امن کے اشاریے یا پریشان کن صورت

نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اس وقت اپنے اہل خاندان کے ہمراہ چار روز کے مختصر دورہ پر پاکستان آئی ہوئی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے اور وزیر اعظم ہاؤس میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھ سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر پاکستان کی سرزمین پر واپس آسکی ہیں۔ وزیر اعظم نے بھی ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک بیٹی کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملالہ کو سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی لئے ملالہ کی آمد کو آخری لمحہ تک خفیہ رکھا گیا اور ان کا جہاز اسلام آباد میں لینڈ کرنے سے چند گھنٹے پہلے ہی اس خبر کو عام کیا گیا تھا۔ ملالہ یوسف زئی کا باقی دنوں کا پروگرام بھی صیغہ راز میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ ان دنوں میں وہ کیا کریں گی اور کن تقریبات میں شریک ہوں گی۔ اور کیا وہ  سوات میں اپنے گھر کا دورہ کرسکیں گی جسے وہ آج بھی یاد کرتی ہیں اور یہ امید کرتی ہیں کہ ایک دن وہ پاکستان واپس آکر اپنے عوام کی خدمت کرسکیں گی اور خواتین کے حقوق اور  بطور خاص بچیوں کی تعلیم کے لئے اپنے خوابوں کی تکمیل کریں گی۔  ملالہ کی وطن واپسی اگرچہ  ملک میں سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کی طرف ایک مثبت اشاریہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی  اس دورہ سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا پاکستان میں حالات معمول پر آچکے ہیں۔  ملالہ کو پاکستان واپس بلانے کا اہتمام کرنے کے باوجود حکومت یہ دعویٰ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔  ملالہ کی واپسی پر ملک کا ایک طبقہ خوشی اور فخر کا اظہار کررہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان  لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے  جو ملالہ کو  ملک دشمن اور مغربی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دینے میں دیر نہیں کرتے۔

اگر ملالہ کے حوالے سے  ملک کی تقسیم شدہ رائے کو ملک میں سیکورٹی کی صورت حال، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی طرف میلان کے لئے ایک پیمانے کے طور پر استعمال کیا جائے تو نہایت پریشان کن  تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر ان تمام عوامل کی نشاندہی کرتی ہے جو ملک میں تشدد اور دہشت گردی کے فروغ کا سبب بنے ہیں۔ اور  جن کا مقابلہ کرنے کے لئے پاک فوج گزشتہ چار برس سے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف برسر پیکار ہے لیکن اس کے باوجود اسے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔  اگرچہ پاک فوج کی جد و جہد اور قربانیوں کی توصیف لازم ہے لیکن دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی جنگ کے ساتھ مزاج سازی اور انتہا پسندی سے اجتناب اور مذہبی شدت پسندی کی روک تھام کے لئے جو کام  ہونا چاہئے تھا، وہ اس طرح دیکھنے میں نہیں آیا جس کی توقع دسمبر 2014  میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد  کی جارہی تھی۔ اس موقع پر ایک طرف فوج نے سنجیدگی سے قبائیلی علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کے لئے کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں اب بیشتر علاقوں پر حکومت پاکستان کی عمل داری قائم ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے امن کی مکمل بحالی نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ یہ علاقے عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہیں اور فوج کی مدد اور رہنمائی کے بغیر وہاں کا سفر کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ 

آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد  فوج کے مشورہ سے تمام سیاسی جماعتوں نے اکیسویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا تھا جس میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور اس راہ پر چلنے والوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے  فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔  ایک سول انتظام میں جہاں پارلیمنٹ کام کررہی ہے اور عدالتیں خود مختار ہونے کے علاوہ ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کرتی ہیں، یہ انتظام جمہوری روایت اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔ لیکن سیاست دانوں کے علاوہ عدالتوں نے بھی اسے دہشت گردی جیسے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ضروری قرار دیا۔  فوجی عدالتوں کے ذریعے چند سو دہشت گردوں کو پھانسی دینے کے باوجود ملک میں دہشت گردی اور تشدد کے خلاف وہ رائے ہموار نہیں ہوسکی جس کی توقع کی جارہی تھی۔ اسی لئے چار سال بیت جانے کے باوجود اب بھی فوجی عدالتیں کام کررہی ہیں اور ملک کے عام نظام قانون کے  مقابلے پر کام کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سزائیں دے رہی ہیں۔ اگر اسی کو دہشت گردی کے خلاف کامیابی کہا جائے گا تو یہ سراب کے پیچھے بھاگنے کے مترادف ہوگا۔

اکیسویں آئینی ترمیم کا سب سے اہم پہلو 20 نکات پر مبنی قومی ایکشن پلان تھا۔ اس منصوبہ کے تحت بنیادی طور پر مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا مطلوب تھا۔ لیکن یہ مقصد پوری طرح حاصل نہیں کیا جاسکا۔ بلکہ کسی حد تک ملک میں فرقہ واریت اور مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر نفرت اور تشدد کے چلن میں اضافہ ہؤا ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت مدرسوں کی اصلاح، نصاب کی تصحیح  اور مساجد اور اجتماعات میں فرقہ واریت پرمبنی تقاریر کی روک تھام کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ملک کی وزارت داخلہ ہر تھوڑے عرصہ کے بعد ایسی فہرستیں جاری کرتی ہے جن میں بتایا جاتا ہے کہ کتنے سو یا ہزار  لوگوں کو  فرقہ واریت یا تشدد کی تبلیغ کرنے  پر پابند سلاسل کیا گیا یا ان کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں لیکن اسے کاغذی کارروائی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ کیوں کہ قومی ایکشن پلان کا بنیادی مقصد لوگوں کو گرفتار کرنا اور خوفزدہ کرنا نہیں تھا بلکہ انہیں خوف کی فضا سے نجات دلانا تھا۔

بدنصیبی سے یہ کام نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ اس کے لئے  ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں باہمی احترام اور قوت برداشت کے مزاج کو عام کرنے کی کوششیں کرنے کے علاوہ مذہب کی بنیاد  پر سیاست  کی روک تھام ضروری تھی۔ لیکن یہ  بات عام مشاہدے میں آتی ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں ہوں یا فوجی ادارے ، وہ اپنے اپنے طور پر ایسی جماعتوں اور گروہوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ملک میں مذہبی تفرقہ اور تشدد کا پرچار کرتے ہیں۔ بلکہ عملی طور پر بھی قتل و غارتگری میں ملوث رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابی کامیابی کے لئے ایسے عناصر کی  ضرورت رہتی ہے جبکہ فوج ایسے بعض گروہوں کو  دشمن کے خلاف اپنا ’اثاثہ ‘ سمجھتے ہوئے ان کی حفاظت کرنا چاہتی ہے۔ اسی معاملہ پر وزیر اعظم ہاؤس میں سوال اٹھانے پر ڈان لیکس کے نام سے ایک ہمہ گیر بحران سامنے آیا تھا جس میں فوج نے سول حکومت کی نیت اور طریقہ کار کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا۔ اور اسی معاملہ کو بنیاد بنا کر بھارت دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دلوانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے  وہائٹ ہاؤس میں ایک سخت مزاج اور بھارت نواز صدر کے آنے کے بعد  مذہبی گروہوں کے خلاف بعض نیم دلانہ اقدام ضرور کئے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستانی عوام یا دنیا کو یہ پیغام نہیں دیا جاسکا ہے کہ ملک کا انتظام کسی ایسے گروہ کو قبول نہیں کرے گا  جو مذہبی تفرقہ میں ملوث ہے یا ہمسایہ ملکوں میں دہشت گردی اور جنگ جوئی کی سرپرستی کرتا ہے یا  اس  میں ملوث رہا ہے۔

