ہوگا۔