حکومت اور عدالت مل کر مسائل حل کریں گے

ملک کے وزیر اعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے  جسٹس ثاقب نثار کو یقین دلایا  ہے کہ  عوامی بہبود کے بارے میں  ان کے نظریہ کی تکمیل کے لئے حکومت سپریم کورٹ سے مکمل تعاون کرے گی۔ اور  سپریم کورٹ کے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ عدالتیں بے خوفی اور خود مختاری سے انصاف فراہم کرتی رہیں گی۔ وزیر اعظم ہاؤس اور سپریم  کورٹ اسے معمول کا واقعہ کہیں گے لیکن کیا یہ واقعی معمول کی بات ہے کہ  ایک ایسا وزیر اعظم جو چند ہفتے پہلے پارلیمنٹ میں یہ اعلان کررہا تھا کہ عدالتوں کے دائرہ کار اور اختیار کے بارے میں ایوان میں کھل کر بات ہونی چاہئے اور جس کی حکومت اور پارٹی سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی تگ و دو کرتی  رہی ہے ، اب اسی چیف جسٹس سے مل کر  ان کے ’ نظریہ ‘   کے مطابق قومی بہبود کے  مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروانا ضروری سمجھتا ہے۔  اس حیرت انگیز وقوعہ میں اگر اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ عدالتوں پر تنقید کرنے والے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے چند روز سے اپنے تیر ترکش میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو دوبارہ توہین عدالت پر طلب کرنے کے بعد با لآخر ان کی معافی منظور کرلی گئی ہے۔ حالانکہ چیف جسٹس  قید سے رہائی کے بعد ان کی  دشنام طرازی سے اس قدر نالاں تھے کہ انہیں ’نشان عبرت‘ بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ پھر اچانک کسی فرشتے نے ان کے کان میں کہا کہ وکیلوں کے مشورہ پر معافی ہی بہتر حل ہے۔

واضح رہے یہ ملاقات صرف ایک وزیر اعظم اورچیف جسٹس کے درمیان حادثاتی یا کسی تقریب کے حوالے سے ہونے والی ملاقات نہیں ہے۔  نہ ہی یہ معمول کے حالات میں دو اداروں کے درمیان  تبادلہ خیال کی کسی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ شام پانچ بجے تک کسی کو اس ملاقات کے بارے میں علم نہیں تھا۔ پھر اچانک وزیر اعظم معمول کے پروٹوکول کے بغیر سپریم کورٹ کی عمارت پہنچے اور دروازے پر چیف جسٹس نے ان کا بڑھ کر استقبال کیا ۔ پھر دو گھنٹے تک دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے فرائض بخوبی ادا کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے۔ وزیر اعظم نے عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے سپریم کورٹ کو  حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا تو دوسری طرف چیف جسٹس نے  ریونیو کورٹس میں مقدمات کی جلد سماعت کی یقین دہانی کروائی تاکہ ایف بی آر کی پریشانیاں دور ہو سکیں۔  سپریم کورٹ ہی کی جاری کردہ پریس ریلیز  کے متن سے تو یوں لگتا ہے کہ   یہ ملاقات لین دین کا کوئی معاہدہ تھا جس میں دونوں ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور دست تعاون بڑھانے کا اعلان کررہے تھے۔

یہ ہرگز معمول کی صورت حال نہیں ہے۔ یہ ملاقات جس طرح اور جن حالات میں ہوئی ہے، وہ مشکوک  اور قابل اعتراض ہیں۔ ملک میں انصاف کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ کا انتظامیہ کے سربراہ سے پراسرار انداز میں اچانک ملنا اور اس ملاقات کے بارے میں پریس ریلیز کے ذریعے معلومات فراہم کرنا، ناقابل فہم اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔ جو  ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا۔ چیف جسٹس خود میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کی لذت سے آشنا ہو چکے ہیں اور اپنی تقریروں اور ریمارکس کے ذریعے  اپنے ارشادات عالیہ اور اقوال زریں عوام  تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ اس لئے یہ امید کرنی چاہئے کہ چیف جسٹس ان تباہ کاریوں سے بھی آگاہ ہوں گے جو میڈیا کے ذریعے نازل ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کرنے اور معاملات پر بات کرنے کی ضرورت محسوس کی۔

یہ وہی عدالت ہے جو  نواز شریف کو دو مرتبہ نااہل قرار دے کر ان کا سیاسی مستقبل ختم کرنے کا اعلان کرچکی ہے اور  ابھی تک اس نے اس اہم مقدمہ کا فیصلہ سناناہے جس میں  آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل ہونے والے سیاست دانوں کی  نااہلی کی مدت کا تعین کیا جائے گا۔ اس مقدمہ  کی سماعت چند ہفتے قبل مکمل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک فیصلہ سامنے نہیں آیا۔  اسی طرح نہال ہاشمی کے علاوہ  شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے دو وزیروں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات کی سماعت بھی سپریم کورٹ ہی کررہی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ہی جج جسٹس اعجاز الحسن  نیب عدالت میں نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کے خلاف کرپشن  کے الزامات میں دائر مقدمات کی سماعت بھی کر رہے ہیں۔  اب اسی عدالت کے چیف جسٹس   نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات  کی ہے جو بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ عدالتیں جو بھی کہیں یا فیصلہ جو بھی ہو، مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور فیصلہ ساز نواز شریف ہیں  اور اگر انہیں جیل بھی بھیج دیا گیا تو  وہ وہاں سے بھی پارٹی معاملات طے کریں گے۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے وزیر اعظم ہاؤس کی بجائے جاتی عمرہ میں ہوتے ہیں اور موقع بے موقع وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود نواز شریف کے دربار میں حاضری دینے پہنچتے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ کا مؤقف ہے کہ نواز شریف کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ پارٹی یا حکومت کے بارے میں کسی قسم کا کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔  یہ سوچنا محال ہوگا کہ چیف جسٹس نے اس تضاد کے بارے میں وزیر اعظم سے استفسار کیا ہو گا کہ وہ دراصل سپریم  کورٹ کے ساتھ ہیں  یا نواز شریف کے سپاہی ہیں۔