ان حالات میں ملک میں سپر لیگ کا انعقاد ہو یا ملالہ یوسفزئی کی پاکستان  واپسی کا حوصلہ افزا  وقوعہ، اسے  دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں کامیابی قرار دینے کے باوجود یہ  کہنا مشکل ہے کہ ملک میں امن بحال ہوچکا ہے۔ ملالہ نے وزیر اعظم ہاؤس میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان واپسی کو اپنے خواب کی تکمیل قرار دیا ہے لیکن  دنیا بھر میں ایک باہمت  قوم کے طور پر پاکستان کا نام سربلند کرنے والی یہ بہادر لڑکی بھی دل میں ضرور ملول ہوگی کہ نہ وہ شہر کی گلیوں میں آزادی سے گھوم سکتی ہے اور نہ عام لوگوں سے کسی رکاوٹ کے بغیر مل سکتی ہے۔ ملالہ اپنی  عالمی حیثیت اور شہرت کی وجہ سے بطور خاص ٹارگٹ ہو سکتی ہے لیکن اس ملک کے عام سیاست دان یا نمایاں حیثیت رکھنے والے لوگ بھی  سیکورٹی اور ہائی الرٹ کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے۔ جب تک اسلحہ بردار محافظوں  کے بغیر  ہر خاص و عام کی نقل و حرکت ممکن نہیں ہوگی، اس وقت تک   پاکستان کو پر امن معاشرہ کہنا ممکن نہیں ہوگا۔ اور یہ کام صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب ملالہ   پر فخر کرنے والے یا اس کی مخالفت کرنے والے لوگ  اس نکتہ پر متفق ہو سکیں گے کہ اختلاف جمہوریت کا حسن اور بنیادی انسانی حق ہے۔ لیکن  مختلف رائے کا جواب دینے کے لئے دلیل اور شواہد کی بنیاد پر بات کرکے ہی کسی معاشرہ کو مہذب  بنایا جا سکتا ہے۔ جب تک اختلاف کا جواب پتھر، گولی یا دھمکی سے دیا جاتا رہے گا، ملالہ  اپنے وطن واپس آکر بھی سیکورٹی میں محصور  رہے گی اور وزیر اعظم کو صرف پرائم منسٹر ہاؤس کی محفوظ دیواروں کے  پیچھے ہی اس کا استقبال کرتے ہوئے نامکمل خوشی کو مکمل کامیابی سے تعبیر کرنا پڑے گا۔

پاک فوج کےترجمان  میجر جنرل آصف غفور نے کل پریس کانفرنس کے دوران  اس بات  کا کریڈٹ  لیا کہ اس بار کامیابی سے پاکستان سپر لیگ کے چند میچ پاکستان میں منعقد کروائے جاسکے اور کراچی میں فائینل کا انعقاد ملکی سیکورٹی اداروں کی شاندار فتح ہے۔  انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ آئیندہ مزید شہروں میں بھی سپر لیگ کے میچ منعقد کروائے جائیں گے۔ تاہم سپر لیگ کے فائینل کے لئے جس طرح کراچی کو قلعہ بنایا گیا تھا یا ملالہ کی آمد پر جس طرح سیکورٹی کا اہتمام  کیا گیا ہے، اسے سیکورٹی کی کامیابی تو کہا جاسکتا ہے لیکن امن کی بحالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔  پاکستان  کے شہریوں کو سنگینوں کے پہروں سے نکالنے اور عام زندگی گزارنے کا حق دلوانا اس وقت حکومت اور فوج کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔  جب تک فوجی دستے  شہروں کی سڑکوں پر موجود ہیں اور  گھر سے باہر قدم اٹھانے کے لئے  سیکورٹی کلیرنس  ضروری ہے ، اس وقت تک پاکستان غیر معمولی حالات کا شکار سمجھا جائے گا۔ کیا ملک کے اہم ترین اداروں کو اپنی کامیابیوں کا اعلان کرتے ہوئے ان ناکامیوں کا ادراک ہے۔