اس کے باوجود ملک کے غیر یقینی حالات میں اور افواہ سازی کے ماحول میں جب چیف جسٹس  ایک ایسے وزیر اعظم سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں جو دو ماہ بعد مستعفی ہونے والا ہے تو اس ملاقات کا ایجنڈا نہ تو خیر سگالی ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہ یقین دہانی حاصل کرنا کہ حکومت  چیف جسٹس کے ’ویژن‘ کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبہ میں مسائل حل کرنے کے لئے وسائل فراہم کرے گی۔  یاوش بخیر یہ وعدہ  ایک ایسے وزیر اعظم کررہے ہیں جن کے رہبر اعلیٰ نواز شریف نے آج ہی کہا ہے کہ وہ  کسی ایمپائر کی انگلی یاکسی اشارے پر نہیں بلکہ انگوٹھے کی طاقت پر یقین  رکھتے ہیں۔  یعنی ملک کا ووٹر جو فیصلہ کرے گا وہ اسی کے مطابق  اقدام کریں گے۔ اب یا تو مسلم لیگ (ن) کا یہ  نعرہ جھوٹ پر مبنی ہے کہ ’ووٹ کو عزت دو‘  اور نواز شریف دراصل اشاروں کے انتظار میں ہی  ووٹ کو حتمی فیصلہ کن قوت قرار دینے کے اعلانات کرتے رہے ہیں۔ کیا  وزیر اعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات  وہی اشارہ ہے جس کا نواز شریف انتظار کررہے تھے۔ کیا یہ قیاس آرائیاں درست ثابت ہو نے والی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر حرف تنقید ارزاں کرتے ہوئے  درپردہ  مصالحت اور افہام و تفہیم کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ یہ کوششیں ایک طرف فوج کو راضی کرنے کے لئے ہو رہی ہیں اور دوسری طرف عدالتوں کو رام کرنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔  اس تناظر میں اگر نواز شریف کی طرف سے میمو گیٹ  کیس کے حوالے سے آج سامنے آنے والے اعتراف کو  پرکھا جائے تو درپردہ  مصالحت کے لئے ہونے والی کوششوں کا ایک یہ رخ بھی سامنے آتا ہے کہ اب نواز شریف بعض غلطیاں مان کر آصف زرداری کو راضی کرنے کی کوششیں بھی تیز کررہے ہیں۔ اگر طاقت کے اہم مراکز فوج اور سپریم کورٹ کی طرف سے  ’مثبت اشارے‘ سامنے آئے تو   مسلم لیگ (ن) کو  نیچا دکھانے کے لئے چند ہفتے پہلے ہی سینیٹ کی چیئرمین شپ سے ہاتھ دھونے کے باوجود آصف زرداری کے پاس مفاہمت کے سوا کیا  چارہ  رہ جائے گا۔ 

موجودہ صورت حال میں بے شمار سوالات ہیں لیکن ان کا جواب صرف آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔ تاہم جن اشاروں  کے ذریعے یہ جواب مرتب ہو رہا ہے ، وہ  اطمیمان بخش نہیں ہیں اور نہ ہی ملک میں شفاف جمہوری یا کھرے عدالتی نظام کی نوید دیتے ہیں۔ یہ اشارے صرف یہ بتاتے  ہیں کہ ملکی سیاست اور انتظام میں ملوث سب اداکار اصول  کو سربلند رکھنے کی بجائے معاملات  کو ’بریکنگ پوائنٹ‘ تک پہنچنے سے پہلے ہی درست کر لینے  پر یقین رکھتے ہیں۔ کیا یہ اشارے ملک میں حقیقی تبدیلی کے امکانات کو مسدود کرنے کا پیغام ہیں۔  اس بارے میں کوئی قیاس یا اندازہ قائم کرنا،  ممکن اور مناسب نہیں ہے۔ لیکن اگر ملک کے سابق وزیر قانون اور تجربہ کا ر قانون دان اور سیاست دان ایس ایم ظفر کا حال ہی میں سامنے آنے والا یہ تبصرہ سامنے رکھا جائے تو  بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ ‘چیف جسٹس بھی اب حالات کی سنگینی کو سمجھنے لگے ہیں اور  وہ کرپشن کی بجائے عوامی بہبود کے معاملات  پر فوکس کررہے ہیں‘۔ 

پھر اس میں حیرت کی کیا بات ہے کہ وزیر اعظم عباسی نے عوامی مفاد  کے معاملات میں چیف جسٹس کے نظریہ کی توصیف کی ہے اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